Saturday, 11 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Meri Subh Lota Do

Meri Subh Lota Do

میری صبح لوٹا دو

مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ زندگی کی بڑی تبدیلیاں بڑے فیصلوں سے آتی ہیں۔ آدمی ایک دن اچانک اٹھتا ہے، شہر بدل دیتا ہے، نوکری چھوڑ دیتا ہے، کاروبار شروع کر دیتا ہے، یا کسی سے رشتہ توڑ کر نئی دنیا بسا لیتا ہے۔ لیکن وقت نے آہستہ آہستہ سکھایا کہ زندگی کی اصل اینٹیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ اتنی چھوٹی کہ ہم اکثر انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وقت پر سونا، صبح جلدی جاگنا، چند لمحے اپنے ساتھ بیٹھنا۔

میں نے اپنے اردگرد دو طرح کے لوگ دیکھے ہیں۔ ایک وہ جو سارا دن مصروف رہتے ہیں مگر شام کو ان کے چہرے پر ایسی تھکن ہوتی ہے جیسے وہ زندگی جی نہیں رہے، کوئی بوجھ ڈھو رہے ہیں۔ دوسرے وہ جو بظاہر کم شور میں جیتے ہیں لیکن ان کے کام میں برکت ہوتی ہے، بات میں وزن ہوتا ہے اور آنکھ میں وہ ٹھہرا ہوا نور ہوتا ہے جو اندر کی ترتیب اور نظم و ضبط سے پیدا ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں میں یہ فرق صرف صبح کے پہلے ایک گھنٹے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ہمارے دیہاتوں میں صبح کبھی صرف صبح نہیں رہی۔ دیہات میں کسان اس وقت کھیت کی مٹی دیکھتا تھا، شہر میں مزدور اپنے اوزار سمیٹتا تھا، اماں جی اسی وقت آٹا گوندھتی تھی، دادی اسی پہر تسبیح پر انگلیاں پھیرتی تھیں۔ یہ گھڑی ہمارے تہذیبی حافظے میں محنت، دعا اور برکت کی گھڑی رہی ہے۔ پھر نہ جانے کب ہم نے رات کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لیا۔ دیر تک جگمگاتی اسکرینیں، بے معنی گفتگو، فضول خبریں اور پھر ایسی نیند جو سوتی کم ہے، آدمی کو توڑتی زیادہ ہے۔ صبح ہمارے ہاتھ سے یوں نکلی جیسے بچے کے ہاتھ سے پتنگ کی ڈور نکلتی ہے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی کہ ساتھ کیا کچھ اڑ گیا۔

ایک بار ملتان کے نشتر اسپتال میں ایک ڈاکٹر دوست سے بات ہو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تھے، جیب میں فون مسلسل بج رہا تھا اور زبان پر ایک ہی فقرہ تھا، وقت نہیں ہے۔ میں نے اس سے پوچھا، وقت نہیں ہے یا توجہ نہیں ہے؟ وہ ہنس پڑا، پھر خاموش ہوگیا۔ یہ سوال میں نے اس سے کم، خود سے زیادہ پوچھا تھا۔ ہم میں سے بیشتر کے پاس وقت کی کمی نہیں، بکھراؤ کی زیادتی ہے۔ آدمی ایک دن میں جسمانی مشقت سے کم، ذہنی چھینا جھپٹی سے زیادہ تھکتا ہے۔ ذرا فون دیکھ لیا، ذرا یہ جواب دے دیا، ذرا وہ ویڈیو دیکھ لی، ذرا یہ فکر اٹھا لی۔ شام تک روح کا آنگن میلے کے بعد کے میدان جیسا ہو جاتا ہے، کاغذ اڑ رہے ہوتے ہیں، مٹی پڑی ہوتی ہے اور آدمی سمجھتا ہے وہ بہت کام کر آیا ہے۔

صبح کی تنہائی اس بکھراؤ کا علاج ہے۔ اس وقت دنیا ابھی آپ سے کچھ نہیں مانگتی۔ نہ دفتر نے دروازہ کھٹکھٹایا ہوتا ہے، نہ بازار نے، نہ لوگوں کی توقعات نے۔ اس خاموشی میں آدمی اگر اپنے دل کے پاس بیٹھ جائے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل شور باہر نہیں، اندر ہے اور جب یہ شور سنائی دینے لگے تو پھر اسے کم کرنا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

میں نے اپنے لیے ایک چھوٹا سا اصول بنایا تھا۔ جاگتے ہی دنیا سے نہیں، پہلے اپنے آپ سے ملنا ہے۔ پہلے بدن کو جگانا ہے، پھر دل کو، پھر دماغ کو۔ چند منٹ تیز قدموں سے چل لو، سانس کھل جاتی ہے۔ تھوڑی دیر عبادت میں گزار لو، بہت سے الجھے خیالات سلجھ جاتے ہیں، پھر کچھ پڑھ لو، دو صفحے ہی سہی۔ یہ معمول سننے میں معمولی لگتا ہے، لیکن روز روز کی یہی معمولی چیزیں انسان کی پیشانی پر وقار لکھتی ہیں۔

ہم غلطی یہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی ساری توجہ ذہن پر رکھتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں ہمارے خیالات اچھے ہو جائیں، ہمارے فیصلے عمدہ ہو جائیں، ہم کامیاب نظر آنے لگیں۔ لیکن انسان صرف ذہن نہیں ہوتا۔ اس کے اندر ایک جسم بھی ہے جو اپنے حصے کی بے اعتنائی کا بدلہ سستی، بیماری اور چڑچڑے پن سے لیتا ہے۔ ایک دل بھی ہے جس میں دبے ہوئے دکھ، بول نہ سکنے والی ناراضگیاں اور برسوں کی تھکن جمع ہوتی رہتی ہے اور ایک روح بھی ہے جو اکثر رزق کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔ آدمی کی مرمت ایک ہی کمرے میں نہیں ہوتی، پورا مکان سنبھالنا پڑتا ہے۔

کتنے ہی لوگ ہیں جو بڑے عہدوں پر ہیں مگر اندر سے بکھرے ہوئے ہیں۔ بات کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے برسوں سے اپنے آپ سے نہیں ملے۔ کتنی ہی عورتیں ہیں جو پورا گھر سنبھال لیتی ہیں مگر خود کو سنبھالنے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں، کتنے ہی نوجوان ہیں جو خواب رکھتے ہیں مگر عادتیں ان کی دشمن بنی ہوئی ہیں۔ ہم سب کے اندر ایک بہتر آدمی رہتا ہے، مگر اس تک پہنچنے کے راستے پر سب سے پہلی شرط یہی ہے کہ آدمی اپنے دن کے آغاز کو بے آسرا نہ چھوڑے۔

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہماری زندگیوں کے بڑے مسئلے بہت فلسفیانہ نہیں۔ ہم تھکے ہوئے ہیں، بکھرے ہوئے ہیں، بلاوجہ الجھے ہوئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ہمیں کوئی بہت بڑا نسخہ چاہیے، حالانکہ اکثر ہمیں صرف صبح کا ایسا گھنٹہ چاہیے ہوتا ہے۔ جس میں ہم کسی اور کی خبر سے پہلے اپنی خبر لیں۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں اصل امیری وہ نہیں جو بڑی گاڑی میں پھرتی ہے، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتی ہے۔ جو جانتی ہے کہ بستر کی مٹھاس پر فتح، دن کی آدھی جنگ جیت لیتی ہے۔ کل صبح جب اذان ہو اور دنیا ابھی اونگھ رہی ہو، ذرا ایک بار اپنے آپ کو جگا کر دیکھیں۔ چھت پر آ جائیں، صحن میں آ جائیں، گلی میں دو قدم چل لیں، جائے نماز پر بیٹھ جائیں، یا بس خاموشی سے آسمان کو دیکھیں۔ ممکن ہے پہلی صبح کچھ نہ ہو۔ دوسری پر بھی شاید دل نہ مانے۔ مگر ایک دن آپ محسوس کریں گے کہ صبح نے آپ کو اٹھایا نہیں، آپ کو واپس کیا ہے۔ آپ کو آپ سے ملا دیا ہے۔

اور آدمی کو اگر اپنا آپ مل جائے، پھر دنیا کی بڑھی مشکلیں خود بخود چھوٹی ہو جاتی ہیں۔

Check Also

Chamatkar Kaise Dikhaya?

By Arif Anis Malik