Shohrat Ki Hawas Aur Ikhlaqi Inhetat
شہرت کی ہوس اور اخلاقی انحطاط

یہ خبر سوشل میڈیا پر کئی بار سامنے آئی کہ کسی پاکستانی ماڈل اور اداکارہ کے مختصر اور بولڈ لباس پر عوامی تنقید ہوئی تو اس نے شرمندگی یا اصلاح کے بجائے ردِعمل میں مختصر لباس میں مزید ایسی ہی بے ہودہ تصاویر شیئر کر دیں۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ کس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ جہاں بے ہودگی پر نادم ہونے کے بجائے اسے فخر اور "آزادی" کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ عوام چونکہ اسی معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے وہ معاشرتی و اخلاقی معیار سے گری ہوئی حرکات پر تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن اصل افسوس اس رویے پر ہے جو اصلاح کے بجائے مزید پستی کی طرف مائل نظر آتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک اداکارہ تک محدود نہیں، بلکہ آج کل یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ جتنی زیادہ بے ہودگی دکھائی جائے گی، اتنی ہی زیادہ شہرت ملے گی۔ شوبز کی دنیا تو ایک طرف، اب تو پورا سوشل میڈیا اس وبا کی لپیٹ میں ہے۔ شہرت اور "ویوز" کی ہوس میں بہت سے لوگ باؤلا ہوئے پڑے ہیں۔ جہاں مرد وائرل ہونے کے لیے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہے ہیں، وہیں بہت سی خواتین اخلاقی حدود کو پسِ پشت ڈال کر نیم عریاں لباس اور نازیبا حرکات کے ذریعے سستی شہرت حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ ایسی حرکات دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے خاندانی وقار کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔
ایک مسلمان خاتون کے لیے خود کو نمائش کے لیے پیش کرنا اور بدنظری کا سبب بننا شریعت کی رو سے سنگین گناہ ہے۔ اسلام میں بازار، دفتر، میڈیا اور سوشل میڈیا ہر جگہ مرد کو نظریں نیچی رکھنے اور عورت کو حجاب و حیا کا حکم دیا گیا ہے۔ جو اس حکم سے روگردانی کرتا ہے، وہ اپنے رب کے حضور جوابدہ ہے۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کوئی خاتون کس طرح لاکھوں سوشل میڈیا کی نظروں کی تسکین کے لیے خود کو پیش کر سکتی ہے۔
اگر مذہبی حدود کو ایک طرف رکھ کر صرف سماجی اقدار کی بات کی جائے تو بھی ہر معاشرے کے کچھ طے شدہ ضابطے ہوتے ہیں۔ جو لباس یا طرزِ عمل مغرب میں شاید قابلِ قبول ہو، وہ پاکستان کے اسلامی اور روایتی معاشرے میں ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں تک کہ ایک مرد کا بھی نامناسب لباس میں کسی تقریب یا عوامی جگہ پر جانا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے تو پھر کسی خاتون کے لیے ایسے طرزِ عمل کو کیسے درست تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

