Samundari Toofan Bavi Se Qabal China Ki Bharpur Tyari
سمندری طوفان "باوی" سے قبل چین کی بھرپور تیاری

قدرتی آفات کا مقابلہ صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جب بروقت منصوبہ بندی، مضبوط انتظامی نظام اور عوامی تعاون ایک ساتھ کام کریں۔ چین کے مشرقی ساحلی علاقوں کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفان "باوی" نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی قدرتی خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کتنی اہم ہوتی ہے۔ طوفان کے ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی مختلف سرکاری ادارے متحرک ہو گئےہیں، خطرے سے دوچار علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہاہے اور سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات مزید مضبوط بنا دیے گئے ہیں۔
چین کی وزارتِ ہنگامی انتظام کے مطابق ریاستی ہیڈکوارٹر نے شنگھائی، جیانگ سو، آن ہوئی، جیانگ شی اور سیچوان سمیت متعدد علاقوں میں سیلاب اور طوفان سے نمٹنے کے لیے لیول فور ہنگامی ردِعمل نافذ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مقامی حکومتوں اور امدادی اداروں کو فوری کارروائی کے لیے مکمل طور پر متحرک رکھنا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق "باوی" رواں سال کا نواں سمندری طوفان ہے، جس کی اتوار کی صبح ژے جیانگ صوبے کے سانمین اور کانگ نان کے درمیان ساحل سے ٹکرانے کی توقع ہے۔ ہفتہ کی صبح اس کے مرکز کے قریب ہوا کی رفتار 42 میٹر فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی، جو اس کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ساحل سے ٹکرانے کے بعد طوفان شمال مغرب کی جانب بڑھے گا اور پھر اس کا رخ مزید شمال کی طرف ہو جائے گا۔ ممکنہ خطرات کے پیش نظر چین کے قومی محکمہ موسمیات نے بارشوں کے لیے سرخ اور طوفان کے لیے نارنجی انتباہ جاری کیا، جو انتباہی نظام کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پیش گوئی کے مطابق ژے جیانگ، شمالی فوجیان، شمال مشرقی جیانگ شی، جنوبی آنہوئی، بیجنگ اور حہ بے کے بعض علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں بارش کی مجموعی مقدار 250 سے 500 ملی میٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ وسطی اور شمالی تائیوان کے بعض حصوں میں یہ مقدار 800 ملی میٹر تک ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
طوفان کی آمد سے پہلے صرف موسمیاتی ادارے ہی نہیں بلکہ آبی وسائل، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ محکمے بھی پوری طرح سرگرم دکھائی دیئے۔ وزارتِ آبی وسائل نے ژے جیانگ اور فوجیان میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردِعمل کو مزید بلند سطح پر منتقل کر دیا ہےجبکہ شمال مشرقی صوبہ ہی لونگ جیانگ میں بھی احتیاطی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ دوسری جانب وزارتِ ٹرانسپورٹ کی جانب سے شدید بارشوں کے باعث اپنی اعلیٰ ترین ہنگامی کارروائیاں نافذ کرتے ہوئے سڑکوں، بندرگاہوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ زمینی سطح پر بھی حفاظتی اقدامات واضح طور پر نظر آئے۔ ژے جیانگ اور جیانگ سو کے ساحلی علاقوں میں سیکڑوں ماہی گیر کشتیوں سمیت محفوظ بندرگاہوں پر منتقل ہو گئے ہیں۔
شنگھائی، ژے جیانگ اور فوجیان میں عارضی پناہ گاہیں قائم کی گئیں ہیں جہاں بزرگوں، بچوں، مزدوروں اور دیگر متاثرہ افراد کو محفوظ رہائش، طبی سہولیات اور ضروری اشیائے خورونوش فراہم کی جا رہی ہیں۔ طبی عملہ پناہ گاہوں میں موجود لوگوں کا طبی معائنہ کر رہا ہے، جبکہ ہنگامی امدادی گاڑیاں اور نکاسیٔ آب کا سامان بھی پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ اسی دوران مختلف آبی ذخائر اور ڈیموں میں پانی کی سطح کو محفوظ حد تک رکھنے کے لیے پیشگی پانی خارج کیا جا رہا ہے تاکہ شدید بارشوں کی صورت میں اضافی پانی کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کیا جا سکے۔
ریت سے بھرے تھیلے، ہنگامی سامان اور امدادی ٹیمیں حساس مقامات پر پہلے ہی تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔ قدرتی آفات کو روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن بروقت منصوبہ بندی، جدید پیش گوئی، مضبوط ادارہ جاتی تعاون اور عوامی تحفظ کو ترجیح دے کر ان کے نقصانات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ سمندری طوفان "باوی" سے قبل چین کی یہ منظم تیاری اسی حکمتِ عملی کی ایک عملی مثال ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر ممکن حد تک انسانی جانوں اور عوامی املاک کا تحفظ یقینی بنانا۔

