Pakistanio, Mumlikat Ke Sath Khare Ho Jao
پاکستانیو، مملکت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وینزویلا پر امریکی جارحیت کے خلاف پاکستان کے واضح، بے خوف، محتاط اور اصولی مؤقف نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ نہ کسی عالمی طاقت کا غلام ہے اور نہ ہی اصولوں پر سودا کرنے والا ملک۔ پاکستان کے قائم مقام مندوب عثمان جدون کا بیان محض ایک سفارتی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ ریاستِ پاکستان کی خودداری، قانونی شعور اور بین الاقوامی ضابطوں سے وابستگی کا اعلان تھا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکا کی یکطرفہ فوجی کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بات کہنا آسان نہیں ہوتا، مگر پاکستان نے کہی اور پوری دنیا نے سنی۔ چونکہ وینزویلا کا معاملہ امریکا سے جڑا تھا، اس لیے کچھ حلقے خاموشی کو عقل مندی سمجھتے رہے، مگر پاکستان نے اس منافقت کو مسترد کیا، یہی ریاستی وقار ہوتا ہے۔ عثمان جدون نے خبردار کیا کہ ایسی جارحیت کیریبین خطے ہی نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا اسی نوعیت کا بیان اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان کسی تنہائی میں نہیں بلکہ حق اور قانون کے ساتھ کھڑا ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب عالمی سطح پر پاکستان کا نام وقار اور جرات کے ساتھ لیا جا رہا ہے، عین اسی وقت ملک کے اندر کچھ سیاسی اور غیر سیاسی عناصر حسبِ روایت ریاستِ پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے میں مصروف نظر آئے۔ کسی نے کہا پاکستان امریکا کے خلاف بول ہی نہیں سکتا، کسی نے وزیراعظم پر طنز کے تیر چلائے اور کسی نے پیش گوئی کی کہ سلامتی کونسل میں پاکستان خاموش رہے گا۔ مگر جب پاکستانی مندوب کا جاندار اور واضح بیان سامنے آیا تو ان سب کی زبانوں پر جیسے قفل لگ گیا۔
یہی روش ہم نے مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں بھی دیکھی۔ پوری دنیا نے مشاہدہ کیا کہ کس طرح بھارت کی عسکری جارحیت کے جواب میں پاکستان نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔ پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی، افواج کی پیشہ ورانہ برتری اور ریاستی اتحاد نے بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دشمن کو نہ صرف عسکری میدان میں پسپا ہونا پڑا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی اسے شدید ہزیمت اٹھانا پڑی۔ مگر بدقسمتی سے دشمن صرف سرحد کے اُس پار نہیں تھا، وار اندر سے بھی ہو رہا تھا۔
مئی 2025 کے انہی دنوں میں، جب افواجِ پاکستان تاریخ رقم کر رہی تھیں، ہمارے اپنے ملک کے اندر کچھ نام نہاد سیاسی عناصر اور سوشل میڈیا کے مجاہد پاکستان کی دفاعی کامیابیوں کو اپنی غلیظ سیاست کی عینک سے دیکھ رہے تھے۔ کسی نے افواج پر کیچڑ اچھالا، کسی نے اداروں پر الزام تراشی کی اور کسی نے دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے میں ذرا تامل نہ کیا۔ یہاں تک کہ کچھ نام نہاد دانشور آج بھی اس جنگ کو"نورا کشتی"قرار دے کر اپنی فکری پستی کا ثبوت دیتے ہیں۔
یہی ذہنیت ہمیں افغانستان کے معاملے میں بھی نظر آئی۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ننگی جارحیت کی گئی۔ ایسے میں افواجِ پاکستان نے بھرپور، مؤثر اور منہ توڑ جواب دے کر واضح کر دیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مگر افسوس کہ اسی دوران ملک کے اندر موجود کچھ ذہنی مریض، نام نہاد امن کے علمبردار اور سیاسی مفاد کے اسیر عناصر پاکستان کی بجائے افغان جارحوں کے حق میں آواز بلند کرتے دکھائی دیے۔ کوئی طالبان کی صفائیاں پیش کرتا رہا، کوئی ریاستی دفاع پر سوال اٹھاتا رہا اور کوئی دشمن کے بیانیے کو سچ بنا کر پیش کرتا رہا۔ یہ نیوٹرل ازم نہیں بلکہ کھلی ریاست دشمنی ہے۔
غزہ کے معاملے پر بھی یہی فکری دیوالیہ پن سامنے آیا۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سمیت پوری دنیا غزہ میں معصوم شہریوں کے قتلِ عام پر کرب میں مبتلا تھی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیلی بربریت امریکی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اگر پاکستان نے سفارت کاری کے ذریعے امریکا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو اسے غلامی، چاپلوسی کہنا بددیانتی اور فکری بدعنوانی کے سوا کچھ نہیں۔
تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ حماس کے بعض اقدامات نے فلسطینی عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ دو سالہ تصادم کے بعد غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنانے، ایک لاکھ سے زائد جانوں کے ضیاع اور نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے سوا آخر حاصل کیا ہوا؟ یہ بھی یاد رہے کہ خود فلسطینی اعلیٰ قیادت نے متعدد مواقعوں پر حماس پر شدید تنقید کی۔
وینزویلا کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف، مئی 2025 میں بھارت کے خلاف فیصلہ کن دفاع اور افغانستان کے محاذ پر جارحیت کا منہ توڑ جواب یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسیاں کسی فرد یا جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ ریاست کے مفاد کے تابع ہیں۔ پاکستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ جارحیت، چاہے امریکا کرے، بھارت کرے یا افغان سرزمین سے ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں۔ ہم اختلاف ضرور کریں، مگر ریاست دشمنی نہیں۔ ہم تنقید ضرور کریں، مگر اداروں پر کیچڑ نہیں۔ حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، مگر ریاست ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
آج پاکستان ہم سے صرف ایک مطالبہ کرتا ہے: مملکت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ کیونکہ جو قومیں اپنی ریاست کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
مملکتِ پاکستان پائندہ باد

