Wednesday, 14 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Mutahir Khan
  4. Wonderboy Bayania, Riyasti Zaraye Ki Dotok Wazahat

Wonderboy Bayania, Riyasti Zaraye Ki Dotok Wazahat

ونڈر بوائے بیانیہ، ریاستی ذرائع کی دوٹوک وضاحت

پاکستان کی تازہ سیاسی فضا میں گردش کرتی قیاس آرائیاں، تجزیاتی کالموں کے استعارے اور طاقت کے مراکز سے منسوب مبہم اشارے ہمیشہ سے بحث و گفتگو کو ایک نئی سمت دیتے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی ایک ایسے ہی بیانیے نے میڈیا، سیاسی حلقوں اور سوشل پلیٹ فارمز میں ایک نئی لہر پیدا کی، جب یہ تاثر ابھرا کہ شاید کسی مبینہ "ونڈر بوائے" کے ذریعے اقتدار کی بساط میں کسی ممکنہ تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ تاہم باخبر ذرائع کا موقف اس عمومی فضا سے یکسر مختلف ہے۔ ان ذرائع کے مطابق نہ تو وزارتِ عظمیٰ کی سطح پر کوئی غیر معمولی پیش رفت زیرِ غور ہے اور نہ ہی وزیرِاعظم شہباز شریف کو تبدیل کرنے کے لیے کسی متبادل یا غیر روایتی امیدوار کی تلاش جاری ہے۔ ان کے بقول اس نوعیت کی تمام چہ مگوئیاں قیاس اور صحافتی تعبیرات سے آگے نہیں بڑھتیں۔

ان ذرائع نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات، اعتماد اور باہمی احترام میں کسی نوعیت کی دراڑ یا سرد مہری کے تاثر کی کوئی بنیاد نہیں۔ ایک اہم پالیسی عہدے سے وابستہ ذریعے نے جب اس حوالے سے براہِ راست سوال کا سامنا کیا تو اس نے بلا تردّد یہی کہا کہ دونوں کے درمیان ورکنگ ریلیشن، مشاورت کا تسلسل اور ادارہ جاتی ہم آہنگی "انتہائی شاندار" سطح پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک ریاستی سطح کی یہ ہم ساختگی کسی عبوری مصلحت یا عارضی ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی تسلسل اور ذمہ دارانہ شراکت داری کا مظہر ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارا مباحثہ اُس وقت پروان چڑھا جب ایک سینئر کالم نگار کی تحریر میں "گرینڈ پلان" اور "ونڈر بوائے" جیسی علامتی اصطلاحات سامنے آئیں۔ کالم میں یہ تصور ابھرتا ہے کہ مستقبل کے کسی بڑے اصلاحاتی خواب کے لیے محض سنہری مزاج نہیں، بلکہ ایک ایسا شخص درکار ہوگا جسے ہیرے جیسی غیر معمولی ذہانت، توانائی اور فیصلہ سازی کی قوت میسر ہو۔ اسی تحریر میں ایک ایسی مثالی کابینہ کا تصور بھی پیش کیا گیا جس کے وزرا اپنے اپنے شعبوں کے ممتاز علمی ماہر ہوں اور دنیا کی مستند جامعات سے اعلیٰ ترین علمی اسناد رکھتے ہوں۔ یہ خیالی خاکہ بعض حلقوں میں ایک خاموش خواہش، جبکہ بعض مبصرین کی نظر میں ایک علامتی پیش گوئی کے طور پر دیکھا گیا۔

تاہم ذمہ دار ریاستی ذرائع نے اس بیانیے کو نہ صرف حد سے زیادہ رومانوی قرار دیا بلکہ اس تاثر کی بھی نفی کی کہ کسی خفیہ منصوبہ بندی یا طاقت کے اندرونی توازن کی تبدیلی کے لیے ایسے کسی کردار کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ خیال صحافتی تخلیق یا تجزیاتی قیاس کا حصہ تو ضرور ہو سکتا ہے، مگر اسے حقیقی پالیسی مکالمے یا ریاستی فیصلوں کی بنیاد سے جوڑنا درست تعبیر نہیں۔

یہاں یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض مبصرین نے خود کالم نگار کے اس اندازِ تحریر کی جانب اشارہ کیا جس میں دلیل کے ساتھ ایک خاص حد تک ابہام کو برقرار رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس تکنیک نے تحریر کو ایک ایسا تاثر دیا کہ جیسے کسی ممکنہ پالیسی بحث کو بیان کرنے کے بجائے محض اس کے سائے کو موضوعِ گفتگو بنایا گیا ہو یوں کہہ لیجیے کہ بات بھی کہہ دی گئی اور مکمل طور پر کہی بھی نہیں گئی۔ یہی ابہام شاید اس وجہ سے بھی نمایاں ہوا کہ ایسے موضوعات طاقت کے اُن دائروں سے جڑے ہوتے ہیں جہاں براہِ راست لب کشائی اکثر سفارتی احتیاط کے تابع رہتی ہے۔

باخبر ذرائع مگر اس نکتے پر غیر معمولی حد تک واضح ہیں۔ ان کے مطابق نہ کسی "متبادل انجینئرنگ" کی تیاری ہو رہی ہے، نہ کسی "گرینڈ پلان" کے بہانے ریاستی بندوبست کو نئی ترتیب دینے کا کوئی معاملہ زیرِ غور ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے منصب، اس کی آئینی حیثیت اور موجودہ سیاسی قیادت کے ساتھ عسکری قیادت کے ورکنگ ماحول کو کمزور کرنے یا مشکوک بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تاثر بھی رد کیا گیا کہ ریاستی سطح پر کوئی ایسی "خاموش بے چینی" پنپ رہی ہے جو مستقبل میں کسی ہنگامی متبادل کے لیے راستہ ہموار کر سکے۔

اس منظرنامے کو محض ایک خبر یا تردید کے زاویے سے دیکھنا شاید کافی نہیں۔ درحقیقت یہ بحث اس بڑے تناظر کی نشاندہی بھی کرتی ہے جس میں پاکستان کی سیاست عرصہ دراز سے علامتی تصورات، شخصی نجات دہندوں کے احیائی تصور اور "سنگل سولوشن قائد" کے رومان میں الجھی رہی ہے۔ کبھی "بابائے تبدیلی"، کبھی "نیا منظرنامہ"، کبھی "معجزاتی رہنما" اس طرح کے استعارے ملکی سیاسی نفسیات کا ایک مستقل حصہ رہے ہیں۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاستی نظام کی اصلاح کسی ایک فرد کے غیر معمولی ظہور سے زیادہ، ادارہ جاتی تسلسل، پالیسی استقلال اور اجتماعی فیصلہ سازی سے مشروط ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں موجودہ ذرائع کا موقف ایک مختلف طرح کی حقیقت پسندی کو نمایاں کرتا ہے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ ریاست کے بڑے فیصلے خواہ سیاسی ہوں یا عسکری، اب زیادہ حد تک مربوط مشاورت، مشترکہ ذمہ داری اور آئینی ڈھانچے کے اندر رہ کر طے پاتے ہیں۔ ایسے میں کسی "ہیروئک انٹرونشن" یا شخصی نجات دہندہ کے تصور کو زندہ رکھنا، محض سیاسی بحث کو جذباتی جہت دینے کے مترادف ہے۔

سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے بیانیے بار بار جنم کیوں لیتے ہیں؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ معاشروں میں تبدیلی کی خواہش جب ادارہ جاتی اصلاح کی سست رفتاری سے ٹکراتی ہے، تو اجتماعی ذہن فوری اور حیران کن حل کی آرزو کو ایک علامتی کردار کی شکل میں دیکھنے لگتا ہے۔ ایسے میں صحافتی تخیل، سیاسی تجزیہ اور عوامی اضطراب تینوں مل کر ایک ایسے مفروضے کو جنم دیتے ہیں جو بظاہر حقیقی امکان دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت صورتِ حال کا مکمل عکس نہیں ہوتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ذمہ دار صحافت، باخبر ذرائع اور ریاستی سطح کے نمائندہ بیانیے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس توازن کے بغیر نہ صرف سیاسی ماحول غیر ضروری بے چینی کا شکار ہوتا ہے بلکہ پالیسی تسلسل پر بھی سوالات کھڑے ہونے لگتے ہیں۔

آخرکار، اصل سیاسی سوال کسی "ونڈر بوائے" کی آمد یا عدم آمد سے کہیں آگے ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ آیا ریاستی ڈھانچہ اپنی موجودہ قیادت، مشترکہ مشاورت اور ادارہ جاتی تسلسل کے ذریعے اصلاحات کا سفر کس رفتار سے آگے بڑھاتا ہے۔ اگر یہ سفر تدبر، استحکام اور سنجیدہ پالیسی فیصلوں کے ساتھ جاری رہتا ہے تو پھر کسی علامتی نجات دہندہ کی ضرورت خود بخود غیر متعلق ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر معاشی و انتظامی چیلنجوں کا بوجھ بڑھتا رہا، تو یہی مباحث دوبارہ اسی شدت سے ابھریں گے۔

فی الحال، ذمہ دار ذرائع کا موقف واضح ہے: نہ کوئی خفیہ منصوبہ سرگرم ہے، نہ کسی متبادل قیادت کی تیاری۔ وزیرِاعظم اور عسکری قیادت کے تعلقات اعتماد، احترام اور تعاون کے اسی دائرے میں قائم ہیں، جسے ان کے الفاظ میں "انتہائی شاندار" کہا جا سکتا ہے۔ باقی جہاں تک مباحث، خواہشات یا علامتی تعبیرات کا تعلق ہے وہ بدستور سیاست اور صحافت کے درمیان موجود اُس باریک حد پر چلتی رہیں گی جہاں حقیقت اور امکان، دونوں اپنی اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔

Check Also

Cricketer Baap, Beta: Himmat o Hoslay Ka Afsana

By Asif Masood