Sunday, 15 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Mutahir Khan
  4. Saneha Gul Plaza

Saneha Gul Plaza

سانحۂ گل پلازہ

سانحۂ گل پلازہ محض ایک عمارت کے ملبے میں دبنے والی کہانی نہیں، یہ ایک ایسے اجتماعی زخم کا نام ہے جو وقت کے ساتھ مندمل ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ جب ریسکیو آپریشن کے مکمل ہونے، عمارت کے سیل کیے جانے، 73 انسانی باقیات کے پروسیس ہو جانے اور 16 باقیات کے بدستور ناقابلِ شناخت ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعداد و شمار انسانی سانحات کی جگہ لے رہے ہوں، حالانکہ ان نمبروں کے پیچھے زندہ دلوں کی دھڑکنیں، خاندانوں کی امیدیں اور ماں باپ کی دعائیں دفن ہیں۔ عمارت سیل کئے جانے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا یہ دروازہ صرف ایک خستہ عمارت کا بند ہوا یا ان خاندانوں کی امیدوں کا بھی، جن کے پیارے اب تک لاپتا ہیں؟

ریسکیو آپریشن اپنی تکنیکی حدود تک پہنچ چکا ہے، جدید آلات، ماہر ٹیمیں اور مسلسل محنت کے باوجود اب مزید کسی معجزے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس حقیقت کو مان لینا شاید سب سے زیادہ کرب ناک مرحلہ ہے، کیونکہ سانحات میں اصل امتحان صرف ریاستی اداروں کی استعداد کا نہیں ہوتا بلکہ سماج کے اجتماعی ضمیر کا بھی ہوتا ہے۔ 79 لاپتا افراد میں سے 13 کے ورثا کا اب تک ڈی این اے سیمپل فراہم نہ کرنا محض ایک انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی المیے کی علامت ہے۔ کئی خاندان ایسے مراحل سے گزرتے ہیں جہاں وہ اپنے پیارے کی موت کو قبول کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہوتے، ڈی این اے سیمپل دینا ان کے لیے آخری مہرِ تصدیق کے مترادف بن جاتا ہے اور یہی مرحلہ سب سے زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔

ناقابلِ شناخت 16 انسانی باقیات اس سوال کو جنم دیتی ہیں کہ جدید دور، ڈیجیٹل ریکارڈز اور بایومیٹرک نظام کے باوجود ہم شناخت کے عمل میں کیوں ناکام رہتے ہیں؟ کیا یہ صرف آگ، دباؤ اور وقت کی وجہ سے ہے یا ہماری تیاریوں اور نظام میں وہ خامیاں موجود ہیں جن پر ہم عام دنوں میں بات نہیں کرتے؟ ہر سانحہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے، مگر ہم اکثر اس آئینے سے نظریں چرا لیتے ہیں۔ گل پلازہ بھی ایسا ہی ایک آئینہ ہے جو شہری منصوبہ بندی، عمارتوں کے حفاظتی معیارات، سرکاری نگرانی اور انسانی جان کی قیمت کے بارے میں ہمارے اجتماعی رویے کو بے نقاب کرتا ہے۔

عمارت کا سیل کیا جانا بظاہر ایک انتظامی فیصلہ ہے، مگر اخلاقی اعتبار سے یہ ایک سوال چھوڑ جاتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ احتساب کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں سانحات کے بعد ابتدائی شور تو بہت ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ فائلیں دب جاتی ہیں، رپورٹس الماریوں میں بند ہو جاتی ہیں اور ذمہ دار چہروں پر خاموشی کی دبیز تہہ جم جاتی ہے۔ اگر گل پلازہ کے ملبے سے ہمیں کچھ سیکھنا ہے تو وہ یہی کہ احتساب کو ریسکیو آپریشن کی طرح ہی سنجیدگی، شفافیت اور تسلسل کے ساتھ مکمل کیا جائے۔

انسانی باقیات کو پروسیس کرنے کا عمل محض ایک تکنیکی مرحلہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بنیاد ہے۔ جب ایک خاندان کو اپنے پیارے کی شناخت ملتی ہے تو وہ صرف لاش وصول نہیں کرتا، وہ ایک سچ، ایک اختتام اور کسی حد تک ذہنی سکون حاصل کرتا ہے۔ اس کے برعکس، جب شناخت ممکن نہ ہو یا ڈی این اے کے مراحل تاخیر کا شکار ہوں تو دکھ ایک مستقل اذیت میں بدل جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈی این اے سیمپلنگ کے عمل کو محض ایک رسمی تقاضا نہ سمجھا جائے بلکہ متاثرہ خاندانوں کی نفسیاتی مدد، رہنمائی اور اعتماد سازی کو اس کا لازمی حصہ بنایا جائے۔

یہ سانحہ ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شہری زندگی میں غیر رسمی تعمیرات، ناقص نگرانی اور عارضی مفادات کس طرح مستقل تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ ایک پلازہ صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہوتا، وہ درجنوں خاندانوں کی روزی، سیکڑوں لوگوں کی آمد و رفت اور بے شمار خوابوں کا مرکز ہوتا ہے۔ جب وہی پلازہ موت کا گڑھ بن جائے تو سوال صرف حادثے کا نہیں رہتا، پورے نظام کی ترجیحات زیرِ بحث آ جاتی ہیں۔

ریاستی سطح پر یہ لمحہ خود احتسابی کا تقاضا کرتا ہے کہ کیا ہمارے قوانین واقعی انسانی جان کی حفاظت کے لیے ہیں یا محض کاغذی کارروائی کے لیے؟ کیا عمارتوں کے معائنے محض خانہ پری تک محدود ہیں؟ اور کیا سانحات کے بعد کی تحقیقات واقعی اصلاح کی نیت سے ہوتی ہیں یا صرف وقتی دباؤ کم کرنے کے لیے؟ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے انصاف کا مطلب صرف مالی امداد نہیں بلکہ اس نظام کی اصلاح ہے جس نے انہیں اس مقام تک پہنچایا۔

آخر میں، جب یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر اب بھی کسی کا پیارا لاپتا ہے تو وہ رابطہ کر سکتا ہے، تو یہ جملہ امید کی ایک کمزور مگر اہم کرن ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ریاست نے ابھی مکمل طور پر ہاتھ نہیں کھینچا، مگر اس امید کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔ شفاف معلومات، بروقت رابطہ، نفسیاتی معاونت اور غیر جانبدار احتساب ہی وہ راستہ ہیں جو اس سانحے کو محض ایک خبر بننے سے بچا سکتے ہیں۔

گل پلازہ کے ملبے تلے دبنے والی کہانیوں کو اگر ہم نے محض نمبروں میں سمیٹ دیا تو یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی شکست ہوگی۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ سانحہ آئندہ کے لیے ایک انتباہ بنے، ایک سبق بنے اور ایک ایسی تبدیلی کی بنیاد رکھے جس میں انسانی جان کو واقعی اولین ترجیح حاصل ہو۔

Check Also

Hostel Mein Qayam Karna (2)

By Ashfaq Inayat Kahlon