Gul Plaza Ke Baad Ki Khamoshi
گل پلازہ کے بعد کی خاموشی

کراچی ایک بار پھر دھوئیں، ملبے اور سوالوں کے درمیان کھڑا ہے۔ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں رہا، بلکہ یہ شہر کے مجموعی حفاظتی نظام، انتظامی غفلت اور اجتماعی بے حسی کا عریاں مظاہرہ بن چکا ہے۔ چھٹے روز بھی جب کولنگ کا عمل جاری ہے، ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور ملبے سے اب بھی انسانی باقیات برآمد ہو رہی ہیں، تو یہ حقیقت خود چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ یہ حادثہ معمولی نہیں، بلکہ کراچی کی تاریخ کے بڑے اور المناک سانحات میں شامل ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 62 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، 77 افراد لاپتہ ہیں، 48 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے اور صرف 15 افراد کی شناخت ممکن ہو سکی ہے، جن میں سے 8 کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی گئی۔ یہ اعداد محض نمبرز نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے گھر، اجڑے ہوئے خاندان اور وہ انتظار ہیں جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔ ملبے کے نیچے دبے ممکنہ افراد تک پہنچنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں عمارت کے فرنٹ سے راستے بنا رہی ہیں، خطرات کے باوجود قدم قدم پر آگے بڑھ رہی ہیں، مگر شدید ساختی نقصان، دھواں، زہریلی گیسیں اور منہدم ہونے کا خدشہ اس عمل کو نہایت سست اور جان لیوا بنا رہا ہے۔
یہ سانحہ اس وقت پیش آیا جب شہر شادیوں کے سیزن میں داخل تھا، عمارت میں غیر معمولی رش موجود تھا اور تین منزلہ تجارتی مرکز میں بارہ سو سے زائد دکانیں قائم تھیں۔ قیمتی سامان، آتش گیر مواد، تنگ راستے، محدود یا بلاک ایگزٹس اور فائر سیفٹی نظام کی ناقص یا غیر موجود حالت نے آگ کو پھیلنے کا بھرپور موقع دیا۔ سوال یہ نہیں کہ آگ لگی کیسے، سوال یہ ہے کہ آگ لگنے کے بعد اتنی بڑی تباہی کیوں ہوئی؟ سینٹرل فائر اسٹیشن گل پلازہ سے زیادہ دور نہیں، فائر بریگیڈ حکام کے مطابق گاڑیاں بروقت پہنچ گئیں، مگر اگر ایسا تھا تو پھر آگ پر قابو پانے میں 33 گھنٹے کیوں لگے؟ فوم، کیمیکل، پانی اور خصوصی آلات کہاں تھے؟ کیا شہر کے فائر فائٹنگ وسائل اس پیمانے کے حادثے کے لیے کبھی تیار ہی نہیں تھے؟
کراچی جیسے تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں صرف 28 سے 35 فائر اسٹیشنز، 50 سے کم فعال فائر ٹینڈر، چند اسنارکل اور محدود ریسکیو یونٹس ہونا بذاتِ خود ایک المیہ ہے۔ اس پر مستزاد پانی کی فراہمی کا دائمی بحران، فائر ہائیڈرنٹس کی کمی، ٹریفک جام، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص رسائی وہ عوامل ہیں جو ہر بڑے سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھا دیتے ہیں۔ فائر فائٹنگ انفراسٹرکچر کی کمزوری محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ براہِ راست انسانی جانوں سے جڑا ہوا سوال ہے۔
گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار اس المیے کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سال 2024 میں شہر میں دو ہزار سے زائد جبکہ 2025 میں ڈھائی ہزار سے زیادہ آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں اکثریت کی وجہ الیکٹریکل شارٹ سرکٹ، ناقص برقی تنصیبات، غیر معیاری وائرنگ اور عمارتوں میں آتش گیر سامان کا بے ہنگم ذخیرہ تھی۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان وجوہات پر دہائیوں سے بات ہو رہی ہے، مگر عملی اقدامات آج تک نہ ہونے کے برابر ہیں۔
گل پلازہ کے سانحے نے ماضی کے وہ تمام زخم پھر سے ہرے کر دیے ہیں جو بلدیہ ٹاؤن فیکٹری، آر جے مال، کریم آباد، نیو کراچی اور کورنگی کے حادثات میں لگے تھے۔ 11 ستمبر 2012 کو علی انٹرپرائز فیکٹری میں 289 مزدور زندہ جل گئے تھے، تب بھی کہا گیا تھا کہ یہ ایک سبق ہے، تب بھی تحقیقات ہوئیں، رپورٹس بنیں، وعدے کیے گئے، مگر نتیجہ کیا نکلا؟ آج ایک دہائی بعد بھی ایگزٹس بند، کھڑکیاں سیل، فائر الارم ناکارہ اور انسانی جانیں بے قیمت ہیں۔ یہی تاریخ اب گل پلازہ کے ساتھ دہرائی جا رہی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم اجتماعی طور پر وقتی غم میں مبتلا ہوتے ہیں، چند دن میڈیا پر شور ہوتا ہے، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس فائلوں میں دفن ہو جاتی ہیں، ذمہ داروں کا تعین نہیں ہو پاتا اور نہ ہی کسی کو مثال بنائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کی 70 فیصد سے زائد عمارتیں آج بھی مناسب فائر سیفٹی نظام سے محروم ہیں۔ دنیا کے بڑے شہروں میں عمارتوں کا باقاعدہ سیفٹی آڈٹ ہوتا ہے، یہاں سرٹیفکیٹ کاغذی کارروائی سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔
گل پلازہ نسبتاً بہتر ڈیزائن شدہ عمارت تھی، اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر نسبتاً بہتر عمارت کا یہ حال ہے تو باقی شہر کس خطرے میں ہے۔ یہ سانحہ کسی ایک پلازہ، کسی ایک محکمے یا کسی ایک دن کی ناکامی نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط بدانتظامی، کرپشن، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور قانون سے چشم پوشی کا منطقی انجام ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ اس سانحے کے ذمہ دار کون ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس بار واقعی کچھ بدلنا چاہتے ہیں؟ کیا یہ سانحہ بھی بلدیہ ٹاؤن کی طرح محض ایک حوالہ بن کر رہ جائے گا، یا ہم اسے مستقبل کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں گے؟ اگر اس بار بھی فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل نہ ہوا، انفراسٹرکچر بہتر نہ کیا گیا، عمارتوں کا حقیقی آڈٹ نہ ہوا اور انسانی جان کو معاشی مفاد پر ترجیح نہ دی گئی، تو یہ آگ بجھنے کے باوجود شہر کے ضمیر کو جلاتی رہے گی۔
گل پلازہ کا ملبہ ایک دن ہٹا دیا جائے گا، دھواں چھٹ جائے گا، مگر اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوگا۔ یہ امتحان ریاست، اداروں اور معاشرے تینوں کا ہے۔ اگر ہم نے اس بار بھی آنکھیں بند رکھیں تو اگلا سانحہ صرف وقت کی بات ہے اور شاید اس بار سوال پوچھنے والا بھی کوئی نہ بچے۔

