Pakistan, Tareekhi Virson Ka Qabristan?
پاکستان، تاریخی ورثوں کا قبرستان؟

یہ خبر محض ایک مونومنٹ گرانے کی نہیں، بلکہ ریاستی طرزِ عمل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے باضابطہ طور پر نیشنل منسٹری آف ہیرٹیج اینڈ کلچر سے اجازت مانگی کہ مارگلا اینکلیو سیکٹر میں ترقیاتی کام مکمل کرنے کے لیے ایک تاریخی یادگار ہٹا دی جائے، مگر وزارت نے اس درخواست کو صاف الفاظ میں مسترد کر دیا۔ اس کے باوجود، قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے، رات کی تاریکی میں وہ یادگار خاموشی سے گرا دی گئی اور موقع سے ہٹا دی گئی۔ نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی نوٹس، بس طاقت کا استعمال۔
یہ یادگار کوئی عام پتھر یا رکاوٹ نہیں تھی۔ یہ جنگِ عظیم اول (World War One) کی ایک زندہ گواہی تھی، ریہاڑا گاؤں کے ان دیہاتیوں کی یاد میں جو برطانوی فوج کے ساتھ لڑے اور قربانیاں دیں۔ یہ مونومنٹ تاریخ کا وہ صفحہ تھا جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس خطے کے لوگ عالمی جنگوں کا بھی ایندھن بنے۔ آج ایک نئے سیکٹر کی فائل کے نیچے وہ پوری یادداشت دفن کر دی گئی۔
دنیا کے مہذب ممالک میں ترقی اور ورثہ ایک دوسرے کے دشمن نہیں سمجھے جاتے۔ اٹلی، اسپین، فرانس اور برطانیہ میں اگر کسی ترقیاتی منصوبے کے دوران کوئی تاریخی یا ہیریٹیج اسٹرکچر سامنے آ جائے تو کام روک دیا جاتا ہے۔ قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ ورثے کو ہٹا کر راستہ صاف کر لیا جائے۔ یا تو اسی جگہ اسے preserve کیا جاتا ہے، یا پورے سائنسی طریقۂ کار کے تحت، ایک ایک پتھر کو نمبر لگا کر، ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی نگرانی میں as it is دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے، وہ بھی صرف آخری مجبوری میں۔ وہاں "راتوں رات" نام کی کوئی چیز قانون میں موجود نہیں۔
قانونی اور تکنیکی حقیقت یہ ہے کہ کسی ہیریٹیج مونومنٹ کو اٹھا کر بالکل ویسا ہی دوسری جگہ بنانا آسان کام نہیں۔ اکثر صورتوں میں اس کی اصل تاریخی قدر، اس کا مقام (context) اور اس کی روح وہیں جڑی ہوتی ہے جہاں وہ کھڑا ہو۔ اسی لیے عالمی قوانین، یونیسکو کنونشنز سمیت ترجیح یہی دیتے ہیں کہ ورثہ اسی جگہ محفوظ رہے، نہ کہ ترقی کی بھینٹ چڑھ جائے۔
یہ واقعہ ایک تلخ سچ بے نقاب کرتا ہے۔ ہمارے ہاں قانون اجازت نہ دے تو بھی طاقت راستہ بنا لیتی ہے۔ یہاں ترقیاتی منصوبے صرف زمین نہیں نگلتے، تاریخ، یادداشت اور احترامِ قانون سب کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ایک مونومنٹ کیوں گرایا گیا، سوال یہ ہے کہ جب وزارتِ ثقافت کے فیصلے کی بھی کوئی حیثیت نہیں، تو پھر قانون کس کے لیے ہے؟
آخر میں فیصلہ سازوں اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ اس معاملہ کو محض ایک سیکٹر یا ایک یادگار سمجھ کر اسے صرف نظر نہ کیا جائے۔ انکوائری کرکے ذمہ داری فکس کی جائے۔ ورنہ اگر آج جنگِ عظیم اول کی یادگار راتوں رات مٹا دی جاسکتی ہے، تو کل کسی بھی شہر، کسی بھی گاؤں کی تاریخ محفوظ نہیں۔ ترقی اگر تاریخ کو روند کر آئے، تو وہ ترقی نہیں، یہ اجتماعی یادداشت کی تباہی ہے اور یہی اصل المیہ ہے۔
یہی حال رہا تو پاکستان پھر ورثوں کا قبرستان بن جائےگا۔

