Friday, 30 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Murree, Turkey Ka Bursa Aur Maryam Aurangzeb

Murree, Turkey Ka Bursa Aur Maryam Aurangzeb

مری، ترکی کا برسہ اور مریم اورنگزیب

مری محض ایک تفریحی مقام نہیں، ایک ذمہ داری ہے۔ بادلوں میں لپٹا یہ شہر برسوں سے طاقت کے ایوانوں کو دور سے دیکھتا آیا ہے، مگر قدرت کبھی کبھار اسے مرکزِ اختیار کے قریب لا کھڑا کرتی ہے۔ آج وہ لمحہ پھر آن کھڑا ہوا ہے اور اس بار نام ہے مریم اورنگزیب۔

مریم اورنگزیب پنجاب کی سینئر وزیر ہیں۔ جنگلات اور منصوبہ بندی و ترقیات جیسے کلیدی محکمے ان کے پاس ہیں۔ مری سے تعلق رکھنے والی یہ سیاست دان خواتین کی مخصوص نشست کے ذریعے اقتدار کی راہداریوں میں داخل ہوئیں، مگر یہاں تک پہنچنا محض قسمت نہیں، مسلسل محنت، سیاسی فہم اور فیصلہ سازی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسے مقام پر پہنچنے والوں سے توقعات بھی عام نہیں ہوتیں۔

اس سے قبل اگر مری کے کسی فرد کے سر اقتدار کا ہما بیٹھا تو وہ شاہد خاقان عباسی تھے۔ وزارتِ عظمیٰ جیسا منصب کسی بھی شہر کے لیے اعزاز ہوتا ہے، مگر مری کے باسی آج بھی اس دور کو سوالیہ نشان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کا دور محض نگران وزیراعظم جیسا تھا، انہیں بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی یا منصوبوں میں ردو بدل کا اختیار حاصل نہ تھا۔ مگر تاریخ تاویلیں نہیں، نتائج محفوظ رکھتی ہے۔ اسی لیے ناقدین انہیں ایک درمیانی درجے کی کارکردگی کی سند دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اب تاریخ نے ایک نیا امتحان رکھا ہے۔ مریم اورنگزیب آج پنجاب کی باگ ڈور کے اہم فیصلوں میں شریک ہیں۔ وہ وزیرِ اعلیٰ کی معتمدِ خاص سمجھی جاتی ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ اہم معاملات میں وہ اپنی منصوبہ بندی سے وزیرِ اعلیٰ کو قائل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مری کے عوام کی امیدیں جاگتی ہیں اور سوال جنم لیتا ہے کہ کیا یہ امیدیں محض تاثر رہیں گی یا حقیقت کا روپ دھاریں گی؟

یہ حقیقت اپنی جگہ کہ مریم اورنگزیب کے پاس براہِ راست عوامی مینڈیٹ نہیں، وہ مخصوص نشست کے ذریعے ایوانوں تک پہنچی ہیں۔ مگر تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اصل مینڈیٹ بیلٹ سے نہیں، کارکردگی سے ملتا ہے۔ قدرت نے ان کے نازک کندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری رکھ دی ہے اور اب یہ دیکھنا ہے کہ وہ اسے رسمی سیاست کے ترازو میں تولتی ہیں یا تاریخ کے میزان پر۔

مری کے لیے گلاس ٹرین جیسے میگا منصوبے بلاشبہ دلکش ہیں، مگر سوال یہ نہیں کہ منصوبہ کتنا مہنگا یا کتنا نمایاں ہے، سوال یہ ہے کہ اس سے مری کے عام شہری اور اس کے بچے کا مستقبل کتنا بدلتا ہے۔ کیا ہر سال مری کے کم از کم درجن بھر ہونہار بچوں کو دانش سکولز، ایچی سن کالج، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور، میڈیکل کالجز اور لارنس کالج تک رسائی ملے گی؟ کیا پچاس نوجوانوں کو آئی ٹی، انجینئرنگ اور ٹورازم کے جدید کورسز کے لیے یورپ اور امریکہ بھیجا جا سکے گا؟ کیا اکلوتی کوہسار یونیورسٹی کو اپنا کے اس کے سلگتے انتظامی، تعلیمی و انفراسٹرکچر کے مسائل کی حل کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی۔

ایک ٹورازم ہائی وے شروع کیا گیا تھا، اس کی افادیت بہرحال اپنی جگہ تھی، اسے کیوں بند کیا گیا؟ پرانے مری روڈ کی کشادگی اور ممکنہ جگہوں پہ ون وے کرنے کے عمل کے ساتھ گلیات کی ٹریفک کے لئے مری نتھیا گلی بائی پاس روڈ، یہی تو وقت ہے، گلاس ٹرین کے ساتھ ساتھ ایسے ضروری منصوبوں کا۔ مری کے اطراف پارکنگ سٹیشنز اور شہر کے اندر ٹرام یا گالف کارٹ کے اجراء کے ذریعے سیاحوں کی انٹری کو کنٹرول کرنا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

مری کے اصل زخم مگر ان سے بھی گہرے ہیں۔ ادھورے، کٹھے پھٹے اور طاقتور مفادات کے مطابق بنے بلڈنگ بائی لاز اس پہاڑی شہر کے گلے میں رسی بن چکے ہیں، جن کی بے لاگ اور غیر جانبدار ری ویمپنگ کے بغیر مری کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ آلودہ ہوتے پانی کے قدرتی ذخائر بیماریوں کا منبع بن چکے ہیں، جبکہ ناقص منصوبہ بندی والی بلک واٹر سپلائی آج بھی سوال کر رہی ہے اگر میں Viable نہیں تھی تو مجھے تخلیق کیوں کیا گیا؟ اس سکیم میں پرچیز شدہ پائپ اور ادھورا کام بدقسمت ملک اور اس کے پلاننرز کا تاریخی نوحہ بیان کرتے ہیں۔

ادھر مری کا ماحولیاتی توازن پچھلی دو دہائیوں سے زبردست decline کا شکار ہے۔ اس کی بہتری کا دعویٰ تب درست ہوگا جب میرٹ پہ مری سے سترہ میل تک اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو اور massive شجر کاری جاری رہے گی۔ یہاں زیرو ٹالرنس محض تقریر کی حد تک نہیں بلکہ، عملی طور پہ نظر آنی چاہیے، چاہے سامنے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔ مری کے ہوٹلوں میں سیاحوں کے ساتھ ہونے والی ناجائز گراں فروشی نے سیاحت کو صنعت نہیں، لوٹ مار بنا دیا ہے، اس کا موئثر تدارک ہونا چائیے۔ سیاحوں کی کاروں کے پیچھے لپکنے والوں اور " کمرے کمرے" کی صدائیں لگانے والوں کو ٹورازم اینڈ ہاسپٹیلٹی کورسں کروا کے پیلی وردیاں پہنا دیں۔ سیاحوں کا پہلا تاثر ہی بہتر ہو جائے گا۔

کچھ ماہ قبل مجھے ترکی سے 155 کلومیٹر دور، شمال مغرب میں واقع، بحیرہ مرمرہ کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کے پہلے دارلحکومت سرسبز پہاڑی سلسلہ "برسہ" جانے کا اتفاق ہوا۔ گہرے گھنے جنگل، سرسبز "اولداغ" کی پہاڑی جہاں کیبل کار ختم ہوتی ہے۔ بل کھاتی ہوئی سڑک اور منظم گنی چنی آبادی اور مسکراتے ہوئے با اخلاق ترک مرد و خواتین۔ برف کے دوران سیاحوں کے لئے سکی انگ کی سہولت۔ دل سے آہ نکلی، کبھی ہم بھی ایسے ہی اثاثوں کے مالک تھے۔ پھر بے ہنگم عمارتی و انسانی اژدھام اور لالچ سب کچھ کھا گئی۔

وقت بہت تیزی سے ہاتھ سے نکلتا ہے۔ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر فیصلے مستقل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے کہ مریم اورنگزیب رسمی سیاست اور روایتی ترقیاتی کاموں سے اوپر اٹھ کر مری کو وہ کچھ دے جائیں جو دہائیوں سے اس کا حق ہے تاکہ آنے والی نسلیں صرف یہ نہ کہیں کہ مری سے تعلق رکھنے والے لوگ اقتدار میں تو آئے، مگر مری پھر بھی تنہا رہ گیا۔ مریم کام کر رہی ہیں، مگر ان کے وسیع تر اختیارات اور فیصلہ سازی کی طاقت، روایتی کاموں سے بہت آگے بڑھ کے اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ وہ کچھ کر گزریں گی تو تاریخ میں امر ہو جائیں گی۔

یاد رہے اقتدار وقتی سہولت ہے، یہ جلد گزر جاتا ہے، مگر اس کے گزر جانے کے بعد تاریخ مستقل سوال کرتی ہے۔ مری اب وعدوں نہیں، بڑے فیصلوں اور ان پہ عملدرآمد کا منتظر ہے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Social Media Ya Pagriyan Uchalne Ka License

By Malik Asad Jootah