Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Murree Ki Gen Z, Sundar Pichai Ban Sakti Hai?

Murree Ki Gen Z, Sundar Pichai Ban Sakti Hai?

مری کی جین زی، سندر پچائی بن سکتی ہے؟

کچھ برس قبل میں مری کے کسی نوجوان کو دیکھتا یا ملتا تھا تو اس کے مستقبل سے مایوس ہو جاتا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ یہ پہاڑ ایسی زندگی کیسے بسر کرے گا۔ مگر اب میرے نظریات بدل چکے ہیں۔ میں نے تین سال سکردو میں گزارے، وہاں کے سخت کوش بچوں کو بھی دیکھا اور ہر دم میرا اس سائنسی تھیوری پر اعتماد بحال ہوتا گیا کہ سخت موسم اور کٹھن حالات انسان کے شعور (IQ) کو تیز، ذہن کو بیدار اور سوچ کو گہرا کر دیتے ہیں۔ مری کے پہاڑوں میں بسنے والے لوگ اسی فطری تربیت کا حاصل ہیں: مضبوط اعصاب، بلند حوصلہ اور غیر معمولی ذہانت۔ یہی وہ لوگ تھے جنہیں اس قوم کی فکری قیادت کرنی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ ان کی صلاحیتوں کو نظام کی سرد مہری نے جکڑ لیا۔

تقریباً چار دہائیاں قبل جب میں انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں گیا تو ماحول اجنبی تھا۔ پنجاب کے نوجوان تھے، میں ناسٹلجیا کا شکار تھا اور یونیورسٹی میں کسی اپنے "گرائیں" کو ڈھونڈ رہا تھا۔ جی سی یونیورسٹی کے لڑکوں کی تعداد میری کلاس میں زیادہ تھی۔ ڈرائنگ کی کلاس تھی۔ میں نے ڈرائنگ شیٹ ٹیبل پر فکس کی اور لائن لگانے کے لیے "ٹی" رکھی تو ایک دبلے پتلے سے لڑکے نے مسکراتے ہوئے میری طرف آ کر کہا، "آپ نے ٹی الٹی رکھی ہوئی ہے"۔

ٹی سیدھی کرتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا، "آپ کہاں سے ہیں؟"

میں نے کہا، "اسلام آباد سے"۔

کہنے لگا، "اسلام آباد کا کوئی نہیں ہوتا، پیچھے سے کون سے علاقے سے ہیں؟"

میں نے کہا، "مری سے"۔

نوجوان کے چہرے پر ایک چمک آ گئی۔ "مری کہاں سے؟"

میں نے کہا، "پنجاب اور سرحد کے سنگم پر میرا گاؤں ہے"۔

نوجوان مجھ سے بغلگیر ہوا۔ "میرے گرائیں ہوئے پھر آپ"۔

نتھیا گلی کے گاؤں "کیری رائیکی" سے تعلق رکھنے والے عبدالرزاق سے میرے تعلق کو آج چالیس سال ہو چکے ہیں۔ وہ حال ہی میں واپڈا سے بطور جی ایم ریٹائر ہوئے ہیں۔

میرے وقتوں میں تو قحط الرجال تھا، مگر کبھی مری سے خال خال نظر آنے والے بچے اب کثرت سے ان اداروں میں نظر آتے ہیں۔ مگر فرق اب بھی یہی ہے کہ آبادی کے تناسب سے اور پنجاب کے دیگر علاقوں کی نسبت، آج بھی پروفیشنل اداروں میں مری کے بہت کم بچے پہنچ پاتے ہیں۔ وجہ صرف یہی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔

مری کی پہچان محض برف پوش چوٹیوں اور دل فریب مناظر تک محدود نہیں۔ یہ سرزمین ذہانت کے ان خزینوں کی امین ہے جو فطرت نے یہاں کے نوجوانوں میں ودیعت کیے ہیں۔ ہماری بدقسمت مقامی قیادت کی کوتاہ نظری کے باعث یہ نوجوان خود رو پودوں کی مانند رہے، جن میں بڑھنے، پھلنے اور دنیا کو حیران کر دینے کی پوری سکت موجود تھی، مگر انہیں وہ دھوپ، پانی اور باغبان میسر نہ آ سکا جس کے بغیر کوئی بھی پودا تناور نہیں بن پاتا۔ یوں یہ ہیرے مٹی میں دبے رہے اور ان کی چمک عالمی افق تک نہ پہنچ سکی۔

ذرا تصور کیجیے، اگر ان نوجوانوں کو وقت پر رہنمائی، سمت اور اعتماد مل جاتا تو آج مری کے بیٹے گوگل اور مائیکروسافٹ جیسے اداروں میں فیصلے کر رہے ہوتے۔ یہ ایک قومی سانحہ ضرور ہے، مگر یہ کوئی بند دروازہ نہیں۔ وقت آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور مری کی نئی نسل کے لیے ایک نئے سفر کی شروعات اب بھی ممکن ہے۔

جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ مری کے لوگ مادر زاد غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ یہ وہ نادر گوہر ہیں جنہیں اگر جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور درست پلیٹ فارم فراہم کر دیا جائے تو یہ عالمی منڈی میں ناگزیر بن سکتے ہیں۔ مسئلہ صلاحیت کا نہیں، سمت کا رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم ان ہیروں کو تراشیں، نہ کہ ان پر گرد جمنے دیں۔

دنیا کی عظیم ترین ٹیک کمپنی گوگل کے سربراہ سندر پچائی کی کہانی کوئی افسانہ نہیں بلکہ ایک زندہ مثال ہے۔ آج وہ سوا ارب روپے کی ماہانہ آمدن رکھتے ہیں، مگر ان کا آغاز بھی ایک سادہ گھرانے سے ہوا تھا۔ ان کے والد ایک عام الیکٹریشن اور والدہ ایک سٹینوگرافر تھیں۔ بچپن آسائشوں میں نہیں، تنگ دستی میں گزرا، بالکل ویسا ہی پس منظر جیسا مری کے محنت کش خاندانوں کا ہے۔

فرق صرف ایک تھا: سندر پچائی کو آئی آئی ٹی (IIT) جیسا ادارہ میسر آ گیا۔ وہیں ان کی صلاحیتوں کو تراشا گیا اور وہیں ان کی سمت متعین ہوئی۔ گزشتہ چالیس برس میں مری کے نوجوانوں کو ایسا کوئی ایک ادارہ بھی نہ مل سکا جو ان کے خوابوں کو حقیقت کا راستہ دکھاتا۔

مگر میں اب مایوس نہیں ہوں۔ ہم بومرز اب جنریشن زی اور الفا میں ایک سپارک دیکھتے ہیں۔ اسلام آباد میں مقیم میرے چند اہلِ دانش دوستوں کی رائے ہے کہ کہسار کے نوجوانوں کو اب سیاسی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں رہی۔ اگرچہ ان کے پاس آئی آئی ٹی نہیں، مگر ان کے ہاتھ میں انٹرنیٹ کی طاقت ہے اور آج انہیں سندر پچائی بننے کے لیے کسی سے اجازت نامے کی ضرورت نہیں۔

حال ہی میں میری مری کے کچھ روشن ستاروں سے انٹرایکشنز ہوئی ہیں۔ یہ سوشل میڈیا پر ایک گروہ کی صورت پہچانے جاتے ہیں اور یہ اے آئی ٹیکنالوجی کے برق رفتار گھوڑے پر کاٹھی ڈال کر اگلے زمانے میں جست لگانے کی تیاری میں ہیں۔ یہ اب مری کی روایتی، فرسودہ قیادت کے محتاج نہیں رہے۔ مجھے اور میرے دوستوں کو یقین ہے کہ یہ نوجوان اپنے اندر چھپے گوہر کو خود تراش لیں گے اور دنیا کو دکھا دیں گے کہ مری کی مٹی صرف برف ہی نہیں اُگاتی، یہ قیادت بھی پیدا کرتی ہےاور مری کی کسی ایک گلی سے گوگل کا اگلا سربراہ بھی نکل سکتا ہے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Kuch Baatein Phoolon Ki, Chand Yaadein Kaliyon Ki

By Irfan Javed