Kamal Shah Ki Kahani
کمال شاہ کی کہانی

یہ کمال شاہ کی کہانی نہیں، اصل میں یہ انسانیت کی وہ کہانی ہے جو ہم روز دیکھتے ہیں مگر اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کمال شاہ گزشتہ پچیس برسوں سے میرے ساتھ کسی نہ کسی صورت جڑا رہا، مگر چھ ماہ پہلے وہ جس حال میں میرے پاس آیا، وہ منظر آج بھی دل کو چیر دیتا ہے۔ آنکھوں میں گہری اداسی، چہرے پر تھکن اور لہجے میں وہ خاموش شکست جو انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
وہ دن مردان کے لیے بھی بھاری تھے اور اسلام آباد کے لیے بھی۔ شدید بارشیں، طوفانی ہوائیں، اولے جو پہاڑوں کی طرح برس رہے تھے۔ اسی ایک طوفان نے کاٹلنگ مردان میں کمال شاہ کا سب کچھ اجاڑ دیا۔ اس کا گھر متاثر ہوا، کھیتی باڑی تباہ ہوئی، سولر پینل برباد ہوگیا۔ وہ میرے سامنے بیٹھا تھا اور اس کی آنکھوں میں جینے کی رمق جیسے مدھم پڑ چکی تھی۔ اس نے صرف ایک جملہ کہا: "جی، میری مدد کریں"۔ اس ایک جملے نے دل کو ہلا دیا۔
میں نے چند دوستوں سے بات کی، کچھ اپنے ملک میں، کچھ بیرونِ ملک۔ سب نے حسبِ استطاعت ہاتھ بڑھایا۔ پہل بحریہ سے ڈاکٹر فرح ارشد نے کی، پھر مشی گن سے طاہر بھائی، نیو جرسی سے ریحان عثمانی، اسلام آباد سےسعد ارشاد، یاسر ارشاد، مصطفی ادریس اور قیصرہ شفقت وغیرہ، نے میری پکار پر لبیک کہا۔ یوں آہستہ آہستہ ایک رقم اکٹھی ہوئی۔ وہ رقم میں نے کمال شاہ کو اس نیت سے دی کہ یہ وقتی سہارا نہیں بلکہ مستقل سہولت بنے۔ شرط صرف ایک تھی کہ وہ اس سے کوئی باعزت کاروبار کرے، خیرات نہیں بلکہ خود داری کے ساتھ روزگار کھڑا کرے۔
کمال شاہ نے مردان میں ایک لوڈر خریدا اور ساتھ سامان بھی۔ یہی لوڈر اس کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بنا۔ اس نے محنت شروع کی، صبح سویرے سبزیاں اپنے کھیت سے لوڈ کرتا، منڈی سے سستے داموں مختلف اشیاء خرید کر شہر کے مختلف علاقوں میں فروخت کرتا۔ چھ ماہ کے اندر اندر اس کی زندگی کا نقشہ بدلنے لگا۔ آج اس کے گھر میں مستقل آمدن ہے، فاقہ نہیں، امید ہے اور سب سے بڑھ کر خود اعتمادی ہے۔
آج کمال شاہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا، وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب اداسی نہیں بلکہ شکر ہے، حوصلہ ہے اور مستقبل کی ایک واضح تصویر ہے۔ یہ سب کسی معجزے سے نہیں ہوا، بس چند لوگوں نے بروقت توجہ دی، درد کو محسوس کیا اور مدد کو صحیح سمت دی۔
ہم میں سے ہر ایک کے اردگرد کوئی نہ کوئی کمال شاہ موجود ہے۔ کوئی قدرتی آفت سے ٹوٹا ہوا، کوئی حالات کے بوجھ تلے دبا ہوا، کوئی ایک موقع کا منتظر۔ اگر ہم صرف چند قدم آگے بڑھا لیں، وقتی ہمدردی کے بجائے مستقل حل سوچ لیں، تو نہ جانے کتنے گھروں میں چراغ جل سکتے ہیں۔ انسانیت یہی ہے کہ کسی کو جینے کا سہارا دے دیا جائے، کیونکہ اصل دولت وہی ہے جو کسی کی زندگی سنوار دے۔

