Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Galiyat, Baad Az Kharabi Bisyar

Galiyat, Baad Az Kharabi Bisyar

گلیات، بعد از خرابی بسیار

ہم سمجھتے تھے کہ صرف مری اور مضافات ہی تباہ ہوئے ہیں، مگر گلیات تو اس سے بھی دو قدم آگے نکل چکا ہے۔ کل ایک ایسا منظر دیکھنے میں آیا جس نے برسوں سے دل میں اٹھنے والے سوالوں کو پھر تازہ کر دیا۔ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سیاحت و ثقافت ملک عدیل اقبال اچانک نتھیا گلی اور ڈونگا گلی پہنچے، غیر قانونی تعمیرات کا جائزہ لیا، جاری تعمیراتی کام رکوا دیا، متعلقہ اہلکاروں کی معطلی اور ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات بھی جاری کر دیے۔ سوال اٹھتا یہ ہے کہ جب پہاڑوں کا سینہ چھلنی ہو رہا تھا، جنگلات کاٹے جا رہے تھے اور کنکریٹ کا سیلاب بہہ رہا تھا، تب ریاست کہاں تھی؟

بہرحال ملک عدیل کا "عمران کے وژن" پہ لیکچر سن کے فارسی کا مقولہ یاد آ گیا۔

"آنچہ دانا کند، کندِ ناداں لیک بعد از خرابی بسیار"

(جو کام ایک سمجھ دار شخص شروع میں کرتا ہے، بے وقوف شخص بھی وہی کام کرتا ہے لیکن بہت نقصان اٹھانے کے بعد)

پنجاب کی شمال مشرقی سرحد پر باڑیاں بازار عبور کرتے ہی گلیات کا سلسلہ سوار گلی سے شروع ہوتا ہے۔ ستر کی دہائی میں جب جی ٹی ایس کی سلور رنگ بس ان دشوار گزار چڑھائیوں پر چڑھتی تھی تو دور دور تک آبادی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ پہلے سوار گلی، پھر خیرہ گلی، اس کے بعد نتھیا گلی، ایوبیہ اور ڈونگا گلی۔ یہی وہ علاقے تھے جہاں فلک بوس چیڑ اور دیودار کے جنگلات، بادلوں میں لپٹی پہاڑیاں اور فطرت کے دل موہ لینے والے مناظر پاکستان کی پہچان تھے۔

مگر وقت نے پلٹا کھایا۔ پنجاب میں تعمیرات پر کچھ سختیاں آئیں تو ملک بھر کے شکاریوں نے گلیات کا رخ کر لیا۔ شاید انہیں محسوس ہوا کہ یہاں قانون کمزور ہے، نگرانی برائے نام ہے اور احتساب کا کوئی خوف نہیں۔

بیوروکریٹس، سیاست دان، جرنیل اور سرمایہ دار، سب نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ کسی نے ہوٹل بنایا، کسی نے پلازہ، کسی نے فلیٹس کھڑے کیے اور کسی نے پہاڑ کا سینہ چیر کر محل تعمیر کر لیا۔

اداروں کی برسوں کی غفلت اور مجرمانہ چشم پوشی کے نتیجے میں غیر قانونی تعمیرات اس حد تک بڑھ گئیں کہ بالآخر 2026ء میں پشاور ہائی کورٹ کو مداخلت کرتے ہوئے پابندی عائد کرنا پڑی۔ یہ پابندی دراصل اس نظام پر فردِ جرم ہے جو وقت پر اپنا فرض ادا نہ کر سکا۔

صرف دو دہائیوں میں گلیات کا بڑا حصہ قدرتی جنگلات سے نکل کر کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوگیا۔

ایبٹ آباد اور مانسہرہ کا اس سے بھی برا حال ہے۔

عمران خان کے دورِ حکومت کے تین برس سیاسی کشمکش اور اقتدار کی چومکھی جنگ میں گزر گئے، جبکہ ان کے ماتحت بیوروکریسی اور وزراء نے مری اور گلیات کو کبھی سنجیدگی سے ترجیح نہ دی۔ مری کی تباہی میں تاہم معتبدہ حصہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ہی ہے جن کی طویل عرصہ حکومت رہی۔

گزشتہ دو ادوار سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے، اس لیے گلیات کی موجودہ حالت کی بڑی ذمہ داری اسی کے کھاتے میں جاتی ہے۔

ملک عدیل اقبال کی یہ کاروائی اس مریض کے علاج جیسی ہے جس کا مرض آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہو۔ اگر یہی سختی دس برس پہلے دکھائی جاتی تو شاید آج گلیات کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

اب گلیات مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ پورے علاقے کا غیر جانبدارانہ ماحولیاتی اور تعمیراتی آڈٹ کیا جائے، ماسٹر پلان پر بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور اس وقت تک ہر نئی تعمیر پر مکمل پابندی برقرار رکھی جائے جب تک قانون کی حکمرانی اور جنگلات کا تحفظ یقینی نہ ہو جائے۔

خرابی ابھی بھی رک جائے تو غنیمت جانیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Silent Spring, Fitrat Ki Khamosh Cheekh

By Asif Masood