Thursday, 05 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Duayen Qubool Hoti Hain

Duayen Qubool Hoti Hain

دعائیں قبول ہوتی ہیں

یہ 28 فروری 2020کی ایک خنک دوپہر تھی۔ آج ڈیلفٹ یونیورسٹی میں میرا آخری دن تھا۔ صبح گیارہ بجے انتطامیہ کی طرف سے ہمیں فئیر ویل دی جا چکی تھی۔ میں نے صبح نو بجے روٹرے ڈیم سٹوڈنٹ ہوٹل سے اپنا کمرہ چھوڑ دینا تھا اور وطن واپس روانہ ہونا تھا۔

دوپہر ایک بجے یونیورسٹی کی کیفے ٹیریا میں ہم کلاس فیلوز نے آخری لنچ لیا۔ میرے گروپ فیلوز میرے ہمراہ تھے۔ کیرالہ سے ٹومس، یمن سے سعدی، اردن سے موتاز، ایران سے ایل ناز اور انڈونیشیا سے رستیانہ۔۔ ہم خاموش تھے، کبھی کبھار کوئی بول لیتا تھا، ہمیں معلوم تھا ہمارا یہ مختصر ساتھ اب ہمیشہ کے لئے ٹوٹنے والا تھا۔ کچھ ماہ کی یہ عارضی کمپینین شپ اب ہوا میں یوں تحلیل ہو جانی تھی، جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ زندگی کا سفر بھی یونہی عارضی ہوتا ہے۔ کردار ملتے ہیں پھر بچھڑ جاتے ہیں، اکثر کبھی دوبارا نہ ملنے کے لئے۔ یہ تو براعظمی اکٹھ تھا، یہاں تو دوبارا ملنے کے امکانات ویسے ہی بہت معدوم تھے۔

کھانے کی میز سے ہم سب منتشر الذہنی کے ساتھ اٹھے۔ میں بوجھل قدموں سے سیڑھیاں چڑھ کے اوپر لابی میں شیشے کی دیوار کے ساتھ جا بیٹھا۔ نیچے باہر نظر دوڑائی تو ہالینڈ کے لوگوں کی زندگی رواں دواں تھی، دور سامنے ٹرام کا ٹریک بھی نظر آ رہا تھا، جس پہ وقفے وقفے سے ٹرام گزر رہی تھی۔

یوں ایسے ہی میرے دل میں ایک خیال آیا، کیا میں یہاں کبھی دوبارا آ پاؤں گا؟ یونیورسٹی کے درو دیوار سے مجھے انسیت سی ہوگئی تھی۔ کیفے ٹیریا کی مس مارتھا کو طرف دھیان چلا گیا، جو ہر روز ہمیں کھانے کی ٹرے پکڑاتے ہوئے کہتی تھی "انجوائے یور میل"۔۔ مجھے پتہ تھا وہ کل بھی یہی کہہ رہی ہوگی، پر ہم نہیں ہوں، ہماری جگہ کوئی اور ہوگا۔

یہ سب سوچتے سوچتے دل اداس ہوا، پھر ایسے ہی میری نظر صاف نیلگوں آسمان کی طرف پڑی، دل سے ایک آہ نکلی، مجھے لگا قدرت میری اس حالت پہ مسکرا رہی ہے، انجانے میں دل سے دعا نکلی یا اللہ کیا ایک دفعہ پھر میں زندگی میں یہاں زندگی میں آ سکتا ہوں؟

شائید وہ قبولیت کی گھڑی تھی، کچھ اور مانگتا تو وہ بھی مل جاتا۔

پھر دوبارا جب جہاز کے پہیوں نے ایمسٹرڈیم کے شیفول Schiphol ائیرپورٹ پہ لینڈ کیا تو یہ 15 دسمبر 2021 کی دوپہر تھی۔ قدرت نے مجھ سے جو واپسی کا عہد کیا تھا، وہ پورا ہوا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ میں دوبارا ہالینڈ کی دھرتی پہ قدم رکھ چکا ہوں، مگر یہ ہو چکا تھا۔ میں اگلے سال کے اختتام سے قبل ہی وہاں دوبارا موجود تھا۔ یہ حیرت انگیز تھا، کرونا اب عروج پہ تھا، ایمسٹرڈیم میں مکمل لاک ڈاؤن تھا، مگر میں اپنی ڈیلفٹ یونیورسٹی کے ریکٹر ایڈی مور Eddy Moor کی وجہ سے پھر یہاں پہنچ چکا تھا۔

ائیر پورٹ سنسان تھا، چند گورے میرے ساتھ ایمیریٹس ائیر لائن پہ یہاں پہنچے تھے۔ وہ یو کے، یورپئین والی لائین میں تھے اور میں "دوسری نیشنلیٹیز" والی لائن میں۔ میں شائید واحد بندہ تھا، امیگریشن خاتون افسر مجھے دیکھ کے پریشان تھی۔ اس موسم اور لاک ڈاؤن میں کوئی ٹورسٹ یہاں کب آتا ہے۔ اگر میں اس کو کہتا بھی کہ میں ٹورسٹ ہوں تو اس نے یقین نہیں کرنا تھا۔ جب میں نے اسے بتایا میری ڈیلفٹ یونیورسٹی کے ریکٹر سے میٹنگ ہے تو اس کے چہرے پہ اطمینان کی لہر دوڑی۔ مسرور ہو کے اس نے مجھے ویلکم ٹو نیدرلینڈز کہا۔

ائیرپورٹ کے باہر مجھے میرا کراچی کا دوست خورشید لینے پہنچا ہوا تھا۔ اس نے بھی جپھی ڈالتے ہوئے یہی سوال پوچھا، اس موسم میں کیسے؟

خورشید کو میں نے کہا تمہاری محبت مجھے کھینچ لائی ہے۔ پھر مجھے اس کو پوری کہانی سنانی پڑی۔ ویسٹ واٹر مینجمنٹ کا جو کورس میں کرکے گیا تھا، اس سے متعلقہ کچھ ذیلی اسائنمنٹس تھیں، جو یونیورسٹی کے کہنے پہ میں نے رضاکارانہ طور پہ اپنے ذمے لی تھیں۔ اب انھیں کی بابت میں نے یونیورسٹی ریکٹر اور واٹر ریسورسز کے ڈاکٹر الیاس کو تفصیلی بریفننگ دینی تھی۔ یہ بریفننگ میں زوم پہ بھی دے سکتا تھا لیکن میری ہی ریکوئسٹ پہ انھوں نے مجھے کمال مہربانی سے باوجود لاک ڈاؤن کے ان پرسن بلا لیا تھا۔ یہ سب تو محض بہانے تھے، اصل میں تو جو آہ نکلی تھی، وہ اثر پذیر ہوئی، قدرت نے میری خواہش پوری کرنی تھی، باقی تو بہانے تھے۔

بہت پہلے مستنصر حسین تارڑ کا ایک سفر نامہ پڑھا تھا، وہ جوانی میں جب روم میں تریوی فاؤنٹین پہنچے تو انھوں نے وہاں سیاحوں کو تالاب میں سکے ڈال کے منتیں مانتے دیکھا۔ انھوں نے بھی سکہ پھینک کے منت مانی تھی۔ پتہ نہیں وہ پوری ہوئی یا نہیں، میں سوچ رہا تھا ہیگ میں جا کے ان کے صاحبزادے سے پوچھ لوں جس کی تعیناتی وہاں بطور سفیر شائید ہو چکی تھی۔ یہ بھی بتاؤں گا کہ ڈیلفٹ یونیورسٹی کے فرسٹ فلور پہ گرے شیشے کے پیچھے بیٹھ کر کوئی منت مانو تو وہ بھی پوری ہوتی ہے۔

ڈیلفٹ یونیورسٹی میں جب اگلے دن میں ریکٹر ایڈی مور کے سامنے کھڑا تھا تو وہ بھی حیرت زدہ تھا۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یونیورسٹی بند تھی، ڈاکٹر الیاس بھی میری وجہ سے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے بتایا گزشتہ فروری میں شارٹ کورسز والا آپ کا آخری بیچ تھا۔ اس کے بعد کوئی فزیکل ایجوکیشن نہیں ہوئی۔ لاتعداد اموات ہوئی ہیں۔ اٹلی کے کچھ شہروں سے بوڑھوں کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔ مجھے انھوں نے بھی حیرت سے پوچھا آپ کیسے آ گئے ہیں۔ پھر مجھے ساری کہانی ان کو سنانی پڑی۔ تاہم ان کو میں نے یہ نہیں بتایا کہ مستنصر تارڑ کی طرح میں بھی اندر سے تو ڈرا ہوا تھا، وہ جب بائی روڈ افغانستان سے روڈ کراس کرتے ہوئے کوہ آرارات پہنچنے تو بلندی پہ چلتی ان کی بس میں ان کو بھی بڑے ہولناک خیالات آئے۔ اسی طرح کے خیالات مجھے بھی کرونا سرٹیفکیٹ بنواتے ہوئے آئے تھے، نجانے واپس وطن پہنچ پاؤں گا یا نہیں؟

ریکٹر ایڈی مور جب خود کچن میں جا کے میری کافی کے لیے مگ دھو رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا، یہ سین میری قسمت میں لکھا تھا۔ کافی ٹیبل پہ جب میں، ایڈی اور الیاس غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے، تو میں قدرت کی فیاضی پہ ہنس پڑا۔ کسی ایک کی خواہش پوری کرنے کے لئے قدرت کیسے واقعات کے تانے بانے بنتی ہے۔ پھر میری خواہش پہ ڈاکٹر الیاس نے میری اور ایڈی مور کی ایک الوداعی تصویر بنائی، عقب میں کرسمس ٹری جگمگا رہا تھا، لیکن اس دفعہ جب دوبارا میں نے انسٹی ٹیوٹ آف واٹر ایجوکیشن ڈیلفٹ کو خدا حافظ کہا تو کوئی اور منت نہ مانی۔ کیونکہ اب میں مطمئن اور مسرور تھا اور خدا کا بے حد شکر گذار تھا۔ ویسے بھی منتیں بار بار ماننا ٹھیک نہیں ہوتا۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Kahanion Ke Takhayul Se Aari Bache

By Syed Badar Saeed