Sunday, 25 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Barf Ka Tufan Aur Bijli Ka Taveel Breakdown

Barf Ka Tufan Aur Bijli Ka Taveel Breakdown

برف کا طوفان اور بجلی کا طویل بریک ڈاؤن

حال ہی میں ڈپٹی کمشنر مری آغا ظہیر شیرازی اور وزیر سی اینڈ ڈبلیو جناب صہیب برتھ صاحب ہائی وے مکینکل ڈویژن کے ساتھ برفیلی ہواؤں میں برف صاف کرتے نظر آئے۔ ادھر مری اور مضافات میں شدید برفباری کی وجہ سے بجلی کے طویل بریک ڈاؤن کی خبریں بھی آئیں۔ کیا وجہ ہے کہ منتظمین شہر کو اکیسویں صدی میں بھی خود کے فوٹو سیشن کے ذریعے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ موسمی Catastrophe کو نمٹنے کے لئے خود میدان عمل میں ہیں؟

برفیلی ہواؤں میں مری جیسے پہاڑی سیاحتی شہر میں حالیہ برفباری کے دوران کئی دن بجلی کا بریک ڈاؤن اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اوور ہیڈ بجلی کا نظام شدید موسم میں غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ برف، تیز ہوائیں اور درختوں پر جم جانے والی برف بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچاتی ہے، کھمبے ٹوٹ جاتے ہیں اور پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مقامی آبادی بلکہ سیاحت، کاروبار اور ایمرجنسی سروسز کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ نظام زندگی بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔

دنیا کے کئی پہاڑی اور برفانی علاقوں نے مگر اس مسئلے کا عملی حل بہت پہلے اختیار کر لیا تھا۔ بھارت کے معروف پہاڑی شہر شملہ میں حالیہ برسوں میں بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر یوٹیلیٹی لائنز کو مرحلہ وار زیرِ زمین منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ بارش اور برفباری کے موسم میں بار بار کے بریک ڈاؤن سے بچا جا سکے اور شہر کی خوبصورتی بھی برقرار رہے۔ اگرچہ شملہ میں یہ نظام ایک دن میں مکمل نہیں ہوگا، لیکن 127 کروڑ کی ابتدائی فنڈنگ اور منظم منصوبہ بندی کے ذریعے مرکزی اور حساس علاقوں سے آغاز کرکے اسے پھیلایا جا رہا ہے۔

اسی طرح سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی علاقوں، خصوصاً الپس کے قصبوں اور دیہات میں، بجلی کی بڑی تعداد زیرِ زمین کیبلز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ وہاں شدید برفباری، منفی درجہ حرارت اور برفانی طوفان معمول کی بات ہیں، مگر اس کے باوجود بجلی کا نظام نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔ زیرِ زمین لائنیں نہ صرف موسم کے اثرات سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ حادثات، آگ لگنے اور بصری آلودگی جیسے مسائل بھی پیدا نہیں کرتیں، جو پہاڑی سیاحتی مقامات کے لیے بے حد اہم ہے۔

انڈر گراؤنڈ بجلی کا نظام اگرچہ ابتدا میں مہنگا محسوس ہوتا ہے، مگر طویل مدت میں اس کے فوائد کہیں زیادہ ہیں۔ بار بار مرمت، ہنگامی بحالی، سیاحتی نقصان اور عوامی مشکلات پر اٹھنے والے اخراجات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر کا حسن برقرار رہتا ہے، درختوں کی غیر ضروری کٹائی نہیں ہوتی اور عوام کو محفوظ بجلی میسر آتی ہے۔

مری کے لیے بھی یہی ماڈل قابلِ عمل ہے۔ ایک ہی بار پورے شہر کو کھودنے کی بجائے، مرحلہ وار حکمتِ عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے اُن علاقوں کو منتخب کیا جائے جہاں برفباری کے دوران سب سے زیادہ بریک ڈاؤن ہوتے ہیں، یا جہاں سیاحتی اور تجارتی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔ وہاں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر انڈر گراؤنڈ کیبلنگ کی جائے، نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اسے بتدریج پورے شہر تک پھیلایا جائے۔

اگر پنجاب حکومت واقعی مری کو ایک محفوظ، جدید اور بین الاقوامی معیار کا سیاحتی مقام بنانا چاہتی ہے تو بجلی کے نظام کو زیرِ زمین منتقل کرنا محض سہولت نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ شملہ اور سوئس پہاڑی علاقوں کی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ یہ کام ممکن بھی ہے اور مؤثر بھی۔ درست منصوبہ بندی، عالمی اداروں سے شفاف فنڈنگ اور مرحلہ وار عملدرآمد کے ذریعے مری کو ہر سرد موسم میں اندھیروں اور بریک ڈاؤن سے مستقل نجات دلائی جا سکتی ہے۔

اور ہاں، ڈی سی صاحب سے ایک اور گذارش ہے، اب رئیل ٹائم مانیٹرنگ کا زمانہ ہے، ہائی وے کے دفتر اور ڈپٹی کمشنر آفس میں کم از کم مری شہر کی حد تک نمک پاشی، مکینکل کلیننگ، ڈیزل اخراجات اور مشینری اور اہلکاروں کی ڈپلائمنٹٹ کو سکرین پہ اور سافٹ وئیرز کی مدد سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔ تھوڑا سا ایڈوائس چلیں، زمانے بدل گئے ہیں، مری کو سمارٹ سٹی ڈکلیئر کریں، ٹیکنالوجی لے آئیں، خود بھی سردی سے بچیں اور عوام کو بھی مشکلات سے بچائیں۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Kya Maryam Nawaz Ka Punjab Badle Ga?

By Muhammad Waqas