Baye Min Allah
بيع من الله
اصحاب رسول اللہ ﷺ میں س السابقون والاولون سب سے زیادہ قابل تکریم اور بلند درجہ کے لوگ ہیں، یعنی اس امت کے Elites. صہیب ابن سنانؓ ان میں سے ایک ہیں، ساتویں یا نویں ایمان لانے والوں میں سے ایک ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے یثرب کی طرف عام ہجرت کا اعلان کیا اور تمام لوگوں کو کوچ کرنے کی نصیحت اور اجازت کی، تب دو لوگوں نے پوری جرأت اور بہادری کے ساتھ ہجرت کی ہے، ان میں ایک ہے قریشی، عمر ابن خطابؓ اور دوسرا ہے غیر قریشی، صہیب ابن سنان الرومیؓ۔
صہیبؓ مزدور پیشہ اور جفاکش تاجر تھے۔ جو کچھ جمع کیا تھا، وہ اکھٹا کیا، مکہ کے جوانوں میں excellent archor تھے۔ عمر 30 اور 35 کے درمیان تھی، archor and arrows کے ساتھ مسلح ہو کر ہجرت کے سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ مکہ کے بیرونی مضافات میں قریش کے کفار جوانوں نے گھیرنے کی کوشش کی، صہیبؓ بھانپ گئے اور ایک قریب ہی چٹان پر چڑھ گئے۔
اپنے Archor n Arrow کو تیار کیا اور aim کے لیا۔
Sohaib (May the Lord be happy with him, and raise his honours to the highest) warned all of them infidels.
" You know me very well, you are aware of my archery skills. I never miss, and, what I will do is, one shot one kill. I will shoot at you to the last of my arrows. Then, I shall unleash my sword, and eventually you all shall hardly survive. "
کفار صہیبؓ کے ہنر کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اس لیے متذبذب ہوگئے اور صہیبؓ سمجھ گئے۔
Sohaib (May the Lord peace be upon him) offered a deal to them nervous infidels۔
"Let's do a generous deal, you take all my money and wealth, and leave my way, we depart from each other with harmony of a peace accord."
کفار کے جوان راضی ہو گئے، صہیبؓ نے اپنا سارا اثاثہ ان کے حوالے کیا اور پوری خوش دلی کے ساتھ یثرب کی طرف اکیلے ہی پیدل روانہ ہوئے
تن تنہا سولہ دن کے سفر کے بعد چاشت کے وقت قباء پہنچے، رسول اللہ ﷺ اصحاب من المہاجرین والانصار کے ساتھ بیٹھے تھے، ابھی فیصلہ تقریباً 700 میٹر کا باقی تھا، رسول اللہ ﷺ کی نظریں اپنے صاحب صہیبؓ سے ملیں، آواز نہیں پہنچی تھی، وحی کے آثار ظاہر ہوئے، آیات نازل ہونا شروع ہوئی۔
اتنی دیر میں صہیبؓ قریب ترین پہنچ گئے، تب رسول اللہ ﷺ پر وحی مکمل ہو چکی تھی، صہیبؓ کو سنائی۔
۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشُتَرَىٰ مِنَ ٱلُمُؤُمِنِينَ أَنفُسَهُمُ وَأَمُوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلُجَنَّةَ ۚ يُقَتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقُتُلُونَ وَيُقُتَلُونَ ۖ وَعُدًا عَلَيُهِ حَقًّۭا فِى ٱلتَّوُرَىٰةِ وَٱلُإِنجِيلِ وَٱلُقُرُءَانِ ۚ وَمَنُ أَوُفَىٰ بِعَهُدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسُتَبُشِرُوا۟ بِبَيُعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعُتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلُفَوُزُ ٱلُعَظِيمُ 111- التوبه
"Surely، Allah has bought their lives and their wealth from the believers, in exchange of (a promise) that Paradise shall be theirs. They fight in the way of Allah, and kill and are killed, on which there is a true promise (as made) in the Torah and the Injīl and the Qurān. And who can be more faithful to his covenant than Allah? So, rejoice in the deal you have made, and that is the great achievement. "
جب سے وحی کا یہ حصہ نازل ہوا ہے اور جب تک پڑھا جاتا رہے گا، اس کا اجر اور صلہ صہیبؓ کے نام لکھا جائے گا۔
کچھ اسباق:
1۔ When there is a true will, then there's always a enlightened and graceful way out۔
2۔ Islam encourages every individual to learn modern skills at the best, and, motivates to adopt to them.
3۔ Skills and preparedness is key for success, ask yourself every night, Are you prepared for tomorrow?"
4۔ An everyday new learning is genuine essence of Islam.
اس کی خوبی کی وجہ سے بوقت شہادت عمر ابن خطابؓ نے اپنی تمام وصایہ کی تکمیل کے لیے صہیبؓ کو کہا تھا جب کہ اپنی اولاد میں تمام لوگ، ام المؤمنین حفصہ ؓ، عبداللہ ابن عمرؓ اور عبیداللہ ابنِ عمرؓ ابھی موجود تھے۔
1۔ میری نماز جنازہ صہیبؓ پڑھائے گا۔
2۔ امت کی خلافت کے لیے جو چھ اصحاب، ہیں عشرہ مبشرہ رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نامزد کیے ان کی نگرانی صہیبؓ کریں گے اور اگر کوئی نافرمانی کرے گا، تب صہیبؓ کو اختیار ہے کہ قتل کی سزا دے دے۔
صہیب ابنِ سنانؓ کی یاد آئی، اسی لیے یہ مضمون صہیب ابن سنانؓ کی یاد میں لکھا گیا اور انھیں dedicate کرتا ہوں۔

