Banglay Ki Baoli
بنگلے کی باؤلی

ناطق کے بارے میں یہ بات تو کلیشے کی مد میں داخل ہوگئی ہے کہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں بےپناہ و بےمحابا ہیں جو افسانہ، ناول، نظم، غزل، تحقیق، تاریخ، خاکہ نگاری سے آگے بڑھ کر تعمیرات کے مدار تک پھیلی ہوئی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تمام تر ادبی اور فنی سرگرمیوں کے عین بیچوں بیچ وہ پروفیسروں، نقادوں، لبرلوں، سرخوں، ملحدوں، متشککوں، تکفیریوں، این جی او والوں اور حکومتی گماشتوں، سے آٹھ مکھی بھی لڑنے میں مصروف ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ دن میں آٹھ دس میل واک بھی کرتا ہے۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے اتنا وقت کہاں سے نکال لیتا ہے؟انہی سرگرمیوں بلکہ سرگرانیوں کا ایک ثبوت اس کا تازہ بتازہ افسانوی مجموعہ بنگلے کی باؤلی ہے، جسے بک کارنر جہلم نے روایتی سلیقے سے چھاپا ہے۔
اس مجموعے میں کل چودہ افسانے شامل ہیں، جن میں تکنیک کی گھمن گھمیریاں ہیں، نہ کوئی علامتی شکست و ریخت ہے، نہ طول طویل فکری بحثیں، نہ ادب کے نام پر ادیب کے نظریاتی لیکچر۔ گویا وہ تمام لٹھ مفقود ہیں جنہیں ہاتھ میں پکڑ کر اردو افسانہ نگاروں نے پچھلے پچاس ساٹھ برس میں قاری کو ادب کے میدان سے بھگایا تھا اور وہ غریب آج تک کوئی ادبی کتاب اٹھانے سے یوں ڈرتا ہے جیسے افیمچی پانی سے۔
اس کے برعکس ناطق کے یہ افسانے قاری سے مکالمہ کرتے ہیں، اسے وہ بسرا بسرایا سبق یاد دلاتے ہیں کہ ادب کا ایک کام پڑھنے والے کو روحانی بالیدگی اور فرحت فراہم کرنا ہوتا ہے، انہیں کہانی سنانا ہوتا ہے، انہیں کرداروں سے ملوانا ہوتا ہے۔ ایسی کہانی جس کے ساتھ وہ جڑت محسوس کریں، ایسے جیتے جاگتے، سانس لیتے، زندگی جھیلتے، دکھ بھوگتے کردار جن کے ساتھ وہ مکالمہ کر سکیں، کہہ سکیں، ہاں، میں نے ایسا بندہ دیکھ رکھا ہے، ہاں، میں اس شخص کو جانتا ہوں۔۔
بنگلے کی باؤلی میں دو چار نہیں، درجنوں ایسے کردار ہیں۔ چاہے وہ شکاری کی جھیل، کا اختر لاہوریا ہو، بستی دلا راس، کی دادی ہو، درویش کا مقبرہ، کا سائیں دودے شاہ ہو، بنگلے کی باؤلی، کا انور شیرازی ہو، عزت کا زوال، کا پروفیسر ہو، یا تراب بھائی تالے والا، کا تراب بھائی ہو۔ یہ سارے کردار مجسم ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ صاف لگتا ہے کہ یہ گھڑے گھڑائے مصنوعی کردار نہیں، بلکہ انہیں مصنف نے اردگرد بکھری زندگی کے جھاڑ جھنکار میں سے اٹھایا ہے اور مانجھ سنوار کر کہانیوں میں پرو دیا ہے۔
بنگلے کی باؤلی، کا موازنہ ناطق کے پہلے دو افسانوی مجموعوں سے کرنا بھی خاصا دلچسپ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اب اس کا قلم زیادہ منجھ گیا ہے اور جس بات کو بیان کرنے میں پہلے وہ پیراگراف لیتا تھا، اب ایک جملے میں سمٹا کر کہنے پر قادر ہوگیا ہے۔
کتاب پڑھتے ہوئے تراب بھائی کے بنائے ہوئے پان کا ذائقہ زبان پر محسوس ہونے لگتا ہے۔ بستی دلا راس تھری ڈی کی صورت میں ابھرتی ہے، اندھے کی لاٹھی میں وریام کے کردار کی خباثت مجسم ہو کر سامنے آ جاتی ہے، سائیں دودے شاہ کا جلال کاغذ میں سے برسنے لگتا ہے۔
ناطق کے ادبی ارتقا کی بات ہو رہی ہے تو یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ جہاں قائم دین اور دوسری کہانیاں اور شاہ محمد کا ٹانگہ، میں بیشتر افسانے دیہاتی زندگی کی معصومیت اور ہلکا پھلکاپن لیے ہوئے ہیں (اچھو بازی گر، مومن والا کا سفر، شاہ مدار کی پازیبیں، کت، شاہ محمد کا ٹانگہ)، جب کہ اس مجموعے کے افسانے خاصے سنگین یا ڈارک، ہو گئے ہیں جن میں دہرے تہرے قتل، ڈاکہ، اغوا، تاوان جیسے موضوعات شامل ہیں۔
شاید اس کا تعلق کسی حد تک اس بات سے بھی ہو کہ عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ ناطق کو احساس ہو رہا ہے کہ زندگی اس سے کہیں زیادہ کڑوی ہے جیسی چوتھائی صدی قبل کے نوجوان افسانہ نگار نے سوچی تھی۔

