Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Shatranj Master Madni

Shatranj Master Madni

شطرنج ماسٹر مدنی

سیمی پلاٹنسک یونیورسٹی کی فضا میں پنجابی پٹھان، سینئر جونیئر کا لازوال ثقافتی تبادلہ یعنی جھگڑا، روزانہ کا ایسا سیریل تھا جس کا کوئی اختتام نہ تھا، یہ بات ڈھکی چھپی نہ تھی کہ اکثر سینئر حضرات بلاوجہ ہی اپنا اختیار استعمال کرتے تھے اور کبھی صرف اس لیے ڈانٹ دیا کہ ہمیں بھی کسی نے ڈانٹا تھا! یہ روایت نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی، لیکن مزے کی بات یہ تھی کہ یہی جونیئر جب اگلے سال سینئر بنتے تو اچانک ان کی یادداشت کمزور ہو جاتی اور وہی ڈائیلاگ، وہی انداز، وہی رعب، گویا کل تک مظلوم تھے، آج نظام کے رکھوالے بن گئے، اصل میں یونیورسٹی زندگی کا یہ مصالحہ تیکھا ضرور لگتا ہے مگر یادوں میں ہمیشہ ذائقہ چھوڑ جاتا ہے، ان سب عجوبوں میں ایک خوبصورت بات مشترک تھی، خواب! سب اپنی اپنی دنیا سے نکل کر یہاں آئے تھے، کچھ بننے، کچھ کرنے اور کچھ سیکھنے کے لیے، ہنسی مذاق، غلط انگریزی اور عجیب عادتوں کے باوجود، یہی لوگ بعد میں ایک دوسرے کا سہارا بنے، دوست بنے اور زندگی کے سنجیدہ موڑوں پر ساتھ کھڑے نظر آئے، ماسوائے پٹھان حضرات جو بلاوجہ پنجابیوں کے ساتھ الجھنا پیدائشی فرض سمجھتے تھے۔

سیمی یونیورسٹی کا سالانہ کرکٹ ٹورنامنٹ کوئی عام کھیل تماشہ نہیں ہوتا تھا، ہر ڈیپارٹمنٹ اپنی ٹیم کو ایسے پیش کرتا جیسے ورلڈ کپ جیتنے جا رہا ہو، قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ انجام ہمیشہ ایک ہی ہوتا، پنجاب الیون کی فتح! جیت کے بعد کپتان اظہر ستار فاتح جرنیل کی شان اپنا کر چلتے دکھائی دیتے، ہر قدم میں اعتماد، ہر گھماؤ میں غرور اور ہر چھلانگ میں یہ پیغام کہ کپ تو ہمارا ہی ہے۔

پنجاب الیون فائنل جیت کر واپس آئی تو ہوسٹل کے دروازے کے باہر حسبِ روایت ماحول اچانک میلہ مستانہ بن گیا، سینئرز پورے جوش میں ہُلڑ بازی کو ایک باقاعدہ فن کا درجہ دے رہے تھے، اظہر ستار اس ساری محفل کے روحِ رواں تھے، ایک ہاتھ میں کپ، دوسرے ہاتھ سے ہوا میں اشارے اور قدموں میں ایسا ردھم کہ بھنگڑا بھی شرما جائے! ان کے گرد ساتھی کھلاڑی یوں گھوم رہے تھے جیسے سیارے اپنے سورج کے گرد، ہر ایک اپنی خوشی کا الگ انداز لیے ہوئے، ہوسٹل کے در و دیوار بھی شاید مسکرا رہے تھے کہ آج پھر زندگی جیت گئی۔

پنجاب الیون کی فتح کا نشہ ابھی تک ہوا میں گھلا ہوا تھا، جشن اپنے عروج پر تھا، نعرے، قہقہے اور ہلکی پھلکی ٹرولنگ، سب کچھ حسبِ روایت چل رہا تھا، مدمقابل ٹیم میں مدنی کے میڈیکل گروپ کے ارکان کی خاصی تعداد تھی، جو خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی، اسی دوران ایک زیادہ ہی تخلیقی ذہن رکھنے والے شرارتی نے آگے بڑھ کر ٹرافی اٹھائی، اسے ہوا میں جھنڈے کی طرح لہرایا اور پوری طاقت سے للکارا: "ہم سا ہو تو سامنے آئے!"

یہ جملہ ہوا میں تیر کی طرح گیا اور سیدھا کچھ چہروں پر جا لگا، قہقہے آہستہ آہستہ مدھم پڑنے لگے، مسکراہٹوں کی جگہ سنجیدگی نے لے لی، ہُلڑ بازی بڑھ گئی، مدنی جو عام طور پر خاموش، متوازن اور ہر بات کو مسکرا کر ٹال دینے والا سمجھا جاتا تھا، آگے بڑھا، چبوترے پر چڑھا اور پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ چمک نظر آئی جو عام طور پر فلموں کے ہیرو کے کلائمکس سین میں ہوتی ہے، اس نے پورے وقار کے ساتھ، مگر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا: آؤ، شطرنج کھیلتے ہیں"۔ ایک لمحے کے لیے سب کو سانپ سونگھ گیا، میدانِ کرکٹ سے سیدھا میدانِ شطرنج، یہ ٹوئسٹ کسی نے نہ سوچا تھا، پنجاب الیون کے جوشیلے سپورٹرز بھی الجھ گئے کہ یہاں تو چھکے چھڑانے کی بات ہو رہی تھی اور مدنی صاحب دماغ کے گھوڑے دوڑانے کی دعوت دے رہے ہیں! مگر یہی تو اصل خوبصورتی تھی، جہاں ایک طرف طاقت اور شور کا کھیل تھا، وہاں مدنی نے حکمت، صبر اور ذہانت کا میدان سجا دیا، یہ چال واقعی زبردست تھی۔

مدنی کو کرکٹ کھیلتے کسی نے نہیں دیکھا تھا، اس کی دنیا بادشاہ، وزیر، توپ، ہاتھی، گھوڑے اور پیادے کے گرد گھومتی تھی، ہوسٹل میں اگر کسی نے چیک میٹ کا لفظ سیکھا تھا تو وہ مدنی کی بدولت، اس نے پورے ہوسٹل کو شطرنج کی الف ب بھی سکھا دی تھی، یوں سمجھ لیں کہ ہر کمرے میں شطرنج کا ایک آدھ کھلاڑی ضرور موجود تھا، مگر استاد صرف ایک، مدنی! مخالف کی ہر چال چلنے سے پہلے ہی توڑ اس کی جیب میں موجود ہوتا تھا، بندہ ابھی گھوڑا سیدھا کرتا، اُدھر مدنی مسکرا کر کہتا: "یہ چال تین قدم بعد آپ کو پچھتاوے پر مجبور کرے گی" اور واقعی تین چالوں بعد بیچارہ مات کھا چکا ہوتا۔

بڑے بڑے خود ساختہ گرینڈ ماسٹرز اس کے سامنے بیٹھے، پورے اعتماد سے، مگر اُٹھے ہمیشہ خاموشی اور حیرانی کے ساتھ، جیت جیسے مدنی کی مستقل رہائشی ہو، بغیر کرائے کے! ہمیشہ ٹھنڈے مزاج کا مالک مدنی اس دن بھڑکتے ہوئے غصے میں بولا: "مجھے کرکٹ کھیلنا نہیں آتا، جو کھیل میں جانتا ہوں، اس کا چیلنج عام ہے"۔ گونجتی آوازیں یکدم دب گئیں، سب ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے، یہ چیلنج مذاق نہیں تھا! پنجاب الیون کے چند بہادر کھلاڑی آگے بڑھے، مگر فوراً ہی سمجھدار ساتھیوں نے سمجھایا کہ عقل سے کام لو! کرکٹ میں تم جیت گئے ہو، شطرنج میں اپنی عزت نہ ہرواؤ!

سب جانتے تھے کہ مدنی کو شطرنج میں ہرانا جیسے ہتھیلی پر سرسوں جمانا، نہ ممکن، نہ آسان، بس ایک خوبصورت خیال! بیچارے اپنے جوش کو ضبط کرتے رہے، غصہ اندر ہی اندر نگل لیا، بات اگر وہیں ختم ہو جاتی تو شاید یہ ایک عام سا واقعہ رہ جاتا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، پنجاب الیون کے نعروں نے مدنی کے اندر سویا ہوا شطرنجی شیر جگا دیا، اگلے لمحے اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا، ہم کمرے کی جانب بڑھے، مدنی نے شطرنج بورڈ اٹھایا اور مجھے حکم صادر ہوا: "فانٹا کا کارٹن اٹھاؤ، کندھے پر رکھو"۔

پھر جو ہوا، وہ لینن ہوسٹل نمبر 3 کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانے والا منظر تھا، مدنی آگے، میں پیچھے، مدنی ہر کمرے کے دروازے پر دستک دیتا، دروازہ کھلتا، کوئی آدھی نیند میں، کوئی کتاب ہاتھ میں، کوئی چائے کا کپ سنبھالتا ہوا اور سامنے مدنی پورے رعب سے اعلان کرتا: "شطرنج کھیلیں گے؟ جیت گئے تو ایک کارٹن فانٹا آپ کا"۔ پہلے تو لوگ سمجھتے کہ شاید مذاق ہو رہا ہے، پھر مدنی کی سنجیدہ شکل دیکھتے تو صورتحال کی نزاکت سمجھ آ جاتی، کسی نے معذرت کر لی، کسی نے بہانہ بنایا کہ ابھی اسائنمنٹ مکمل کرنی ہے اور کچھ ایسے غائب ہوئے جیسے کمرے میں کبھی تھے ہی نہیں!

پورا ہوسٹل ایک عجیب سی خاموشی اور دبی دبی ہنسی کے درمیان جھولنے لگا، لوگ دروازوں کے پیچھے سے جھانک جھانک کر یہ تاریخی جلوس دیکھ رہے تھے، شطرنج کے بے تاج بادشاہ مدنی کے سامنے بیٹھنے کا حوصلہ کسی میں نہ تھا، سب کو معلوم تھا کہ یہ صرف کھیل نہیں بلکہ عزت کا امتحان ہوگا اور نتیجہ پہلے سے طے شدہ! مدنی کے حکم پر ہم نیچے اترے اور ہوسٹل کے چبوترے پر شطرنج بچھا کر ہر آتے جاتے کو آوازیں دینے لگے، یہ شطرنجی للکار جاری رہی، مگر کوئی بھی میدان میں اُترنے کی ہمت نہ کر سکا، آخرکار فانٹا کا کارٹن سلامت رہا اور مدنی کی بادشاہت بھی!

آخرکار جب معاملہ شطرنجی انقلاب کی شکل اختیار کرنے لگا تو چند سمجھدار سینیئرز صورتحال کی نزاکت بھانپ کر آگے بڑھے، بڑے ادب اور نرمی سے مدنی کی منت سماجت شروع ہوئی جیسے کسی ناراض بادشاہ کو راضی کیا جا رہا ہو، "یار مدنی، بس کرو، بات ختم کرو، سب اپنے ہی لوگ ہیں"۔ مدنی کے چہرے پر اب بھی غصے کی ہلکی سی جھلک تھی، مگر اس غصے کے پیچھے ایک اصولی بات چھپی ہوئی تھی، کسی نیوٹرل بندے کو بلاوجہ چھیڑنا! یہ کھیل کی خوبصورتی کے خلاف ہے، سینیئرز کی باتوں، ماحول کی نرمی اور شاید اندر کے ٹھنڈے مزاج نے آخرکار مدنی کو قائل کر ہی لیا، اس نے شطرنج بورڈ کو واپس بغل میں دبایا، ایک ہلکی سی مسکراہٹ دی اور طوفان آہستہ آہستہ تھم گیا، فانٹا کا کارٹن کھول کر سب کی تواضع کی گئی، ہر میدان کا اپنا بادشاہ ہوتا ہے، کرکٹ میں پنجاب الیون کا راج سہی مگر شطرنج کی بساط پر مدنی کا سکہ چلتا تھا۔

Check Also

Sabr Aur Shukr, Momin Ki Zindagi Ke 2 Bunyadi Satoon

By Dawood Ur Rahman