Friday, 24 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Nafrat Kese Ki Jaye?

Nafrat Kese Ki Jaye?

نفرت کیسے کی جائے؟

نفرت ایک ایسا جذبہ ہے جو بظاہر بہت سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کی تہہ میں اُتر کر دیکھا جائے تو یہ انسانی نفسیات کا نہایت پیچیدہ اور گہرا پہلو ہے۔ انسان محبت کی طرح نفرت بھی سیکھتا ہے اور اس کے اظہار کے طریقے بھی سماج اور حالات کے زیرِ اثر تشکیل پاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نفرت کیسے کی جائے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ انسان نفرت کی طرف کیوں مائل ہوتا ہے اور یہ جذبہ اس کی شخصیت اور معاشرے پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔

نفرت کا بنیادی تصور کسی شے یا فرد سے شدید ناپسندیدگی اور بیزاری کا اظہار ہے۔ یہ ایک منفی جذبہ ہے جو انسان کے اندر فاصلے پیدا کرتا ہے۔ جہاں محبت انسان کو قریب لاتی ہے وہاں نفرت دوری پیدا کرتی ہے۔ نفرت میں صرف اختلاف نہیں ہوتا بلکہ اس میں دوسرے کو رَد کرنے اور اس کے وجود کو کمتر سمجھنے کا رُجحان بھی شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نفرت اکثر تعصب اور تنگ نظری کو جنم دیتی ہے۔

نفرت کرنے کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے انسان کے باطنی خوف اور عدم تحفظ کو دیکھنا ضروری ہے۔ اکثر لوگ اس چیز سے نفرت کرتے ہیں جسے وہ سمجھ نہیں پاتے یا جس سے انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ خطرہ حقیقی نہیں ہوتا بلکہ ذہنی تصور ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف مذاہب زبانوں یا ثقافتوں کے لوگوں کے درمیان نفرت اکثر لاعلمی اور غلط فہمی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ نفرت دراصل ایک دفاعی ردِعمل بھی ہو سکتی ہے جس کے ذریعے انسان اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے۔

نفرت کا تعلق اخلاقی رویوں سے گہرا ہے۔ ایک مہذب اور اخلاقی معاشرہ انسان کو برداشت اور رواداری سکھاتا ہے جبکہ غیر متوازن معاشرہ نفرت کو ہوا دیتا ہے۔ جب انسان میں برداشت کم ہو جائے اور وہ دوسروں کی رائے یا طرزِ زندگی کو قبول نہ کرے تو نفرت جنم لیتی ہے۔ اخلاقیات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اختلاف کے باوجود انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ اس لحاظ سے نفرت ایک غیر اخلاقی رویہ بن جاتی ہے کیونکہ یہ انسان کو انصاف اور ہمدردی سے دور لے جاتی ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ نفرت تعمیری ہے یا تخریبی۔ عمومی طور پر نفرت کو تخریبی جذبہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ انسان کے اندر منفی توانائی پیدا کرتی ہے۔ نفرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور سوچ کو محدود کر دیتی ہے۔ تاہم بعض فلسفی یہ کہتے ہیں کہ اگر نفرت ظلم، ناانصافی یا برائی کے خلاف ہو تو یہ کسی حد تک تعمیری پہلو بھی رکھ سکتی ہے۔ مگر یہاں بھی اصل بات نفرت نہیں بلکہ انصاف کا جذبہ ہوتا ہے۔ خالص نفرت کبھی بھی مثبت نتائج پیدا نہیں کرتی بلکہ یہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔

نفرت سے پروان چڑھنے والی شخصیات عام طور پر منفی سوچ کی حامل ہوتی ہیں۔ ایسے لوگ دوسروں کی کامیابی سے جلتے ہیں اور ہر چیز میں نقص تلاش کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں تلخی اور رویے میں سختی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے اندر اعتماد اور محبت کی کمی ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ نفرت ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

معاشرے پر نفرت کے اثرات نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ جب ایک معاشرے میں نفرت بڑھتی ہے تو وہاں تقسیم اور انتشار پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں اور اجتماعی ترقی رُک جاتی ہے۔ تاریخ میں کئی جنگیں اور فسادات نفرت کے نتیجے میں ہی رونما ہوئے ہیں۔ نفرت قوموں کو کمزور کر دیتی ہے کیونکہ یہ اتحاد کو ختم کر دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں تو ترقی کا عمل سُست پڑ جاتا ہے۔

ملک کی سطح پر نفرت سیاسی اور سماجی عدم استحکام کا باعث بنتی ہے۔ جب حکمران یا بااثر طبقات نفرت کو فروغ دیتے ہیں تو عوام کے درمیان خلیج بڑھ جاتی ہے۔ اس سے قانون کی حکمرانی متاثر ہوتی ہے اور انصاف کا نظام کمزور ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نفرت غالب ہو وہاں امن اور خوشحالی کا تصور محض خواب بن کر رہ جاتا ہے۔

شاعروں نے نفرت کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ اردو شاعری میں نفرت کو اکثر محبت کے مقابلے میں دکھایا گیا ہے۔ شاعر یہ بتاتے ہیں کہ نفرت دل کو ویران کر دیتی ہے جبکہ محبت اسے آباد کرتی ہے۔ بعض شُعرا نے نفرت کو انسان کی کمزوری قرار دیا ہے اور اس کے نقصانات کو اُجاگر کیا ہے۔ ان کے اشعار میں یہ پیغام ملتا ہے کہ نفرت انسان کو اس کی اصل انسانیت سے دور کر دیتی ہے۔

فلسفیوں نے نفرت کو انسانی فطرت کا ایک حصہ تسلیم کیا ہے مگر ساتھ ہی اس پر قابو پانے کی تلقین بھی کی ہے۔ کچھ فلسفی یہ سمجھتے ہیں کہ نفرت لاعلمی سے پیدا ہوتی ہے اور علم کے ذریعے اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک جب انسان حقیقت کو سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دل میں نفرت کی جگہ ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔ فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر انسان کے عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور اس وجہ کو سمجھے بغیر نفرت کرنا انصاف نہیں۔

روحانی سکالرز نے نفرت کو انسان کے باطن کی بیماری قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک نفرت دل کو آلودہ کر دیتی ہے اور انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے۔ روحانیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دل کو صاف رکھا جائے اور دوسروں کے لیے خیر خواہی کا جذبہ پیدا کیا جائے۔ صوفیاء کرام نے ہمیشہ محبت اور رواداری کا درس دیا ہے اور نفرت کو ترک کرنے کی تلقین کی ہے۔ ان کے نزدیک اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنے دل سے نفرت کو نکال دے اور محبت کو جگہ دے۔

اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ نفرت کا حل نفرت میں نہیں بلکہ محبت اور سمجھ بوجھ میں ہے۔ انسان جب اپنے اندر کے خوف اور تعصبات کو پہچان لیتا ہے تو وہ نفرت سے نجات پا سکتا ہے۔ تعلیم اور شعور اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک باشعور معاشرہ نفرت کی بجائے مکالمے کو ترجیح دیتا ہے اور اختلاف کو برداشت کرتا ہے۔

مختصر یہ کہ نفرت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو وقتی طور پر تسکین تو دے سکتا ہے مگر طویل مدت میں یہ اس کی شخصیت اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نفرت کی بجائے محبت اور رواداری کو فروغ دیں تاکہ ایک پُرامن اور خوشحال معاشرہ تشکیل پا سکے۔

Check Also

Kal Raat Khwab Mein Char Dahaiyon Baad Wo Makan Dekha

By Mubashir Ali Zaidi