Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Ye Kainat Abhi Natamam Hai Shayad (1)

Ye Kainat Abhi Natamam Hai Shayad (1)

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید (1)

قارئین محترم، آج کا موضوع بہت وسیع بلکہ اس میں اہل علم کے لئے بہت بڑی نشانیاں ہیں۔ ترجمعہ قرآن۔ وہی اللہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ (سورتہ الانبیاء آیت 33)

اس موضوع سے جڑے ہوئے کچھ حقائق نبی رحمت ﷺ کی زبان مبارک سے خصوصاََ آسمانوں اور عرش الہیٰ کے بارے میں ہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان 500 سال کی دوری یعنی فاصلہ ہے (اب یہ حقیقت اللہ کریم بہتر جانتا ہے کہ کس رفتار سے سفر کیا جائے تو یہ سفر طے ہوگا مطلب روشنی کی رفتار سے سفر کیا جائے یا اس کا کوئی اور پیمانہ ہے۔ (واللہ علیم بذات الصدور) اور اسی طرح دوسرے آسمان سے تیسرے آسمان کے درمیان 500 سالوں کا فاصلہ ہے اب اس طرح سے جب سات آسمانوں کے درمیان سفر کیا جائے تو ہر آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان 500 سال کا فاصلہ تو گویا سات آسمانوں کے سفر کو طے کرنے کے لئے تقریباََ 3500 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

ان سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے بقول قرآن کریم۔ ان کے یعنی آسمانوں کے اوپر وسع کرسی۔ اب یہ کرسی کس طرح کی ہیت اور شکل اور سائز کی ہے اس کا علم اللہ پاک کی زات کو ہے۔ اب ایک بات سمجھنے کی ہے کہ کرسی اور عرش الگ الگ ہیں ہوسکتا ہے کچھ لوگ ان کو ایک ہی سمجھتے ہوں مگر یہ دونوں جدا جدا ہیں۔ اب کرسی کے اوپر کیا ہے 500 سال کی مسافت پر پانی ہے۔

اب یہ پانی اتنا وسیع و عریض ہے کہ عقل و فہم سے ماورا ہے اتنا پانی کائنات میں نہیں ہے۔ اب اس پانی کے اوپر کیا ہے 500 سال کی دوری پر عرش معلی ہے۔ حدیث پا ک کے مطابق اللہ پاک کا عرش معلی پانی کے اوپر ہے اور اس عرش معلی پر اللہ تبارک و تعالی کی زات اپنے جلال کے مطابق مستوی ہے جیسے اللہ کی شان کو لائق ہے اور اللہ پاک کے عرش کو فرشتوں نے تھاما ہوا ہے اور چونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے پاک ظاہری وجود کے ساتھ معراج شریف کا سفر کیا تو آپ نے اس کے بارے میں آگاہی فرمائی۔

اب جن فرشتوں نے عرش کریم کو تھاما ہوا ہے ان میں سے ایک فرشتے کا سائز اتنا بڑا ہے کہ اگر ایک پرندہ فرشتے کے کان کی لو سے یعنی ear lobe سے اس کے کندھے تک آئے گا تو اس کو 700 سال لگیں گے اس پرندے کو سفر کرتے ہوئے۔ تو آپ صرف سوچ سکتے ہیں کہ عرش الہیٰ کو تھامے ہوئے ان فرشتوں کا سائز کیا ہوگا اور وہ عرش کریم کس سائز کا ہوگا۔ اس کے بارے میں کماحقہ علم تو علیم و خبیر زات کو ہے مگر ایک بات سے آپ کو اندازہ بتاتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ پہلا آسمان دوسرے آسمان کی نسبت ایسا ہے جیسے کہ ایک انگوٹھی جو صحرا میں پڑی ہو۔ مثال کے طور پر صحرائے صحارہ جو ریت کا وسیع صحرا ہے اس میں ایک انگوٹھی پڑی ہو۔ یعنی کہ انگوٹھی پہلا آسمان ہے اور صحر ا صحارا دوسرا آسمان ہے۔ مطلب پہلے سے دوسرا آسمان اتنا بڑا ہے۔

اب اسی طر ح دوسرے سے تیسرا آسمان اتنا بڑا ہے اسی طرح چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں اور ہر اوپر والا آسمان نیچے والے آسمان سے اتنا زیادہ بڑا ہے جیسے انگوٹھی کے مقابل صحرا۔ اب اسی طرح عرش الہیٰ اتنا بڑا اور عظیم ہے جیسے تمام کائنات اور تخلیقات ایک انگوٹھی ہوں اور عرش الہیٰ ایک عظیم اور وسیع صحرا۔ اب اس بات سے اللہ کی کائنات کی وسعت و عظمت اور جلال و جبروت کا اندازہ ہوگیا ہوگا اور پھر وہ خود کتنی عظیم تر زات ہوگی۔

قرآن پاک کہتا ہے کہ اللہ نے کائنات یعنی زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے مطلب انسان اور دوسری مخلوقات کو تقریباََ 6 دنوں میں پیدا کیا ہے۔ اسی طرح زمین اور ہر وہ چیز جو اس نے اپنی موجودہ شکل میں پیدا کی ہے وہ دو ادوار سے موجود ہے۔ cosmology یعنی کائنات کا جو جدید علم وہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ کائنات تقریباََ 13.7 بلین سال پرانی ہے اور زمین تقریباََ 4.54 بلین سال پرانی ہے تو اس طرح یہ اس بات کی دلالت ہے کہ جو قرآن نے بتایا کہ یہ تکمیل 2 ادوار میں مکمل ہوئی۔

ایک اور آیت میں فرمایا گیا۔ ترجمہ قرآن اور اس نے اس کی سطح پر پہاڑوں کو مضبوطی کے ساتھ رکھ دیا اور اس نے اس میں برکت دی اور اس کی مخلوقوں کی روزی کو چار دنوں میں بلا تفریق مقرر کیا۔ پوچھنے والوں کے لئے۔ (قرآن 41: 10)۔ پھر اس سے اگلی آیت میں قرآن پاک میں زکر فرمایا۔ ترجمعہ قرآن۔ پھر اس نے اپنے آپ کو آسمان کی طرف متوجہ کیا جب کہ وہ دھواں تھا۔ اس سے اور زمین سے کہا آو اپنی مرضی سے یا مجبوری سے۔ کہنے لگے ہم اپنی مرضی سے آئے ہیں۔ (القران 41: 11)

اب ہم زرا جدید سائنس کے حساب سے زمین اور سورج اور نظام شمسی کے بارے میں تھوڑا جانتے ہیں۔ زمین سورج کے گرد تقریباََ 108,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر لگاتی ہے۔ جو کہ 30 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار بنتی ہے جو کہ گولی کی رفتار سے 60 گنا زیادہ ہے اور ہماری زمین ہر سال 924 ملین کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔ ہمارا نظام شمسی خلا میں تقریباََ 720,000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے حرکت کر رہے ہیں۔ جو کہ تقریباََ 200 کلومیٹر فی سیکنڈ بنتا ہے۔ سورج زمین سے تقریباََ 106 گنا بڑا ہے اور اسی طرح سورج کے اندر 1.3 زمین سما سکتی ہے اور زمین سے سورج کا فاصلہ ایک محتاط اندازے کے مطابق قریبا 150 ملین کلومیٹر ہے پھر بھی جب سورج اپنی آب و تاب سے چمکتا ہے تو ہم پسینہ سے شرابور ہو جاتے ہیں وہ خالق کائنات کتنی عظیم و برتر زات ہے جس نے اپنی تخلیق کو اتنی حدت اور حرارت نصیب فرمائی۔

سورج کی یہ ہی حرارت نظام زندگی کو رواں دواں رکھنے میں معاون ہے۔ زمین اپنے محور کے گرد 1609 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے۔ جو کہ دن اور رات کی تبدیلی کی ذمہ دار ہے۔ اگر زمین اپنے گھومنے کی رفتار میں صرف 321 کلومیٹر کم کر دے تو دن انتہائی گرم اور راتیں انتہائی سرد ہو جائیں گی جس سے زندگی عدم توازن کا شکار ہو کر رہ جائے۔ یہ ہی توازن اور اللہ کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے جس سے نظام فطرت احسن طریقے پر اپنے معمولات کی انجام دہی کر رہا ہے اس وقت مخصوص تک جب ہونے والی واقع ہوجائے۔ یعنی قیامت۔

یہ کائنات ابھی نا تمام ہے شاید
کہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

جاری ہے۔۔

Check Also

Malik Ambar Se Kuch To Seekh Lijye

By Rao Manzar Hayat