Maan Kis Par Karen
مان کس پر کریں

انسان کی فطرت ہے کہ وہ "مان" رکھتا ہے، کسی نہ کسی پر، کسی نہ کسی رشتے پر۔ ہم اپنے قریبی لوگوں پر مان کرتے ہیں، اپنی محبتوں پر یقین رکھتے ہیں، مگر زندگی آہستہ آہستہ یہ سکھاتی ہے کہ جن پر ہم سب سے زیادہ مان کرتے ہیں، وہی کبھی نہ کبھی ہمارا مان توڑ دیتے ہیں۔
ایسے میں دل سوال کرتا ہے۔
آخر مان کس پہ کریں؟
لیکن اس سوال سے پہلے ایک اور سوال خود سے کرنا ضروری ہے۔
کیا ہم نے کبھی کسی کا مان نہیں توڑا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم سب انسان ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہر ٹوٹے ہوئے مان پر رشتہ توڑ دینا حل نہیں، بلکہ اصل خوبصورتی رشتہ نبھانے میں ہے۔
میں خود اس حقیقت کو اپنی زندگی میں محسوس کر چکی ہوں۔ ایک وقت تھا جب میں سب کو خوش رکھنے کے لیے اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال دیتی تھی۔ پھر میں نے آہستہ آہستہ اپنی پہچان بنانے، اپنی ترجیحات طے کرنے اور اپنے لیے کھڑا ہونا سیکھا۔ اس تبدیلی کے ساتھ مجھے یہ بھی سمجھ آیا کہ ہر کوئی ہمیں ہر وقت سمجھ نہیں سکتا۔
زندگی کے کچھ مراحل ایسے بھی آتے ہیں جب انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، جب اسے لگتا ہے کہ اس کا مان بار بار ٹوٹ رہا ہے۔ لیکن انہی لمحوں میں ایک دروازہ کھلتا ہے۔ اللہ کی طرف رجوع کا دروازہ۔
جب انسان لوگوں سے توقعات کم کرکے اللہ سے مانگنا شروع کرتا ہے، تو اسے ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اللہ سننے والا بھی ہے، جاننے والا بھی ہے اور راز رکھنے والا بھی ہے۔ وہ بندے کے حال کو اس سے بہتر جانتا ہے۔
تب سمجھ آتا ہے کہ شاید کچھ رشتوں کا پیچھے ہٹ جانا بھی ایک سبق تھا تاکہ ہمارا تعلق اللہ سے مضبوط ہو جائے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انسانوں کے حقوق بھول جائیں۔ دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنا کردار درست رکھیں، اپنے فرائض ادا کریں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی کریں۔ چاہے ہمیں ویسا بدلہ نہ بھی ملے۔
قرآن کا پیغام ہے: "برائی کو اس بھلائی سے ٹالو جو سب سے بہتر ہو"۔
اسی لیے معاف کرنا سیکھیں، مگر خود کو مٹانا نہیں۔ اگر کوئی رویہ بار بار آپ کو تکلیف دے، آپ کی عزتِ نفس کو مجروح کرے، تو وہاں رک کر سوچنا ضروری ہے۔
ہر کسی کو بار بار موقع دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کے ساتھ فاصلہ اور احترام ہی بہترین حل ہو سکتے ہیں۔ یہی توازن زندگی کو سنوارتا ہے۔ جہاں دل صاف بھی رہے اور خودی بھی محفوظ رہے۔ معافی دل کو آزاد کرتی ہے اور حدود انسان کو مضبوط بناتی ہیں۔
آخر میں یہی سچ سامنے آتا ہے: مان لوگوں پر کریں گے تو ٹوٹے گا۔ مان اللہ پر کریں گے تو سنبھل جائے۔ مان صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر کریں۔ رشتے نبھائیں، مگر اپنی عزتِ نفس بھی محفوظ رکھیں معاف کریں، مگر اپنی حدود قائم رکھیں۔
اپنے فرائض ادا کریں اور امید اللہ کی ذات اور اخری دن پر رکھیں کیونکہ ہمیں اجر اور ہمارے اعمال کا اصل حساب وہیں ہونا ہے۔ یہ سوال میرا نہیں میرے استاد محترم کا ہے اور میں اس سوال پر ان کا بہت بہت شکریہ ادا کرتی ہوں اللہ تعالی انہیں جزائے خیر دے۔ کیونکہ انہوں نے صرف مجھ سے سوال ہی نہیں کیا بلکہ مجھے زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت کو دیکھنے اور بیلنس کرنے کی صلاحیت پر کام کرنے کے لیے مجبور کیا جس کے بعد میری زندگی میں 70 فیصد اسانیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالی میرے استاد محترم کو دنیا اور اخرت دونوں کی نعمتوں سے نوازے اور انہیں ان کے مقصد میں کامیابی عطا کریں۔

