Friday, 24 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Atif Kazmi
  4. Bad Tameez Senior

Bad Tameez Senior

بدتمیز سینئر

پاکستان میں بڑھاپا کوئی عمر نہیں ایک "عہدہ" ہے۔ جیسے ہی کوئی بندہ پچاس پچپن کے پیٹے میں جاتا اور بالوں میں دو چار چاندی کے تار نمودار ہوتے ہیں یوں لگتا ہے جیسے حکومت نے بغیر فیس، بغیر ٹیسٹ، سیدھا مستقل بنیادوں پر اسے "بدتمیزی کا لائسنس" جاری کر دیا ہو۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں جملوں کا مفہوم کچھ یوں بدل جاتا ہے۔

"بیٹا ادب سیکھو" کا مطلب ہوتا ہے "میں جو کہہ رہا ہوں وہی آخری سچ ہے" اور "ہم نے دنیا دیکھی ہے" دراصل ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہر نئی سوچ کو وہیں گولی مار دی جاتی ہے جہاں وہ بیچاری دماغ سے نکلنے کو زور لگا رہی ہوتی ہے۔

محفل میں اگر کوئی نوجوان ذرا اونچی ڈکار بھی لے لے تو فوراً کسی بزرگ کی آواز گونجتی ہے "اوئے یہ کیسا انداز ہے؟ ہمارے سامنے؟" اور پھر اگلے ہی لمحے وہی بزرگ اگر "پاد" مار کے دھرتی ہلا دے تو بھی خیر ہے کہ بڑی آنت کمزور ہے، معدہ و گیس کا مسئلہ ہے۔ یہ لوگ کسی کی نوکری، شکل، کپڑوں یا شادی نہ ہونے پر ایسا تبصرہ کر دیتے ہیں کہ بندے کا دل کرتا سرف کھا کر مر جائے لیکن اگر آپ نے ہلکی سی بھی مزاحمت کی تو فوراً جذباتی سین شروع "آج کل کے بچے بڑوں کی عزت ہی نہیں کرتے"۔ گویا عزت کوئی ATM کارڈ ہے جو صرف ایک طرف سے نکلتا ہے واپس جمع نہیں ہوتا۔ یہ بزرگ خواتین و حضرات اپنی ہر بات کے آخر میں ایک جذباتی بم بھی رکھتے ہیں "ہم نے تمہیں بڑا ای اوکھا پالا ہے"۔ اب آپ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ انہوں نے اگر اوکھا پالا ہے تو ہم نے کونسا عیاشی کی ہم نے بھی اوکھا ہونے کی مشقت برابر جھیل کر جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا ناں۔

اور اگر کبھی آپ نے ہمت کرکے کہہ دیا۔ "بابا جی بات کرنے کا کوئی مہذب طریقہ بھی ہوتا ہے"۔ تو بس پھر سمجھیں آپ نے گناہ کبیرہ کر دیا۔ اگلے لمحے وہ خود کو مظلومیت کا زندہ مجسمہ بنا لیتے ہیں"ہاں ہاں ہمیں اب کہاں عقل رہی، تم بہت بڑے ہوگیے ہو ساری عقل تم میں ہی ہے، ہائے ہائے ہماری تو کوئی عزت ہی نہیں"۔ حالانکہ پانچ منٹ پہلے وہ آپ کی عزت کو جوتے کی نوک پر رکھ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پروٹیکشن دینے کو بھی کچھ لوگ دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہیں۔

"ارے یہ تو بوڑھا بندہ ہے۔ سَتر بَہتر میں آ کر بندے کو ویسے بھی سمجھ نہیں لگتی تم تو جوان ہو تمہیں چاہیے کہ حوصلے سے کام لو"۔ جب کہ عین اسی لمحے ان بزرگان کے مسکراتے ہونٹوں کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے "مشن" کی کامیابی پہ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اصل مسئلہ شاید عمر نہیں عادت ہے۔ ہم نے احترام کو یک طرفہ ٹریفک بنا دیا ہے جس میں گاڑیاں صرف چھوٹوں کی طرف سے آتی ہیں اور بڑے مخالف سمت میں بھی پوری رفتار سے بغیر کسی اشارے کے گاڑی دندناتے پھرتے ہیں۔ کاش کبھی ایسا بھی ہو کہ بڑھاپا بدتمیزی کے استحقاق کی بجائے صرف جھریوں اور تجربے کا نام ہو۔ جہاں بزرگ ہونا ایک سایہ ہو، ٹھنڈا، محفوظ اور نرمی بھرا سایہ نہ کہ ایک ایسی چھڑی جس سے ہر گزرتے نوجوان کی خودداری پر کاری ضرب لگائی جائے۔

آپ یقین کریں یا نہ کریں ہمارے ہاں کچھ لوگ بوڑھے نہیں ہوتے وہ صرف "بدتمیز ہونے میں سینئر" ہو جاتے ہیں۔

Check Also

Nafrat Kese Ki Jaye?

By Mohsin Khalid Mohsin