Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Azam
  4. Falsafa e Karbala: Aik Amli Pegham

Falsafa e Karbala: Aik Amli Pegham

فلسفۂ کربلا: ایک عملی پیغام

ماہ محرم اسلامی تاریخ کا وہ عظیم باب ہے جو قربانی، استقامت، حق پرستی اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی لازوال داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہر سال محرم آتے ہی دنیا بھر کے مسلمان، خصوصاً امام حسینؑ سے عقیدت رکھنے والے مجالس عزا کا انعقاد کرتے ہیں، ان کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں، ان پر ڈھائے گئے مظالم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کی یاد میں اشک بہاتے ہیں۔ یہ تمام امور اپنی جگہ نہایت اہم اور قابلِ احترام ہیں کیونکہ یہ محبت، عقیدت اور وابستگی کا اظہار ہیں۔ لیکن اگر ہم محرم کے پیغام کو صرف ان رسومات تک محدود کر دیں اور یہ سمجھ لیں کہ ہماری ذمہ داری صرف مجالس برپا کرنے، واقعات سننے اور گریہ کرنے تک ہی محدود ہے تو ہم کربلا کے حقیقی مقصد کو پوری طرح نہیں سمجھ پائیں گے۔

عام طور پر ہم "واقعۂ کربلا" کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک دائمی فلسفہ، ایک زندہ فکر اور ایک ایسا عملی دستور ہے جو ہر دور کے انسان کو زندگی گزارنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ تاریخ کے واقعات اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں لیکن ان کی اصل اہمیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ان سے حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ اگر کربلا صرف ایک ایسا واقعہ بن کر رہ جائے جسے ہر سال یاد کر لیا جائے تو اس کا اثر محدود رہ جاتا ہے لیکن جب ہم اسے فلسفۂ کربلا کے طور پر سمجھتے ہیں تو اس کا دائرہ ہر زمانے، ہر معاشرے اور ہر انسان کی زندگی تک پھیل جاتا ہے۔

مجالس، عزاداری اور امام حسینؑ کی یاد منانا یقیناً اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہی اجتماعات ہمیں امام حسینؑ کی سیرت، ان کی قربانی اور دین کی حفاظت کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں سے روشناس کراتے ہیں۔ لیکن یہ تمام اعمال اسی وقت اپنی حقیقی روح حاصل کرتے ہیں جب ان کے اثرات ہمارے کردار، ہمارے اخلاق اور ہمارے طرز عمل میں بھی نمایاں ہوں۔ اگر محرم ختم ہونے کے بعد ہماری زندگی پہلے جیسی ہی رہے، اگر ہمارے اندر جھوٹ، ناانصافی، ظلم، منافقت، بزدلی، رشوت اور حق سے چشم پوشی برقرار رہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے واقعی امام حسینؑ کے پیغام کو سمجھا بھی ہے یا نہیں۔

امام حسینؑ نے اپنی جان، اپنے اہل بیت، اپنے بچوں اور اپنے وفادار ساتھیوں کی قربانی صرف اس لیے نہیں دی کہ آنے والی نسلیں ہر سال ان کی شہادت پر آنسو بہائیں بلکہ اس لیے دی کہ حق ہمیشہ زندہ رہے اور ظلم کبھی قابل قبول نہ بن سکے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ حق کی خاطر ہر قربانی دی جا سکتی ہے، لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا جا سکتا۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کبھی حق اور باطل آمنے سامنے ہوں، اگر انصاف اور ظلم میں انتخاب کرنا پڑے، اگر سچ بولنے کی قیمت ادا کرنی پڑے تو ایک ایک بار کردار انسان کو حق کا ساتھ دینا چاہیے خواہ اس کے لیے جان، مال، عزت، عہدہ یا دنیاوی مفادات ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑیں۔

یزید صرف چودہ سو سال پہلے گزر جانے والے ایک حکمران کا نام نہیں بلکہ وہ ظلم، جبر، تکبر، ناانصافی اور اقتدار کے ناجائز استعمال کی علامت بن چکا ہے۔ اسی طرح امام حسینؑ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ حق، عدل، آزادی، شجاعت، دیانت اور انسانی وقار کی علامت ہیں۔ اسی لیے ہر دور میں حسینی کردار بھی موجود رہتا ہے اور یزیدی صفات بھی۔ آج بھی جہاں کہیں ظلم ہے، جہاں کسی کمزور کا حق چھینا جا رہا ہے، جہاں طاقتور اپنی قوت کے بل بوتے پر انصاف کو پامال کر رہا ہے، جہاں رشوت، بدعنوانی، جھوٹ، دھوکہ اور استحصال عام ہے وہاں یزیدی صفات موجود ہیں۔ یہ صفات صرف حکمرانوں میں نہیں ہوتیں بلکہ ہمارے دفاتر، اداروں، بازاروں، گھروں، گلی محلوں اور روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں میں بھی نظر آ سکتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ماضی کے یزید پر لعنت بھیجنے میں تو کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے لیکن اپنے دور کے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے سے اکثر گریز کرتے ہیں۔ ہم امام حسینؑ سے محبت کا دعوا تو کرتے ہیں مگر جب اپنے مفاد، ملازمت، کاروبار یا سماجی دباؤ کا معاملہ آتا ہے تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر ہمارے سامنے کسی کا حق مارا جا رہا ہو، کسی مظلوم پر ظلم ہو رہا ہو، کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہو یا معاشرے میں ناانصافی عام ہو اور ہم صرف اپنی سہولت یا خوف کی وجہ سے خاموش رہیں تو ہمیں اپنے حسینی ہونے کے دعوے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

حقیقی حسینی وہ نہیں جو صرف محرم کے چند دن سیاہ لباس پہن لے، مجالس میں شرکت کر لے یا شہادت امام حسینؑ پر اشک بہا لے بلکہ حقیقی حسینی وہ ہے جو اپنی پوری زندگی کو امام حسینؑ کے کردار کا آئینہ بنا دے۔ جو سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہو، امانت و دیانت کو اپنا شعار بنائے، مظلوم کا ساتھ دے، ظالم کے سامنے کلمہ حق بلند کرے، انصاف پر قائم رہے اور اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر حق کا علم بلند رکھے۔ اگر ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات، ہماری عبادات اور ہمارے معاشرتی رویے حسینی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتے تو ہمیں اپنی وابستگی کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

فلسفۂ کربلا ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی حق کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے خواہ اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ پیغام ہے جو ہر دور، ہر معاشرے اور ہر فرد کے لیے یکساں اہم ہے۔ آج ہمارے معاشرے کو صرف مجالس کے سامعین نہیں بلکہ حسینی کردار کے حامل افراد کی ضرورت ہے۔ ایسے افراد جو اپنے عمل سے سچائی، انصاف، دیانت، صبر، ایثار اور مزاحمت کو فروغ دیں۔

Check Also

America Aur Bharat Ka Romance Khatam Ho Raha Hai

By Mubashir Ali Zaidi