Etemad Ki Shikast
اعتماد کی شکست
رات کے آخری پہر کی خاموشی میں ایک عجیب اذیت ہوتی ہے۔ ایسی اذیت جو شور نہیں کرتی، صرف اندر ہی اندر انسان کو چاٹتی رہتی ہے۔ اختر اکثر انہی ساعتوں میں جاگتا رہتا تھا۔
کھڑکی کے پار پھیلے اندھیرے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوتا جیسے زندگی میں ہر خوبصورت چیز کو بچانے کے لیے انسان کو سخت ہونا پڑتا ہے۔ وہ نرم مزاج آدمی نہیں تھا مگر بے رحم بھی نہیں تھا۔ اس کی سختی کے پیچھے ایک خوف چھپا تھا، کھو دینے کا خوف۔ وہ مریم سے بے حد محبت کرتا تھا۔ ایسی محبت جس میں آدمی خود کو بھی بھول جاتا ہے۔
دفتر سے واپسی پر سب سے پہلے بچے کو گود میں لیتا پھر مریم کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور لاتا۔ کبھی اس کی پسند کی چوڑیاں، کبھی کتابیں، کبھی بے وجہ پھول۔ لوگ اس کے مزاج سے خوف کھاتے تھے مگر مریم جانتی تھی کہ اختر کا دل غیر معمولی حد تک محبت کرنے والا تھا اسی لیے وہ حساس تھا۔ شدید حساس۔
اسے یہ برداشت نہیں تھا کہ کوئی غیر مرد مریم کو اس نظر سے دیکھے جس نظر سے وہ خود دیکھتا ہے۔ وہ محتاط رہنے کو محبت کا حصہ سمجھتا تھا، جبکہ مریم کبھی کبھی اسی محتاط رویے کو گھٹن محسوس کرنے لگتی۔ مگر اس گھٹن کے باوجود وہ یہ جانتی تھی کہ اختر وفادار آدمی ہے۔ خالص اور یک طرفہ محبت کرنے والا آدمی اور شاید یہی چیز بعد میں اس کے جرم کو اور بھی سنگین بنا دینے والی تھی۔
زندگی میں بعض حادثے اچانک نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی سے انسان کے اندر بنتے رہتے ہیں۔ مریم کے اندر بھی ایک خلا تھا، ایک ایسا خلا جسے وہ خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں پاتی تھی۔ شادی، بچہ، گھر، آسائش سب کچھ ہونے کے باوجود کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا جیسے اس کی ذات کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ اسی دوران ایک دن سلمان دوبارا اس کی زندگی کے دروازے پر آ کھڑا ہوا۔ ایک پرانا نام۔ ایک پرانی یاد۔ ایک ایسا شخص جس کے ساتھ کبھی اس نے جذباتی وابستگی محسوس کی تھی۔
ابتدا صرف ایک رسمی پیغام سے ہوئی۔
"کیسے ہو؟"
مریم نے یہ جملہ لکھتے وقت نہیں سوچا تھا کہ چند لفظ انسان کی پوری زندگی میں زہر گھول سکتے ہیں۔ مگر بعض تعلقات ختم ہونے کے بعد بھی انسان کے اندر زندہ رہتے ہیں۔ وہ راکھ کے نیچے دبی چنگاریوں کی طرح ہوتے ہیں خاموش مگر مکمل طور پر بجھے ہوئے نہیں۔
بات چیت شروع ہوئی پہلے ماضی کا ذکر، پھر احساسات، پھر وہ جملے جنہیں ایک شادی شدہ عورت کو کسی غیر مرد سے نہیں کہنا چاہیے اور یہی وہ مقام تھا جہاں یہ محض "غلطی" نہیں رہی تھی۔ یہ ایک دھوکہ تھا۔
اس آدمی کے ساتھ دھوکہ جو اس پر اپنی دنیا سے زیادہ یقین کرتا تھا۔ کیونکہ محبت میں بے وفائی صرف تعلق نہیں توڑتی، انسان کے اندر موجود اعتماد، تحفظ اور خودداری کو بھی قتل کر دیتی ہے۔
اختر کو اپنی بیوی پر اندھا اعتبار تھا۔ اس نے کبھی مریم کی جاسوسی نہیں کی تھی۔ اس کی سختی دنیا کے لیے تھی مگر دل میں مریم کے کردار کے لیے عجیب سا یقین موجود تھا۔ اسے لگتا تھا کہ محبت اگر سچی ہو تو آدمی کم از کم اپنے محبوب میں محفوظ رہتا ہے۔ مگر بعض اوقات انسان باہر کے طوفانوں سے بچ جاتا ہے اپنے گھر کے اندر اٹھنے والی دراڑوں سے نہیں۔ اس رات بھی اختر دیر سے گھر آیا تھا۔
مریم بچے کو سلاتے ہوئے سو گئی تھی۔ فون اس کے ہاتھ میں تھا اور اسکرین روشن۔ اختر نے محض فون ایک طرف رکھنے کے لیے اٹھایا۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں میں جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا۔
چیٹ کھلی ہوئی تھی۔
الفاظ معمولی تھے مگر ان کے پیچھے موجود تعلق معمولی نہیں تھا۔
"تم آج بھی پہلے جیسے لگتے ہو"۔
"کاش وقت وہیں رک جاتا"۔
اختر دیر تک ساکت کھڑا رہا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سینے کے اندر ہاتھ ڈال کر اس کا دل آہستہ آہستہ مروڑ دیا ہو۔ اس لمحے انسان غصہ نہیں محسوس کرتا۔ غصہ بعد میں آتا ہے۔ پہلے صدمہ ہوتا ہے۔
پھر یقین ٹوٹنے کی آواز۔
پھر وہ خاموشی، جس میں انسان اپنی پوری زندگی پر شک کرنے لگتا ہے۔
اختر کرسی پر بیٹھ گیا۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام لمحے گردش کرنے لگے جب اس نے مریم کے لیے خود کو تھکایا تھا۔ وہ راتیں جب وہ بیمار پڑی تو وہ جاگتا رہا۔ وہ دعائیں جو اس نے اس عورت کے لیے مانگی تھیں۔ وہ خوف جس کے ساتھ اس نے اسے دنیا سے بچا کر رکھا تھا۔
اور اب؟
وہی عورت کسی اور کے ساتھ اپنے دل کی نرمی بانٹ رہی تھی۔ اس لمحے اختر کو پہلی بار احساس ہوا کہ محبت میں دھوکہ صرف بے وفائی نہیں ہوتا یہ انسان کی پوری ذات کی تذلیل بن جاتا ہے۔
مریم کی آنکھ کھلی تو سامنے اختر بیٹھا تھا۔
خاموشی چھائی ہوئی تھی۔۔
اس خاموشی میں چیخوں سے زیادہ اذیت تھی۔
"کیوں؟"
صرف ایک لفظ۔ مگر اس ایک لفظ میں ایک ٹوٹے ہوئے مرد کی پوری بربادی چھپی ہوئی تھی۔ مریم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ کیونکہ بعض اعمال کی وضاحت ممکن نہیں ہوتی۔
"تم یہ جانتے ہو کہ تم نے ایک ایسے دل کو زخمی کیا ہے جو تمھارے لیے خالص تھا"۔
اختر نے نم آنکھوں سے مریم کو دیکھا۔
"میں دنیا سے لڑ سکتا تھا تمہارے لیے۔۔ مگر تم سے نہیں"۔
یہ جملہ کہتے ہوئے اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
اور شاید پہلی بار مریم نے محسوس کیا کہ وفادار آدمی کو دھوکہ دینا کسی عام انسان کو کھونے جیسا نہیں ہوتا کیونکہ سچی محبت کرنے والے لوگ دوبارہ نہیں ملتے اور جب ٹوٹتے ہیں تو صرف ایک رشتہ نہیں ٹوٹتا ایک انسان اندر سے ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جاتا ہے۔

