AI Se Tarjuma Karvana Ghalat Hai Ya Durust
اے آئی سے ترجمہ کروانا غلط ہے یا درست

اس پر بہت بحث ہو رہی ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں اے آئی سے پہلے لوگ ترجمہ خود کرتے تھے؟ تب گوگل ٹرانسلیٹر تھا اور بہت سے تراجم گوگل سے کروائے جاتے تھے۔ کسی نے نصیر احمد ناصر صاحب کی نظم کا عربی زبان میں ترجمہ کیا۔ میری بڑی بہن عربی زبان میں پی ایچ ڈی بھی ہیں اور پروفیسر بھی۔ انہوں نے اس ترجمہ کو پڑھ کر کہا یہ تو گوگل ٹرانسلیشن لگ رہی ہے۔ یہ کوئی ادبی ترجمہ نہیں ہے۔ کیونکہ فلاں لفظ کا ترجمہ گوگل نے غلط کیا ہے۔ جس طرح ناصر صاحب نے استعمال کیا ہے اس طرح ترجمہ میں استعمال نہیں ہوا۔ انہوں نے درست الفاظ کی نشاندھی کی۔
اسی طرح میری ایک نظم کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ایک دوست نے کیا۔ جب میں نے گوگل سے ٹرانسلیٹ کروایا تو ایک بھی لفظ آگے پیچھے نہیں تھا۔ ہو بہو ترجمہ تھا۔ گوگل ٹرانسلیٹر تو لوگ ایک عرصہ سے استعمال کر رہے تھے ٹرانسلیشن کے لیے۔ یہاں تک کہ گوگل کی ٹرانسلیشن تو ہم سب کو بھی محسوس ہو جاتی تھی۔ جب کہ اے آئی اس سے ایڈوانس ہے۔ وہ ترجمہ ہی نہیں کرتا متن کو نئے سرے سے لکھ بھی سکتا ہے۔
اب آتے ہیں اس بات کی طرف کہ اے آئی استعمال کرنا کب درست کب غلط ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اے آئی ایک ٹول ہے۔ اسی طرح جیسے گوگل ٹرانسلیٹر تھا۔ ترجمہ تو وہ بھی کرتا ہے۔ کسی ٹول سے مدد لے کر کام جلدی آور آسانی سے ہوتا ہے۔ لیکن مدد لینے اور مکمل انحصار میں فرق ہے۔ کریٹیو شخص صرف مدد لیتا ہے۔ جو کریٹیو نہیں وہ انحصار کرتا ہے۔
اصل مسئلہ کامن سینس کا بھی ہے۔ میں ایک جگہ جاب کر رہی تھی وہاں ایڈمن ایک خاتون تھیں میں نے انھیں لیٹر لکھنے کو دیا۔ چونکہ ادارے میں رہائیشی بچوں کے لیے دودھ آتا تھا۔۔ تو نیا وینڈر ایک گوالا تھا۔ انھیں کہا وینڈر کے حوالے سے لیٹر لکھیں اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کو اور اس میں لکھیں کہ اب ہمارا نیا وینڈر یہ ہے۔ اس کو ماہانہ اتنی رقم بھیجنی ہے اکاؤنٹ نمبر وغیرہ درج کر دیں۔ ساری تفصیلات سمجھا دیں!
انھوں نے اے آئی سے لیٹر لکھوا کر اپرول کے لیے سیدھا مجھے فاروڈ کر دیا۔ جس میں لکھا تھا
Dear milk man
We are very excited to appoint you as our new vendor۔
تو میں نے کہا کہ اے آئی ضرور استعمال کریں لیکن ساتھ کامن سینس بھی استعمال کریں۔
یہ ہی حال تراجم کا ہے۔ اس میں بھی کامن سینس بہت ضروری ہے۔ ترجمہ میری فیلڈ نہیں۔ لیکن گھر میں ترجمہ پر بہت ڈسکشن ہوتی رہیں۔ ابو اور بڑی بہن عربی تراجم پر کام کرتے رہے اور میں ان کی ڈسکشنز سنتی تھی کہ وہ کس باریکی سے کام کرتے۔ ایک ایک لفظ کہ کئی کئی معنی پر ڈسکشن کرتے اور ان میں سے ایک وہ لفظ چنتے جو واقعی اصل متن کے ساتھ انصاف کرے۔ اے آئی ٹولز ترجمے میں معاون ضرور ہو سکتے ہیں، مگر ان پر مکمل انحصار مترجم کی تخلیقی اور علمی ذمہ داری کو کمزور کر دیتا ہے۔
اگر کسی زبان پر مناسب عبور نہیں تو ترجمے کے میدان میں کودنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ترجمہ کرنا ہی مقصود ہو تو اے آئی کے نتیجے کو حتمی سمجھنے کے بجائے اسے ایک ابتدائی مسودہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ لغات، مستند حوالہ جاتی کتب اور بہتر معیار کے پیڈ ترجمہ جاتی ٹولز سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
سب سے اہم مرحلہ یہ ہے کہ ہر لفظ اور جملے کو دوبارہ پرکھا جائے: کیا یہ لفظ واقعی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے؟ کیا یہ اس سیاق کے مطابق ہے؟ کیا یہ مصنف کے لہجے اور مقصد کو درست طور پر منتقل کر رہا ہے؟
اے آئی اس سفر میں مددگار ہو سکتی ہے، مگر مترجم کی بصیرت، فہم اور تنقیدی نظر کا متبادل تو نہیں ہو سکتی۔ اے آئی کو بطور اسسٹنٹ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اے آئی کوئی گالی تو نہیں اور نہ ہی اسے استعمال کرنا باعث شرم ہونا چاہیے۔ بعض اوقات روانی میں لکھتے گرائمر کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ اسے پروف ریڈ کرنا پیراگرافنگ سیٹ کرنا فل سٹاپ کومہ۔ یہ اے آئی ایک سیکنڈ میں کر دیتا ہے۔ وقت کی بچت ہوتی ہے اور بطور اسسٹنٹ دیکھیں کتنی جلدی کام ہو جاتا ہے۔
مگر پروف ریڈنگ میں بھی یہ اے آئی ٹولز نام بدل دیتے ہیں تو کبھی جگہ تبدیل کر دیتے ہیں اور کبھی کوئی پیراگراف ہڑپ کر جاتے ہیں۔
معلومات کے معاملے میں مصنوعی ذہانت (AI) پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اکثر اوقات غلط احادیث، غلط آیات، من گھڑت حوالہ جات، بلکہ فرضی کتابوں اور مصنفین تک کے نام پیش کر دیتی ہے اور نئے لفظ بھی بنا دیتی ہے۔ ایسے لفظ جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ شاعری کے میدان میں بھی اس کی تخلیقات اکثر پہلے سے موجود مواد کے اثرات لیے ہوتی ہیں، کیونکہ یہ اپنی تخلیق کا آغاز صفر سے نہیں کرتی بلکہ دستیاب ڈیٹا کو مختلف انداز سے مرتب اور پیش کرتی ہے۔
اسی لیے اے آئی کو حتمی ماخذ کے بجائے ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ اس کی فراہم کردہ معلومات کو مستند ذرائع سے جانچنا اور پرکھنا ضروری ہے، خصوصاً مذہبی، تاریخی، علمی اور تحقیقی موضوعات میں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر اسے بتایا جائے کہ اس نے غلطی کی ہے تو یہ اکثر فوراً معذرت کر لیتی ہے اور اپنا جواب تبدیل کر دیتی ہے۔ لیکن جو شخص خود درست معلومات سے واقف نہ ہو، وہ اس کی پہلی ہی بات کو درست سمجھ کر قبول کر سکتا ہے۔
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ اے آئی کا جواب اکثر سوال کے معیار کے مطابق ہوتا ہے۔ جتنا گہرا، واضح اور معیاری سوال ہوگا، اتنا ہی بہتر اور مفصل جواب ملنے کے امکانات ہوں گے۔ جبکہ سطحی، مبہم یا کمزور سوالات عموماً سطحی جوابات کو جنم دیتے ہیں۔ اس لیے اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے صرف اس کی صلاحیت ہی نہیں، سوال کرنے والے کی فہم، تنقیدی سوچ اور موضوع پر گرفت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
الغرض اے آئی کو گالی مت بنائیں۔ اسے بطور اسسٹنٹ استعمال کریں۔ اس پر مکمل انحصار نہ کریں۔ مشینوں کو اپنے دماغ کی جگہ نہ لینے دیں۔۔
تراجم کے حوالے سے تنقید کو مثبت لینا چاہیے اور آنے والے وقتوں میں بہت سے ترجمہ نگاروں کے لیے سبق بھی ہے کہ انہوں نے اگر کسی ٹول کی مدد لینی ہے تو وہ اسے کس طرح صرف اسسٹنس کے لیے استعمال کریں۔ مکمل انحصار کبھی نہ کریں۔

