Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Quran Burhape Ke Liye Kyun?

Quran Burhape Ke Liye Kyun?

قرآن بڑھاپے کے لیے کیوں؟

زندگی میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر بہت سادہ محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر پوری تہذیب، پورا طرزِ فکر اور ایک مکمل معاشرتی رویہ چھپا ہوتا ہے۔ ایسے سوال اکثر کسی فلسفی، دانشور یا عالم کے منہ سے نہیں نکلتے بلکہ کسی مخلص انسان کی زبان سے ادا ہوتے ہیں اور سیدھے دل میں اتر جاتے ہیں۔ چند روز قبل ایک ایسی ہی گفتگو پڑھنے کو ملی۔ ایک طرف محمل نامی ایک ذہین طالبہ تھی جس نے کالج کی تعلیم مکمل کی تھی اور آگے یونیورسٹی میں داخل ہونے کی تیاری کر رہی تھی اور دوسری طرف فرشتے نامی ایک خاتون تھیں جو بچوں کو قرآن پڑھاتی تھیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی بات چیت تھی لیکن اس کے اندر ہمارے پورے تعلیمی اور فکری رویے کا آئینہ موجود تھا۔

فرشتے نے محمل سے پوچھا کہ آگے پڑھائی کا کیا ارادہ ہے۔ محمل نے بتایا کہ ستمبر میں یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے۔ فرشتے نے مشورہ دیا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اسکول آ کر قرآن پڑھ لیا کرو۔ محمل نے کچھ جھجکتے ہوئے جواب دیا کہ اس کے پاس ترجمے والا قرآن موجود ہے اور وہ گھر میں خود ہی پڑھ لے گی۔ بات یہیں ختم ہو سکتی تھی لیکن فرشتے نے ایک اور سوال کر لیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم نے کس مضمون میں تعلیم حاصل کی ہے۔ محمل نے بتایا کہ اس کا مضمون ریاضی تھا۔ پھر سوال ہوا کہ ریاضی کس سے پڑھی؟ محمل نے جواب دیا کہ کالج میں پروفیسر سے بھی پڑھی اور شام کے وقت ایک خاتون کے پاس ٹیوشن لینے بھی جاتی رہی۔ اس کے بعد فرشتے نے وہ سوال کیا جس نے پوری گفتگو کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ ریاضی کی کتاب تو تمہارے پاس موجود تھی، پھر دو دو جگہوں سے کیوں پڑھا؟ گھر بیٹھ کر خود ہی کیوں نہ پڑھ لیا؟

یہ ایک ایسا سوال تھا جس کا جواب محمل کے پاس بھی فوراً موجود تھا۔ اس نے کہا کہ گھر میں خود سے کیسے پڑھا جاتا ہے اور پھر قرآن اور نصابی کتابوں میں فرق ہوتا ہے۔ بظاہر یہ جواب بالکل درست محسوس ہوتا ہے۔ واقعی ریاضی، طبیعیات، کیمیا یا طب کی کتابیں استاد کے بغیر سمجھنا آسان نہیں ہوتیں۔ طالب علم برسوں اساتذہ کے سامنے بیٹھتے ہیں، سوال پوچھتے ہیں، مشق کرتے ہیں، امتحان دیتے ہیں اور تب جا کر کسی مضمون پر دسترس حاصل کرتے ہیں۔ لیکن فرشتے کا اصل سوال ابھی باقی تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے۔ ہم چار سال کی عمر سے لے کر جوانی تک نصاب کی کتابوں کے لیے اساتذہ تلاش کرتے ہیں، کوچنگ سینٹر ڈھونڈتے ہیں، ٹیوشن پڑھتے ہیں، گھنٹوں محنت کرتے ہیں، ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، لیکن قرآن کے بارے میں ہمارا خیال ہوتا ہے کہ اسے تو گھر بیٹھ کر خود ہی پڑھ لیا جائے گا۔ اگر وقت نہ ملا تو بڑھاپے میں دیکھ لیں گے۔ اگر فرصت نہ ہوئی تو ریٹائرمنٹ کے بعد سیکھ لیں گے۔ اگر زندگی نے مہلت دی تو آخری عمر میں سمجھنے کی کوشش کر لیں گے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی ہر تعلیم کے لیے ہم استاد کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ایک بچہ الف، ب، ت بھی کسی استاد کے بغیر نہیں سیکھ سکتا۔ ایک نوجوان ریاضی کے سوال حل کرنے کے لیے مدد لیتا ہے۔ ڈاکٹر بننے کے لیے برسوں اساتذہ کے سامنے بیٹھتا ہے۔ انجینئر بننے کے لیے تجربہ گاہوں میں وقت گزارتا ہے۔ ایک کرکٹ کھلاڑی بھی کوچ کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ لیکن جب قرآن کی بات آتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ صرف کتاب کا گھر میں موجود ہونا کافی ہے۔ شاید ہم بھول جاتے ہیں کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، فہم کی کتاب بھی ہے۔ یہ صرف الفاظ پڑھنے کے لیے نہیں، زندگی کو سمجھنے اور سنوارنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اگر دنیا کے علوم استاد مانگتے ہیں تو اللہ کا کلام بھی توجہ، رہنمائی اور سیکھنے کا حق رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات کا ایک عجیب نظام بنا لیا ہے۔ بچے کی عمر چار سال ہوتی ہے تو والدین سب سے پہلے یہ فکر کرتے ہیں کہ اسے اچھے اسکول میں داخل کروایا جائے۔ پھر بہترین اساتذہ، بہترین کتابیں، بہترین کوچنگ اور بہترین ماحول کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ بچہ امتحان میں اچھے نمبر لے، اچھی ڈگری حاصل کرے اور کامیاب زندگی گزارے۔ یہ سب ضروری ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ اسلام علم حاصل کرنے سے کبھی نہیں روکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنی ہی فکر قرآن کے لیے بھی کرتے ہیں؟ کیا ہم کبھی یہ سوچتے ہیں کہ جس کتاب کو ہم اللہ کا آخری پیغام مانتے ہیں، اسے سمجھنے کے لیے بھی کسی استاد، کسی حلقۂ درس اور کسی منظم کوشش کی ضرورت ہے؟ یا ہم اسے صرف برکت کے لیے الماری میں سجا کر مطمئن ہو جاتے ہیں؟

قرآن بڑھاپے کی کتاب نہیں ہے۔ یہ جوانی کی رہنمائی کی کتاب ہے۔ یہ زندگی شروع ہونے سے پہلے نہیں بلکہ زندگی کے دوران سمجھنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس کی ضرورت اس وقت سب سے زیادہ ہوتی ہے جب انسان فیصلے کر رہا ہوتا ہے، راستے منتخب کر رہا ہوتا ہے، خواہشات اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کر رہا ہوتا ہے اور دنیا کے ہجوم میں اپنی سمت تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ اگر قرآن کو سمجھنے کا کام ہم عمر کے آخری حصے تک مؤخر کرتے رہیں تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص پوری زندگی سفر کرتا رہے اور نقشہ اس وقت کھولے جب منزل قریب آ چکی ہو۔ دنیا کی تعلیم روزگار دیتی ہے، معاشی استحکام عطا کرتی ہے اور زندگی کو آسان بناتی ہے، لیکن قرآن زندگی کا مقصد سمجھاتا ہے، انسان کو اپنے رب سے جوڑتا ہے اور اسے یہ بتاتا ہے کہ کامیابی صرف دنیا کے امتحان میں نہیں بلکہ آخرت کے امتحان میں بھی درکار ہے۔

محمل اور فرشتے کی یہ مختصر گفتگو دراصل ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہے۔ اس میں کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا عکس نظر آتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ہر علم سکھانا چاہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی اس علم کو مؤخر کر دیتے ہیں جو باقی تمام علوم کو معنی عطا کرتا ہے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویوں پر دوبارہ غور کریں۔ اگر ریاضی استاد مانگتی ہے، اگر سائنس استاد مانگتی ہے، اگر زبان استاد مانگتی ہے، تو قرآن بھی توجہ، وقت اور استاد کا حق رکھتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دنیا کی تمام کتابیں سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں لیکن اس کتاب کو سمجھنے کا وقت ہی نہ نکال سکیں جس کے بارے میں ہم روز دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ہماری زندگی کی رہنما کتاب ہے۔

Check Also

AI Se Tarjuma Karvana Ghalat Hai Ya Durust

By Qurratulain Shoaib