Ajeeb Log
عجیب لوگ

میرے سوال پر دونوں دوست گہری سوچ میں چلے گئے۔ جب وہ سوچ کی باؤلی سے باہر نکلے تو انکار میں سر ہلا دیا۔ وہ سوال کیا تھا جس کا جواب میرے دونوں دوستوں نے نفی میں دیا تھا؟
"کیا تُم دونوں فاتحہ پڑھنے بہ طورِ خاص کبھی اپنے کسی دوست کی قبر پر گئے ہو؟ ایسا نہیں کہ اپنے بزرگوں کی قبروں پر عید شب برات کو گئے تو لگے ہاتھوں رستے میں کسی دوست کی قبر پر دم بھر کے لیے رُک گئے اور فاتحہ پڑھ دی"۔
اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ایک عمارت کی تیسری منزل پر واقع درختوں اور سبزے کی جانب کھلنے والی بڑی کھڑکیوں والے ایک کمرے میں بیٹھے میرے دوست فواد شاہ اور فیاض انور تھے۔ فواد ایک حساس دوست اور دردِدل رکھنے والے انسان ہیں اور فیاض انور، رُجحان ساز مرحوم شاعر جاوید انور کے بھائی، مطالعے کے رسیا اور صوفی روایت کے پیرور ہیں۔
میں نے سوچاکہ اگر ایسے حساس انسان بچھڑے دوستوں کو ملنے جا نہیں پاتے تو دیگر کا تذکرہ عبث ٹھیرا۔
یہ سوال میں نے کئی دوستوں سے کیا۔ سوائے ایک دوست شہزاد رفیق کے سب کا جواب نفی میں تھا۔ دوست فقط ہم عمر ہی تو نہیں ہوتے، ایک وقت آتا ہے کہ آدمی کے مہربان استاد، شفیق ہم سائے اور کئی ہم کار بھی اُس کے دوست بن جاتے ہیں۔
یک دم میرے ہم زاد نے مجھے جھنجھوڑا "تُم جو دوستوں سے یہ سوال پوچھتے بولائے پھر رہے ہو، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم خود کتنی بار اپنے گھر سے نکل کر بہ طورِ خاص کسی دوست کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گئے ہو؟"
میں نے ٹوٹا پھوٹا جواب دیا "ویسے اِس سے فرق بھی کیا پڑتا ہے کہ آدمی کسی کی قبر پر جائے۔ گھر بیٹھے دعا فاتحہ بھی بہت ہے"۔
ہم زاد مجھے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگا۔ "تو تم اپنے بزرگوں کی قبروں پر کیوں جاتے ہو؟ لاکھوں لوگ عقیدت سے مزاروں اور روضہ ہائے اقدس پر کیوں جاتے ہیں؟ گھر بیٹھے دعا کرلیا کریں"۔
میں نے شرم ساری سے سرجھکا لیا۔
ہم زاد نے بات جاری رکھی"لڑکے بالے مرد تو اپنے دوستوں کے لیے اپنے گھر والوں، بیویوں سے جھگڑتے ہیں، اُن کا وقت بھی یار دوستوں کو دے دیتے ہیں، بعضے تو اپنے بہن بھائیوں سے زیادہ وقت اپنے دوستوں میں گزارتے ہیں، اُن کی خاطر لڑائی جھگڑے مُول لینے کو تیار رہتے ہیں، وہ بات جو اپنے بھائی سے نہیں کر پاتے دوستوں سے کر لیتے ہیں، لیکن جب کوئی دوست مرجاتا ہے تو اُسے ایسے بھلا دیتے ہیں جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں، اُن آباؤ اجداد کی قبروں پر تو چلے جاتے ہیں جن کو دیکھا بھی نہیں ہوتا، مگر ان قبرستاون کے باہر سے جہاں دوست دفن ہوتے ہیں یوں اپنی موٹر سائکلوں گاڑیوں پر گزر جاتے ہیں جیسے ان سے کبھی کوئی واسطہ ہی نہ رہا ہو۔ بہت عجیب لوگ ہو تُم"۔
میں نے آہستہ سے کہا۔
"میرا باپ تھا ایسا آدمی جو اپنے گھر سے اُٹھ کر اُس قبرستان میں خاص جاتا تھا جہاں اس کا کوئی عزیز دوست دفن ہوتا تھا، گرمیوں کی جس آلود شاموں میں اور سردیوں کی ٹھٹھرتی کُہرآلود سہ پہروں میں۔ میرے ابو تھے جو گھر کے برآمدے میں خاموش گہری سوچ میں گم بیٹھے بیٹھے اُٹھ بیٹھتے تھے اوراپنے مرحوم دوستوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے تھے۔
"بہت دن ہوگئے کمانڈر ظہور سے ملے، ذرا اُن سے مِل آؤں۔ کئی روز سے چودھری فلاں اور ملک فلاں سے ملاقات نہیں ہوئی، ذرا اُنھیں سلام کر آؤں"۔
میرا ہم زاد خاموشی سے میری بات سن رہا تھا۔ میں نے بات ختم کی۔
"اب ایسے والد کو میں کیوں کر ہر دم یاد نہ کرو، جو منفرد تھے اور خالص بھی"۔
میری اپنے دوستوں سے استدعا ہے کہ جب کبھی کسی تہوار پر یا معمول کے مطابق ہم اپنے بزرگوں کی قبروں پر فاتحہ دعا کے لیے جائیں توسوشل میڈیا کی چند ریلوں یاٹک ٹاک کی چند ویڈیوز یا ایکس پر چند لمحات کی اسکرولنگ کو قربان کرکے ہم اُن عزیز دوستوں کی قبروں پر بھی جانے کو اپنی عادت، اپنی روایت بنالیں جن کے بغیر ہماری زندگی زندگی نہ تھی، جو ہماری محفلوں کی رونق تھے اور جن کے دم میں ہمارا دم تھا۔

