Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Hameed Ullah Bhatti
  3. CCD Ko Qatil Na Banayen

CCD Ko Qatil Na Banayen

سی سی ڈی کوقاتل نہ بنائیں

شہریوں کاتحفظ ریاستی ذمہ داری ہے یہ تحفظ ہی شریف شہریوں کو اعتماد دیتا ہے کہ بلاخوف وخطر معمولاتِ زندگی گزاریں شہریوں کو اگر خوف ہوتا ہے تو جرم پر قانونی گرفت کا ہوتا ہے مگر پنجاب میں صورتحال افسوسناک ہے لوگ خود کو محفوظ سمجھنے کی بجائے خوف وہراس کا کاشکار ہیں اِس کی اہم اور بڑی وجہ سی سی ڈی کے نام سے پولیس کا نیا شعبہ ہے جس کا دعویٰ ہے کہ لوگوں کو تحفظ دینے کے لیے جرائم پیشہ لوگوں سے دھرتی صاف کردیں گے۔

لیکن کیا عملی طورپر بھی ایسا ہورہاہے؟ بادی النظر میں ہاں نہیں کہہ سکتے کیونکہ سی سی ڈی کی کاروائیاں صرف پنجاب تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف مقدمات میں نامزد لوگوں کو بیرونِ ملک سے گرفتارکرنے اورملک میں لا کر مارنے جیسا کام ہونے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ قانون اور عدالتوں کی موجودگی میں کسی محکمے کو بندے مارمُہم کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کیا یہ پولیس اور نظامِ انصاف پر عدمِ اعتماد نہیں؟ کیا یہ نظامِ انصاف کا متبادل نہیں؟ اگر درج بالا سوالات کاجواب ہاں میں ہے تو مجھے کہنے دیجیے کہ عوام اور موجودہ حکمران دونوں کامستقبل اچھا نہیں کیونکہ محاسبے کے بغیر دی جانے والی طاقت آخر کارسرپرستوں کے لیے بھی وبالِ جان ضرور بنتی ہے۔

چکوال میں نوبرس کی معصوم ہانیہ کے ساتھ جو ہوا وہ ہولناک، تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے ستم ظریفی تو یہ کہ گھرکا سربراہ عدیل احمد اپنی معصوم بیٹی کی حفاظت نہ کر سکا خیرتحفظ کیا دیتا وہ اپنے بیٹے کے ساتھ خود بھی زخمی خون میں لت پت تڑپ رہا تھا اِس کے باوجود گاڑی بھگا کر اپنے چھوٹے سے خاندان کو بچانے کی کوشش کی لیکن باپ کی آنکھوں کے سامنے بیٹی گولیوں سے چھلنی کر دی۔

آسٹریلین حکومت نے قتل کی وضاحت طلب کی ہے۔ سوال ہے کہ اگر مقتولہ ہانیہ آسٹریلیا کی رہائشی نہ ہوتی تو کیا پولیس آفیسران پریس کانفرنس کی زحمت کرتے صفائیاں دیتے؟ پُرسہ کے لیے سہیل ظفر چٹھہ لواحقین کے گھر جاتے؟ کبھی نہیں۔ جس صوبے میں ساہیوال سانحہ کے ملزمان باعزت رہا ہوجائیں وہاں معصوم ہانیہ کو کیا اہمیت ملتی؟ حیران کُن پہلویہ کہ سانحہ ساہیوال میں رائے طاہر کو سربراہ ہونے کی بناپر منصب سے ہٹا دیا گیا لیکن سانحہ چکوال پر ایسی کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ سہیل ظفر چٹھہ کے پاس ڈی جی اینٹی کرپشن کا عہدہ بھی ہے لہٰذا سی سی ڈی کے عہدہ سے ہٹائے جانے سے بھی خاص متاثر نہ ہوتے۔

آسٹریلیاایک مہذب ملک ہے جہاں پولیس بندے نہیں مارتی اور نہ ہی پولیس کے پاس لامحدوداختیارات ہوتے ہیں پولیس صرف شہریوں کے جان و مال کی محافظ ہوتی ہے اسی لیے آسٹریلین حکومت حیران ہے اورسی سی ڈی سے پوچھ رہی ہے کہ ہمارے شہری کوکِس جرم میں موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔

کسی اور ملک میں چکوال جیسا سانحہ ہوتا تو پولیس سربراہ سمیت حکومت کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہوچکے ہوتے سول سوسائٹی مظاہرے کررہی ہوتی لیکن ایک غیرملکی شہری کو سرِ عام ماردیا گیا ہے مگر پولیس یا حکمرانوں کو احساس تک نہیں سہیل ظفر چھٹہ بھی لواحقین کو مطمئن کرنے کے لیے مقتولہ کی قبر پر جاتے ہیں اور انصاف دلانے کا وعدہ کرتے ہیں یہ نااہلی ہے اختیارات کی انتہا ہے کہ کسی کو محاسبے کا کوئی خوف نہیں بلکہ خودکوہی قانون اور عدالت سمجھ لیاگیا اُن کے خیال میں خونِ خاک نشیناں بس رزقِ خاک ہواہے اِورکچھ نہیں۔

حج سے واپس آنے والے عدیل احمد بیوی بچوں کے ساتھ اپنے کرائے کی گاڑی میں سسرال دعوت پر آتا اور منزل کے قریب گاڑی روکتاہے تو جانے کہاں سے موٹر سائیکل پر سواردوافراد سامنے آجاتے ہیں اور پستول دکھاکر نقدی و زیورات دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اِس کارروائی کوسی سی ڈی کے اہلکارنے دیکھ لیا اور ڈکیتی روکنے کی کوشش کی مگر ڈاکوؤں کی بجائے متاثرہ خاندان کی گاڑی کو ہی چھلنی کردیا بعد میں بقول سی سی ڈی ڈاکو بھی فرائی کردیے گئے مگر اندھا دھند فائرنگ سے پولیس کے نئے شعبے کی کمزرویاں اور خامیاں اُجاگر ہوئی ہےں۔

ہر کام کے کچھ اصول اور قواعدوضوابط ہوتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ سی سی ڈی قواعد ضوابط سے بالاتر ہے۔ پولیس مقابلے کی ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ ملزم کو برآمدگی کے لیے لے جارہے تھے کہ راستے میں اُس کے ساتھیوں نے حملہ کر دیاجس میں گرفتار ملزم ہلاک ہوگیا کبھی کسی مقابلے میں سی سی ڈی اہلکاروں کو خراش تک نہیں آتی جس سے بیان کی جانے والی کہانی بے بنیاد ثابت ہوتی۔ یہ درست ہے کہ مارے جانے والے اکثر جرائم پیشہ اور خوف کی علامت تھے لیکن جب قانون اور نظامِ انصاف موجود ہے تو کسی شعبے کو قتل کرنے کی اجازت دینا نظامِ انصاف پر عدمِ اعتماد اور مذاق ہے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

AI Se Tarjuma Karvana Ghalat Hai Ya Durust

By Qurratulain Shoaib