Sunday, 21 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Waliullah Maroof: Shor e Hayat Mein Aik Khamosh Goonj

Waliullah Maroof: Shor e Hayat Mein Aik Khamosh Goonj

ولی اللہ معروف: شورِ حیات میں ایک خاموش گونج

ایک عرصے سے سوشل میڈیا پر مولانا ولی اللہ معروف کی ویڈیوز سامنے آتی ہیں، جنہیں دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ان کی خدمات دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ ان کا ماتھا چوم لیا جائے اور ان کی سوچ اور عزم کو سلام پیش کیا جائے۔ یہ صرف نام کے "ولی اللہ" نہیں، بلکہ حقیقت میں اللہ کے ایک برگزیدہ بندے ہیں۔ ولی اللہ معروف 2018ء سے ان بچھڑے ہوئے لوگوں کو ملوا رہے ہیں، جو برسوں پہلے اپنے خاندان سے جدا ہو گئے تھے۔ وہ اب تک کئی ممالک کے بچھڑے لوگوں کو ان کے پیاروں سے ملا چکے ہیں، جن میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو دو سال سے لے کر چالیس سال تک اپنے خاندان سے دور تھے۔ ان میں ان خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے جنہیں انسانی اسمگلروں نے دھوکے سے بیچ دیا تھا۔ یہ اتنی بڑی خدمت ہے کہ شاید ہم جیسے عام لوگوں کی زندگی بھر کی نیکیاں بھی ان کی ایک ایک نیکی کے پلڑے میں ہلکی پڑ جائیں۔ اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب کوئی بچھڑا ہوا شخص اپنے پیاروں سے ملتا ہے اور سب کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔ ان کے پیج پر بچھڑے لوگوں کے برسوں بعد اپنے پیاروں سے ملنے کے جذباتی مناظر دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں نوجوانی میں ہی عظیم خدمت کے لیے چن لیا ہے، یہ رب کی بہت بڑی عطاء ہے۔ ​ایسے عظیم لوگوں کے لیے نام اور شہرت معنی نہیں رکھتی، بلکہ ان کا مشن ہی سب سے مقدم ہوتا ہے، جس کے لیے وہ اپنی زندگی وقف کر چکے ہیں۔ آج کے اس مادیت زدہ ماحول میں، جہاں ہر عمل کے پیچھے کسی نہ کسی مفاد کا سایہ کارفرما ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال محض سطحی شہرت تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، وہاں مولانا ولی اللہ معروف ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور بچھڑے ہوؤں کو اپنوں سے ملانے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، جن کی آواز کراچی کے علاقے منگھوپیر کی ایک مسجد کے محراب سے ابھرتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر ارادہ سچا اور نیت میں خلوص ہو تو ایک تنہا امام مسجد بھی دنیا کے دکھوں کا مداوا بن سکتا ہے۔

​ولی اللہ معروف کا کام محض بچھڑے لوگوں کو ملانا نہیں، بلکہ یہ ان کی "نفسیاتی اور وجودی بحالی" کا عمل ہے۔ تصور کیجیے، ایک ایسا شخص جو تیس چالیس سال سے "گمشدہ" کا لیبل لیے جی رہا ہو، جس کے پاس اپنی تاریخ، خاندان اور شناخت کا کوئی ثبوت نہ ہو، اسے جب ولی اللہ یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ "آپ کی فیملی مل گئی ہے" تو وہ دراصل اس انسان کو اس کی کھوئی ہوئی تاریخ واپس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض ملاقات نہیں، بلکہ ایک ایسی سرجری ہے جس سے وہ انسان کی روح پر لگے اس گہرے زخم کو بھرتے ہیں جو اسے ہر روز یہ پوچھنے پر مجبور کرتا تھا: "میں کون ہوں؟"

​دنیا میں ایک طرف وہ سفاک عناصر، انسانی اسمگلر اور اغوا کار ہیں جو انسانوں کو سودا بنا کر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ دوسری طرف، اس شر کے طوفان کے سامنے ولی اللہ معروف اثرورسوخ اور سرکاری وسائل کے بغیر ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔ جہاں بڑے بڑے بااثر ادارے ان بچھڑے ہوئے لوگوں کی سسکیاں نہیں سن پاتے، وہاں ایک نوجوان امامِ مسجد اپنی جیب سے اخراجات برداشت کرکے اور اپنی نیندیں قربان کرکے ان لوگوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے۔ یہ انسانیت کی حقیقی تصویر ہے۔ ولی اللہ معروف جس مقام پر کھڑے ہیں، وہ بلاشبہ بہت عظیم کام ہے۔

خلقِ خدا کو سکون پہنچانا، کسی ماں کی ویران آنکھوں میں امید کی روشنی بھرنا اور کسی بچے کو اس کے باپ سے ملانا یہ ایسی عبادت ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت ہی بڑا ہے۔ ​وہ جس خلوص سے سرحدوں کے پار (انڈیا، بنگلہ دیش، یمن، فلپائن) اپنے رابطوں کا جال بچھاتے ہیں، یہ صرف ایک سماجی کام نہیں، بلکہ ایک بڑی "عبادت" ہے۔ جب وہ انڈیا میں بیٹھے کسی بوڑھے کو کراچی میں بیٹھی اس کی بہن سے ویڈیو کال پر ملاتے ہیں تو وہ سیاست اور جغرافیہ کی تمام دیواروں کو پاش پاش کر دیتے ہیں۔ یہ وہ سفارتکاری ہے جس کے لیے ویزے یا پاسپورٹ کی نہیں، بلکہ ایک درد مند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔

​ولی اللہ معروف کی زندگی ہر اس نوجوان کے لیے سبق ہے جو وسائل کی کمی کا رونا روتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ کامیابی کا دارومدار بینک بیلنس پر نہیں، بلکہ کردار کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ ان کی ویڈیوز میں ایک خاص بات ان کی "خاموشی" ہے۔ وہ لوگوں کا درد سنتے وقت کم بولتے ہیں، یہ ان کے ایک "بہترین سامع" ہونے کی علامت ہے۔ ان کا صبر اور دوسروں کے جذباتی طوفان کو سنبھالنے کا انداز ہی ان کی شخصیت کا سب سے طاقتور پہلو ہے۔ ​جامعہ بنوری ٹاؤن سے فراغت پانے والے یہ عالمِ دین ثابت کرتے ہیں کہ ہماری دینی درسگاہیں ایسے ہیروز پیدا کر رہی ہیں جو صرف کتابی عالم نہیں، بلکہ عملی میدان کے مجاہد ہیں۔ ہمیں ان کے خلوص کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا چاہیے۔

​اے ولی اللہ معروف! آپ نے ثابت کیا کہ انسانیت ابھی مری نہیں ہے۔ آپ اس دور کے وہ چراغ ہیں جو طوفانوں کے درمیان بھی روشن ہے۔ آپ کا یہ کام اور یہ جدوجہد تاریخ کے ان سنہری اوراق میں لکھی جائے گی جو رہتی دنیا تک انسانوں کو سکھاتی رہے گی کہ "جینے کا اصل لطف، دوسروں کو جینے کی امید دینے میں ہے"۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے، آپ کے مشن میں مسلسل کامیابیوں سے نوازتا رہے۔ آپ کے ہر قدم کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور آپ کو اپنے محبوب ﷺ کی قربت نصیب کرے۔ آپ کا وجود اس بے حس دنیا میں امید کے پھول کھلانے کا ذریعہ ہے۔

Check Also

AI Se Tarjuma Karvana Ghalat Hai Ya Durust

By Qurratulain Shoaib