Sunday, 05 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Azam
  4. Daku Pehelwan Ki Hukmarani

Daku Pehelwan Ki Hukmarani

ڈاکو پہلوان کی حکمرانی

"پتہ نہیں شہر کے حالات کب معمول پر آئیں گے، دو مہینے سے زیادہ وقت ہوگیا مگر سڑکیں کھلنے کا نام لے رہا ہے نہ آمد و رفت کے سلسلے معمول پر آ رہے"۔ احمد نے شدید دکھ کا اظہار کیا۔

"ارے جب تک ڈاکو پہلوان کے مطالبات پورے نہیں کریں گے تب تک حالات کی بہتری کی امید ہی نہیں کرنی چاہیے"۔ علی کے چہرے پر مایوسی صاف نظر آ رہی تھی۔

"ارے تو اس کے مطالبات پورے کیوں نہیں کرتے! کم از کم زندگی تھوڑی دیر کے لیے آسان تو ہو جائے گی"۔

"اس کے مطالبات پورے کرنے لائق ہوتے تو ذمہ داران یقیناََ پورے کر لیتے نا"۔

"ایسا بھی کیا مطالبہ کیا ہے اس ڈاکو پہلوان نے"۔

"چار سو کنال زمین اپنے نام کرنے کو کہہ رہا"۔

امن نگر کے مکین قدرتی وسائل سے مالامال تھے یہاں زندگی دوسرے شہروں کی بنسبت زیادہ آسان اور خوشحال تھی۔ امن نگر کو اس کی امن پسندی کی وجہ سے ہی امن نگر نام پڑ گیا تھا۔ یہاں سب آپس میں مل جل کر اجتماعی زندگی گزرتے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور پریشانیوں سے پاک زندگی گزارتے تھے۔

انہی دنوں میں ایک صبح علاقے کے مکینوں نے دیکھا آبادی کے کنارے ویرانے میں ایک جھونپڑی سی بنی ہوئی ہے۔ علاقہ مکینوں نے جا کر دیکھا تو ڈاکو پہلوان اپنے ساتھیوں سمیت وہاں ڈیرے ڈالے بیٹھے تھے۔ ڈاکو پہلوان کے بارے میں امن نگر والوں نے سن رکھا تھا کہ شہر میں جگہ جگہ وہ قابض ہے اور اس کی دہشت سے شہری کانپ اٹھتا ہے۔ شہر کے ہر بڑے فیصلے میں اس کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔ اب یہ مصیبت امن نگر بھی آن پہنچی اور علاقہ مکین اس کی موجودگی کو محسوس کرکے کانپ رہے تھے۔

جب علاقے کے تمام لوگ وہاں جمع ہوئے تو اس سے سوال کرنے کی کسی میں ہمت نہیں ہو رہی تھی، آخر میں ہمت باندھتے ہوئے علاقے کے سردار علامہ محمد نے پوچھا: "ڈاکو پہلوان صاحب آپ کی ہمارے علاقے میں آمد کی وجہ ہم جان سکتے ہیں کیا؟"

"علامہ صاحب آپ کو پتہ نہیں ہے کیا دشمن ملک ہم پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، دشمن ملک کا ارادہ ہے کہ سب سے پہلے امن نگر پر حملہ کرنے کا۔ شہروں کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہماری ہے تو اس نگر کی سیکورٹی کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم آپ کو تحفظ فراہم کرنے آئے ہیں۔ جس زمین پر ہم نے ڈیرے ڈالے ہیں وہ یقیناً آپ کی ہوگی ہم بس سیکورٹی معاملات کو حل کرنے تک یہاں رہیں گے"۔

اس کے بعد سوال کرنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوئی۔ آہستہ آہستہ ڈاکو پہلوان نے اپنے لوگوں سے امن نگر کو بھر دیا، نگر کے ہر چوک چوراہے، گلی کوچوں اور بازاروں میں اس کے بندے بندوق لیے گشت کرتے تھے۔ کئی سالوں میں شہر کے انتظامات پر ڈاکو پہلوان نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اب جو بھی فیصلے ہوتے تھے اس کی مرضی سے ہوتے تھے، امن نگر میں کس کو سردار ہونا چاہیے، کس کو ممبر پر بٹھانا چاہیے اور کس کو اتارنا، کس کو مقبول بنانا ہے کس کو رسوا کرنا ہے، بازار کب کھلے گا اور کس ٹائم بند ہوگا، اسکولوں میں پڑھائی کب ہوگی کب نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ٹیچر لکچر میں اور شیخ ممبر پر کیا بولیں گے اور کیا نہیں بولیں گے سب ڈاکو پہلوان کی مرضی سے ہو رہے تھے۔

روزمرہ زندگی میں علاقہ مکینوں کو ڈاکو پہلوان کی مرضی کے بغیر سانس لینے کی اجازت نہیں تھی، اس طرح کی سخت ترین پابندی کی وجہ سے کوئی کوئی سرپھرے بغاوت پر اتر آتے اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے منع کرتے، ڈاکو پہلوان ان سرپھروں کو ہر بار نشان عبرت بنا دیتا، ان کو جان سے مار دیتا تاکہ کوئی اور بغاوت کرنے کی ہمت نہ کر پائے۔ ڈاکو پہلوان کی اس طرح کی سخت کاروائی کی وجہ سے لوگ مجمع میں اس کے خلاف بات کرنے کی یا اس کے ظلم کے خلاف مل کر احتجاج کرنے کی ہمت نہیں دکھا پائے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ظلم بڑھتا چلا گیا اور لوگ عاجز آ گئے انہی ایام میں ڈاکو پہلوان کے دوست شیطان اعظم نے امن نگر کے سردار علامہ محمد کو مار دیا، اس قتل کے خلاف امن نگر کے لوگ سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے، ڈاکو پہلوان کے سپاہیوں نے ہجوم کو مشتمل کرنے کے لیے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں کئی لوگ زخمی ہوئے اور کئیوں کی موت واقع ہوئی۔ اس واقعے کے بعد امن نگر کے حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے کئی واقعات پیش آئے۔ اتنے سالوں کی نفرت ایک دم بھڑک اٹھی اور لوگوں کو ڈاکو پہلوان سے بدلہ لینے کا موقع ہاتھ آیا۔ اس لمحے ڈاکو پہلو اور اس کے سپاہی پسپا ہو گئے اور میدان امن نگر والوں کے ہاتھ آیا۔ مگر اگلے ہی دن ڈاکو پہلوان نے دوسرے شہروں سے اپنے لوگوں کو بلایا اور امن نگر کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ اس کے سپاہی بندوق سے فائر کھولنے کی دھمکی دے کر امن نگر والوں کو گھروں میں محسور کرنے پر مجبور کیا۔ جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کی سزا کے طور پر ڈاکو پہلوان نے نہ صرف شہر کو بند کر دیا بلکہ صلح کے لیے یہ شرط رکھی کہ چار سو کنال زمین اس کے نام کر دیں تبھی صلح ممکن ہے۔

اس واقعے کے ابتدائی دنوں میں عوام و خواص، علما و فقہا، حکمران و دانشور سب متفقہ طور پر یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ ڈاکو پہلوان امن نگر سے نکل جائے اور مزید علاقے کے امن خراب کرنے سے گریز کرے، بلکہ سب کا یہی خیال تھا کہ جب تک ڈاکو پہلوان امن نگر کے انتظامی امور میں مداخلت کرتا رہے گا تب تک امن نگر میں امن و امان قائم کرنا ناممکن ہے۔ مگر جب اس نے ایک مہینے تک تمام شہریوں کو گھروں میں قید کر رکھا تب لوگوں کی ہمت ختم ہوتی چلی گئی۔ آخر میں سب نے اپنی بے بسی اور لاچارگی کا بھی احساس کیا لہذا کاروبار زندگی کو چلانے کے لیے ڈاکو پہلوان کے تمام مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے صلح کر لی اور آئندہ کے لیے امن نگر کا سردار اسے چن لیا۔

Check Also

Kya Amarat Aur Ghurbat Sirf Dolat Se Hai?

By Mohsin Khalid Mohsin