Kya Se Kya Ho Gaye
کیا سے کیا ہو گئے

مشرقِ وسطیٰ میں صحرائی ٹیلے ہوا کے دباؤ پر اپنا مقام و ہئیت بدلتے رہتے ہیں۔ ریتلے ٹیلوں کے ذروں میں طاقت کی کہانیاں بھی ہیں اور مفاد کے بدلتے ہوئے نقش بھی۔ انہی نقشوں کے بیچ متحدہ عرب امارات ایک ایسی لکیر کی طرح ابھرا ہے جو کبھی سعودی عرب کے نقشِ قدم سے جڑی ہوئی تھی مگر اب صحرا میں بھٹکے تنہا اونٹ کی مانند اپنی سمت خود متعین کرتی دکھائی دیتی ہے۔
امارات مڈل ایسٹ میں اسرائیلی پراکسی کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اسرائیل سے الفجیرہ پورٹ کو محفوظ بنانے اور اس تک نئی پائپ لائن بچھانے کے پلانز سمیت حفاظت کے لیے آئرن ڈوم سسٹم کا بھی منصوبہ ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی نے اسرائیل کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ بھارت، اسرائیل، امارات اور دو افریقی ممالک اب نئے اتحادی ہیں۔
امارات کا رویہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہی بدل چکا تھا۔ اس کا رجحان بھارت کی جانب رہا۔ اس کی وجوہات میں سے ایک وجہ بھارت کا بڑی منڈی ہونا ہے۔ ایران جنگ میں امارات نے نقصان اٹھایا ہے۔ اس کا معاشی انحصار ٹورازم اور کارپوریٹ سیکٹر پر تھا جس کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ امارات میں سب سے امیر ریاست ابوظہبی ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ دبئی وغیرہ صرف و صرف ٹورازم و کارپوریٹ سیکٹر کی اکانومی ہے اور دیگر ریاستیں بھی ٹیکس فری زونز بنا کر ایسے ہی گزر بسر کرتی ہیں۔
کبھی سعودی عرب اور امارات دو جان ایک قالب ہو کرتے تھے۔ متحدہ عرب امارات کی پہچان سعودی ہمنوا کے طور پر تھی۔ دونوں کے خطے میں مفادات ایک دوسرے سے وابستہ تھے۔ یمن کے معاملے پر مفادات کا ٹکراؤ سامنے آیا اور پھر سوڈان میں دونوں ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ امارات کا مسئلہ وہی ہے کہ غریب بندے کے پاس اگر بہت دولت آ جائے تو اسے چودراہٹ یا سیاست کا شوق چڑھنے لگتا ہے۔ سنہ اسی تک یہ غریب تھا۔ چالیس سالوں میں اس کا حلیہ بدل چکا تھا اور پھر چوہدری بننے کا شوق چڑھ آیا تھا۔
کچھ عرصے سے امارات پاکستان کو دبے لفظوں یہ پیغام دیتا رہا ہے کہ بیک وقت دو نکاح اچھے نہیں۔ مطلب سعودیہ کے ساتھ بھی اور ہمارے ساتھ بھی۔ پاکستان خوش اسلوبی سے اس پیغام کو ٹالتا چلا آیا کیونکہ ہمارے مفادات دونوں سے وابستہ رہے۔ سعودیہ ہمارا دیرینہ دوست ہے جو ہر مشکل وقت میں بیل آؤٹ کرتا آیا ہے اور سالوں کے اُدھار پر تیل بھی دے دیتا ہے جو دنیا کا کوئی ملک نہیں دیا کرتا۔ ایران جنگ کے دوران امارات کو پاکستان کا کردار نہیں بھایا۔ وہ ایران کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے اس کا کھلا اظہار ان کی وزارت خارجہ کر چکی ہے۔ پاکستان سے دوری اس نے خود بڑھائی اور اپنے ڈیپازٹس طلب کر لئے۔ سعودیہ نے مدد کی اور ہمارا امارات سے حساب چکتا کرا دیا۔
آج امارات تیل بیچنے والے ممالک کے اتحاد opec سے بھی نکل گیا ہے۔ اس اتحاد سے نکلنے کا مطلب گلف ممالک کے اتحاد سے نکلنا ہے۔ یہ اپنی لائن الگ کر چکا ہے اور تاریں اسرائیل سے جوڑنے پر لگا ہوا ہے۔ مڈل ایسٹ میں یہ مستقبل کی اسرائیلی پراکسی بنتا نظر آ رہا ہے۔ امارات نے سنہ 2020 میں ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل سے تعلقات بڑھائے اور اس کے بعد دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت میں تعاون بڑھایا۔
پاکستان نے تاحال اس سے تعلقات نارمل رکھے ہوئے ہیں مگر لگتا ہے زیادہ عرصہ نارمل نہیں رہ پائیں گے۔ خمیازہ شاید امارات میں مقیم پاکستانی کاروباری و مزدور طبقے کو بھی بھگتنا پڑے۔ سعودی چھترچھایہ سے نکل کر اسرائیلی چھتری تلے آنے تک کا اماراتی سفر بھی خوب رہا۔ بالکل اس گانے کی مانند۔۔
کیا سے کیا ہو گئے دیکھتے دیکھتے
بے وفا ہو گئے دیکھتے دیکھتے

