Comrade Nazir
کامریڈ نذیر
درمیانہ قد، جادوئی آنکھیں، داڑھی منڈوائی ہوئی اس پر مونچھیں، سر کے آدھے سے زیادہ بالوں میں سفیدی، ہمیشہ شلوار قمیض پر اونی جیکٹ، گلے میں سبز رومال، لہجے میں استقلال اور بہادری، مضبوط اور مستحکم موقف، وہ سر سے پاؤں تک کامریڈ نظر آتا تھا اسی لیے سب اس کو کامریڈ نذیر پکارتے تھے۔ تعلیم واجبی سی حاصل کی تھی مگر وہ صاحب مطالعہ تھا، ہمہ وقت انقلابی تحریک کی کتابیں پڑھتا رہتا تھا، کتابوں سے دوستی نے اسے اپنے نظریے پر استوار رہنا سکھا دیا۔
گو کہ اس کے گھریلو حالات بھی اس قدر اچھے نہیں تھے، نہ کوئی نوکری نہ کاروبار نہ مزدوری کا نظام، مالی تنگدستی اپنی جگہ مسائل کے پہاڑ بن کر کھڑی رہتی تھی، جس وجہ سے گھر والے اور والدین بھی کامریڈ نذیر سے ناخوش تھے۔ اس کے والد صاحب اس کے رویے سے عاجز آ چکے تھے اور بیوی بچے روز روز کے فاقوں سے تنگ آ چکے تھے، ان سب کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ "چھوڑو یہ قوم پرستی کی لعنت، قوم کی فکر کرنے سے گھر کا چولہا نہیں جلتا"۔ مگر وہ اپنے بھروسے، کسی کی پروا کیے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ اسے امید تھی کہ ایک دن ساری قوم ایک ساتھ اپنے حقوق اور آزادی کے لیے آٹھ کھڑے ہوں گی۔ اسے لگتا تھا کہ اس کی آواز سنی جائے گی اور سب اس کی پکار پر لبیک کہیں گے۔
وقت گزرتا گیا اور کامریڈ نذیر اپنے نظریے کے ساتھ مزید سے مزید تر جڑتا چلا گیا اور قوم پرستی اور کامریڈ نذیر ایک ہی سکے کے دو رخ معلوم ہونے لگے۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، اوڑھنا بچھونا قوم اور قوم پرست رہنماؤں، کارکنوں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا رہ گیا۔ ملک کے کونے کونے سے قوم پرست تنظیموں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے اسے مدعو کیا جانے لگا اور یوں ایک بہت بڑے حلقے میں اس کی پہچان بن گئی۔ اسے بولنے کا سلیقہ آتا تھا ساتھ ہی اس کی تحریریں بھی جاندار ہوا کرتی تھیں، پر اثر انداز بیان اور دلنشین انداز تحریر کی وجہ سے اسے پڑھے لکھے طبقے میں شمار کیا جانے لگا۔ سنجیدہ حلقوں میں اس کے نظریے کی تائید اور تردید میں بحثیں ہونے لگیں۔
وہ اپنی قوم کی آزادی کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھاتے اور عملی طور پر متحرک رہتا تھا کہ اسی دوران اپنے گاؤں سے شہر جاتے وقت پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ تھانے لے جانے کے بعد اسے حوالات میں بند کر دیا، اس نے پولیس والوں سے اس غیر قانونی گرفتاری پر استفسار کیا، وہاں کی پولیس نے لا علمی کا مظاہرہ کیا فقط اتنا کہا کہ "اوپر سے آرڈر آیا ہے تمھیں گرفتار کرنے کا"۔ چند گھنٹے بعد سیول کپڑوں میں دو نقاب پوش آئے انھوں نے اپنا تعارف خفیہ ایجنسی سے کرایا۔ انھوں نے کامریڈ نذیر کی روزمرہ زندگی کی مصروفیات کے بارے میں چند سوالات کیں، ان کے پاس اس کی ہر ایکٹیویٹی کا ریکارڈ موجود تھا یعنی پورے سال میں وہ کس تاریخ کو کس رہنما سے ملا، کس کانفرنس میں شرکت کی، کس دن احتجاج کی کال دی، کس تک اپنی قوم کی آزادی کے حوالے سے تقریر کی اور کس تاریخ کو سوشل میڈیا پر کون سی پوسٹ کی۔ یہ سب تفصیلات دیکھ کر کامریڈ نذیر کو حیرت ہوئی کہ ایجنسیوں کی توجہ اس پر کتنے سالوں سے مرکوز ہے۔ وہ اپنی صفائی میں کچھ نہ کہہ سکا فقط اتنا کہا: "مجھے اپنی قوم کی غلامی کا احساس ہے لہذا میں اپنے تئیں آزادی کے لیے جہدوجہد کر رہا ہوں"۔
ایک اہلکار کو شدید غصہ آیا اس نے ایک زور دار تمانچہ اس کے منہ پہ مارا اور کہا: "سالے تم نے آزادی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کیا؟ اس پورے خطے میں صرف تم ہی صاحب احساس ہو باقی سب بے حس؟ تم دشمن ملک کے ایجنٹ ہو جو تمھیں پیسے دے کر یہاں انتشار پھیلانا چاہتا ہے"۔
"نہیں صاحب ایسی کوئی بات نہیں ہے، میرے خطے کے لوگوں کو اپنی غلامی کا احساس ہو رہا ہے اسی لیے مختلف حلقوں سے آزادی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ جو ریاست صدیوں سے ہمارے خطے پر قابض ہو اور ہمارے بنیادی حقوق پورے کرنے کی بجائے ہم سے ہمارے قیمتی اثاثے چھیننے کی کوشش کرے، ایسی صورت کو ہر صاحب شعور غلامی ہی کہتا ہے۔ ریاستوں میں یہ دستور صدیوں سے رائج رہا ہے کہ جو بھی صاحب شعور ہو اسے دشمن ملکوں کے ایجنٹ اور غدار کہا جاتا ہے"۔
کامریڈ نذیر کی باتیں سن کر دوسرے اہلکار طیش میں آیا اور لاٹھی سے مارنا شروع کر دیا۔ اس رات حوالات میں انھوں نے کامریڈ نذیر کو اتنا مارا کہ صبح تک اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔
ہسپتال میں اس کے عزیز و اقارب اور دوست ملنے آئے، سب نے اسے سمجھایا کہ آئندہ قوم کی فکر کرنا چھوڑ دیں، مگر وہ اپنے نظریے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
"مجھے موت قبول ہے لیکن ایک قابض ریاست کی غلامی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ میں اپنی قوم کو اس کی غلامی کا احساس ہونے تک کوشش کرتا رہوں گا، جس دن میری قوم کے ہر فرد کو اپنی غلامی کا احساس ہو جائے گا اس دن میں خاموش ہونے کے لیے تیار ہوں"۔
تمام احباب کامریڈ نذیر کی ضد سے دل برداشتہ ہو کر اس سے دوری اختیار کرنے لگے، اس کی وجہ سے اس کے خاندان والے اور دوست احباب بھی ایجنسی کی نظر میں آ گئے تھے لہذا انھوں نے اپنے آپ کو اس مصیبت سے بچانے کے لیے اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ ان سب پریشانیوں کے باوجود وہ ٹوٹنے کے لیے تیار نہیں تھا اور وہ اپنے ارادے میں پہلے سے زیادہ مضبوط نظر آ رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد وہ اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی چھوٹی سی چھوٹی محرومیوں پر ریاست کے آگے سوال اٹھانے لگا، اس کا ہر سوال ریاست کے سینے میں تیر کی طرح چبھنے لگا لہذا ریاست نے اس کے ساتھ مزید سختی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد اس کی راہ میں ریاست ہر وقت حائل ہو جاتی اور اس کو ذہنی کوفت میں مبتلا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جانے لگی۔
قومی خدمت میں وہ اس قدر مصروف ہوگیا کہ اس کی اپنی ذاتی زندگی مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گئی، نہ ڈھنگ سے پہنے کو کپڑے تھے نہ کھانے کو کچھ نہ صحت کی بہتر سہولیات تھیں، اوپر سے ایجنسیوں کی دھمکیاں، گھر والوں کی لاتعلقی اور قوم کی بزدلی نے اسے ہارٹ کا مریض بنا دیا۔ پریشانیوں اور اپنے مقصد کی سست روی نے اسے مکمل طور پر ہارٹ کا مریض بنا دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کا یہ مرض اسے دعاؤں سے دواؤں تک لے آیا۔ اب وہ دوائیوں کے سہارے ہی زندگی کر رہا تھا اسی لیے انتظامیہ کو اس کی بیماری والی کمزوری ہاتھ آ گئی۔
نقص امن کے الزام میں اسے فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا اور ضلعے کے ڈی سی نے حکم جاری کر دیا کہ کامریڈ نذیر کو ضلع چھوڑ کر جانے کی اجازت نہ دی جائے، اس کی نگرانی کے لیے دو پولیس والوں کی ڈیوٹی اس پل پر لگا دی گئی جس پل سے گزر کر وہ شہر اپنے علاج کے لیے جا سکتا تھا۔
گاؤں میں ایک چھوٹا سا دواخانہ تھا جہاں ایک نرسنگ ڈیوٹی دیتا تھا۔ ایک رات اس کے سینے میں شدید درد ہونے لگا، گاؤں کے لوگوں نے اسے سہارا دے کر دواخانے پہچایا گیا۔ جب نرسنگ نے اس کی یہ حالت دیکھی تو فوراً شہر کے بڑے ہسپتال لے جانے کے لیے کہا گیا۔ جب گاڑی بک کرکے گاؤں والے کامریڈ نذیر کو شہر لے جا رہے تھے تب پل پہ پہنچنے سے پہلے ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے گاڑی روکی اور اسے شہر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔
"ارے جناب میری طبیعت خراب ہے، ہارٹ کا مریض ہوں مجھے شہر چیک آپ کے لیے جانا ہے، شام تک میں اپنے ضلع میں واپس آؤں گا پلیز جانے دیجیے"۔ کامریڈ نذیر درد سے کراہتے ہوئے پولیس اہلکاروں سے التجا کر رہا تھا۔
"کامریڈ نذیر صاحب آپ کی بیماری تو کیا آپ مر بھی جائے تب بھی یہ پل کراس کرکے آپ شہر نہیں جا سکتے۔ ہمیں اوپر سے سخت آرڈر ہے لہذا آپ کو شہر بھیجنا ناممکن ہے"۔
پولیس والوں کو اہل علاقہ نے منانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کسی صورت ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس واقعے پر کامریڈ نذیر سب سے زیادہ رنجیدہ ہوا کیونکہ جن پولیس والوں نے اسے اپنے ضلع میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا وہ پولیس اہلکار کوئی اور نہیں اس کی اپنی قوم سے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں لیٹے لیٹے، درد سے کراہتے ہوئے یہی سوچ کر ہلکان ہوتا جاتا تھا کہ "جس قوم کی آزادی اور حقوق کے لیے میں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا اسی قوم کے افراد مجھے بیماری میں مرنے کے لیے چھوڑ رہے ہیں"۔ وہ اسی بات کے داغ میں تڑپتا رہا اور اسی تکلیف میں دوبارا اپنے آپ کو ہسپتال پہنچانے کے لیے کوشش ہی نہیں کی اور اپنے آپ کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔

