Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Budget, Girani Aur Ghareeb Ka Shikam

Budget, Girani Aur Ghareeb Ka Shikam

بجٹ، گرانی اور غریب کا شکم

بجٹ کے اس تاریخی دن، بندن میاں اس امید پر صبح نہا دھو کر تیار ہو کر اس طرح ٹی وی کے آگے براجمان ہوئے جیسے آج کی مائیں بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے کر بے فکر ہو جاتی ہیں۔ گھر کے تمام افراد حیران و پریشان تھے کہ آج ایسی کونسی قیامت خیز خبر آنے والی ہے جو بندن میاں نے علی الصباح ٹی وی لاؤنج میں باقاعدہ خیمہ زن ہو کر ڈیرے ڈال لیے ہیں اور ہر آنے جانے والے کو یوں خاموشی اختیار کرنے کا جابرانہ حکم صادر کر رہے ہیں جیسے ذرا سی جنبش سے ملکی معیشت کا نازک آبگینہ چکنا چور ہو جائے گا۔

بندن میاں کے چہرے پر کبھی امید کا سرخ رنگ آ رہا تھا تو کبھی خوف کا زرد رنگ جا رہا تھا وہ بار بار اپنی بوسیدہ عینک کو کلف لگے کرتے کے دامن سے صاف کرتے اور ٹی وی سکرین پر نمودار ہونے والے وزیرِ خزانہ کے چمکتے دمکتے اور گداز چہرے کو یوں گھورتے گویا اسی چہرے کے پیچھے ان کی بقا کا راز چھپا ہو۔ لیکن جوں جوں بجٹ تقریر کے اعداد و شمار کا جادوئی طلسم کھلتا گیا اور لفظی بازیگری کے غبارے سے ہوا نکلتی گئی توں توں بندن میاں کے چہرے کے تاثرات کسی سستی ہارر فلم کے مناظر کی طرح بدلنے لگے اور جیسے ہی وزیرِ موصوف نے تنخواہ داروں اور پینشنرز کے لیے اس عظیم الشان اور تاریخی ریلیف کا اعلان کیا جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں تھا تو بندن میاں کے صبر کا پیمانہ یکسر لبریز ہوگیا اور انہوں نے ایک دل دوز چیخ مار کر لاؤنج میں وہ تاریخی نعرہ بلند کیا کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا، وہ بھی مرا ہوا۔

بندن میاں کی اس وحشت ناک دہائی پر پورا خاندان جو اب تک سہم کر کونوں کھدروں میں چھپا ہوا تھا یوں امڈ آیا جیسے محلے میں لٹھ ماروں کی جنگ چھڑ گئی ہومگر بندن میاں اس وقت ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر معیشت کے اس گورکھ دھندے پر سر دھن رہے تھے جہاں عقلِ انسانی دنگ اور جیبِ خاکی بالکل لنگ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے بڑی حسرت سے اپنے اس پرانے، خستہ حال اور فاقہ مست پرس کی طرف دیکھا جو اب صرف شناختی کارڈ اور چند پرانے یوٹیلٹی بلوں کی لاشیں سنبھالنے کے کام آتا ہے اور پھر ٹی وی سکرین پر موجود اس بجٹ دستاویز کو کوسنے لگے جس نے غریب کی تنخواہ میں اتنا بھرپور اور شاہانہ اضافہ کیا تھا کہ اس خطیر رقم سے ان کے پوتے کے چند دن کے پیمپرز بھی نہیں خریدے جا سکتے تھےیعنی اب ملکی معیشت کا پہیہ اس نہج پر آ پہنچا ہے کہ غریب ملازم کی مہینے بھر کی جانفشانی کا حاصل صرف معصوم بچوں کی رفعِ حاجت کے انتظام میں ہی غرق ہو جائے گا اور باقی پورا مہینہ وہ خود ہوا خوردن و شکر کردن کے وظیفے پر گزارنے پر مجبور ہوگا۔

اس ملکِ خداداد میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اب اشیائے خورونوش بازار میں نہیں بلکہ کسی صرافہ بازار کی دکان پر بکتی محسوس ہوتی ہیں جہاں پیاز اور ٹماٹر کو دیکھ کر غریب کا بلڈ پریشر یوں ہائی ہوتا ہے جیسے وہ کسی شاہی خزانے کی چوری میں رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو اور مرغی کا گوشت تو اب مڈل کلاس طبقے کے لیے مفقود الخبر ہو کر ایک ایسی دیومالائی داستان بن چکا ہے جس کا ذکر صرف داستانِ امیر حمزہ یا پرانی مغلئی کتابوں میں ہی ملتا ہےکیونکہ اب چکن خریدنا غریب کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لیے باقاعدہ خاندانی جائیداد گروی رکھنے کی نوبت آ چکی ہے جبکہ بکرے اور بڑے کے گوشت کا حال تو یہ ہے کہ قصابوں کی دکانیں اب غریب و پینشنر کے لیے ممنوعہ بقعہ جات بن چکی ہیں جہاں وہ بھٹکنے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔

ان دکانوں کے باہر لٹکی ہوئی سرخ سرخ بوٹیاں کسی جلاد کی تلوار کی طرح چمکتی ہیں اور قصائی کا چھرا صرف جانور کی گردن پر نہیں بلکہ بوڑھے پینشنر کی سفید پوشی کے بھرم پر چلتا ہےچنانچہ کوئی بھی تنخواہ دار اب اس گلی سے گزرتے ہوئے اپنی نظریں یوں جھکا لیتا ہے گویا وہ کسی سنگین جرم کا مرتکب ہو رہا ہوکیونکہ گوشت کی خوشبو سونگھنا بھی اب جرمِ ضعیفی کے زمرے میں آتا ہے اور غریب کے بچے گوشت کے ذائقے کو صرف خوابوں کی وادیوں میں ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

بازار کا ہر ایک دکان دار اب گاہک کو سامان نہیں بیچتا بلکہ اس کی کھال اتارنے کی فراق میں بیٹھا رہتا ہے کریانے کی دکان پر جاؤ تو آٹے کی بوری کو دیکھ کر یوں گمان ہوتا ہے جیسے وہ آٹا نہیں بلکہ ہیرے اور جواہرات کی کوئی نایاب کان ہو جس کی چوکیداری کے لیے کسی گن مین کی ضرورت ہےدالیں جو کبھی غریب کی سستی غذا کہلاتی تھیں اب اپنی قیمتوں کے لحاظ سے اعلیٰ ظرف ہو چکی ہیں اور مسور و چنا کی دالیں غریب کی ہانڈی میں گرنے سے پہلے اس کی جیب کا پورا توازن بگاڑ دیتی ہیں یہاں تک کہ کوکنگ آئل کا ایک قطرہ بھی اب غریب کے توے پر گرتا ہے تو دل میں درد کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے کیونکہ اس چمکتے ہوئے تیل کی قیمت اب آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں غریب کو کھانا پکانے کے لیے تیل کی جگہ صرف آنسوؤں کے پانی کا استعمال کرنا پڑے گا۔

سفید پوش اور تنخواہ دار طبقے کی حالتِ زار کا اگر احاطہ کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے یہ وہ مفلوک الحال قبیلہ ہے جو صبح سویرے پیٹ پر جبر کا پٹکا باندھ کر گھر سے نکلتا ہےدن بھر افسرانِ بالا کی جلی کٹی اور تند و تیز جرح برداشت کرتا ہے فائلیں کترتا ہے اور مہینے کے آخر میں جب اسے تنخواہ نامی وہ قلیل سی خوراک ملتی ہے تو وہ دکان داروں، دودھ والے، اسکول کی فیس اور بجلی کے جابرانہ بلوں کے ہاتھوں منٹوں میں یوں لوٹ لی جاتی ہے جیسے کسی ڈاکوؤں کے غروہ نے نہتے مسافر پر شب خون مارا ہو۔

بجلی کا بل اب کوئی بل نہیں رہا بلکہ وہ ہر مہینے غریب کے گھر پر گرنے والا ایک آسمانی بم بن چکا ہے جس کی ہولناکی سے بوڑھے والدین کے دل بیٹھ جاتے ہیں اور جوان بچوں کے چہرے تاریک ہو جاتے ہیں میٹر کی تیزی سے گھومتی ہوئی گراری غریب کی رگوں سے خون نچوڑتی ہے اور جب اس بل پر ٹیکسوں کی بھرمار دیکھی جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جتنی بجلی استعمال نہیں کی گئی اس سے دگنا ٹیکس تو حکومتِ وقت نے اپنی عیاشیوں کا متبادل بنا کر غریب کی پیٹھ پر تھوپ دیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ ہر نئے بجٹ میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے جو غریب کو اندھیرے کمروں میں بیٹھ کر سسکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

پینشنرز کا تو حال اس سے بھی زیادہ ابتر اور خستہ ہے یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کے سنہری ایام اس دھرتی کی خدمت میں خاک کیےجن کی کمر اب جھک کر کمان ہو چکی ہے اور آنکھیں دھندلا گئی ہیں مگر حکومتِ وقت نے ان کی پینشن میں جو مقدس اور فیاضانہ اضافہ فرمایا ہے اس سے ان کی شوگر اور بلڈ پریشر کی ایک ہفتے کی دوائیاں بھی نہیں آتیں گویا بجٹ بنانے والے جاہ و جلال کے نشے میں چور بزرجمہروں کا خیال ہے کہ بوڑھے پینشنرز کو اب دوا اور غذا کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ وہ صرف ہوا کھا کر اور حبِ وطنی کے گیت گا کر ہی بقائے دوام حاصل کر سکتے ہیں۔

بندن میاں نے اسی کسمپرسی اور کساد بازاری کے ماتم میں اپنے لاغر وجود کو صوفے پر ڈھیر کرتے ہوئے ایک سرد آہ بھری کہ یہ بجٹ نہیں بلکہ مرگِ مفاجات کا پروانہ ہے ایک ایسا عذابِ مسلسل ہے جس نے عوام کی زیست کو جہنمِ زار بنا دیا ہے جہاں گرانیِ اسعار یعنی مہنگائی کا یہ طوفانِ بلا خیز ہر سفید پوش کی عزتِ نفس کو سرِ بازار نیلام کر رہا ہے اور حاکمانِ وقت اپنی عیاشیوں کے قصرِ شاہی میں بیٹھ کر رعایائے بے بس کا خون نچوڑنے میں مصروف ہیں تفتان و زاہدان سے لائی گئی مہنگی چائے کی چسکیاں لیتے یہ حکمران کیا جانیں کہ فقیرِ منش عوام کس طرح پیاز کے ایک ٹکڑے اور سوکھی روٹی پر شکرِ نعمت کے وظیفے پڑھتے ہیں اور جب تنخواہ میں چند کوڑیوں کا اضافہ کرکے اسے اخبارات میں یوں اچھالا جاتا ہے جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو تو دل سے یہی صدا نکلتی ہے کہ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کیونکہ اس بجٹ نے غریب کو جینے کی امید دلانے کے بجائے موت کے زیادہ قریب کر دیا ہے اور اب تو یہ عالم ہے کہ غریب آدمی مرنے سے بھی ڈرتا ہے کہ کہیں کفن دفن کے اخراجات پر بھی حکومت جی ایس ٹی نافذ نہ کر دے۔

اس دورِ پرفتن میں غریب کی زندگی ایک ایسی گاڑی بن چکی ہے جس کے چاروں ٹائر پنکچر ہیں اور حکومت اس کے انجن پر پٹرول کے بجائے مزید ٹیکسوں کا بوجھ لاد رہی ہےپبلک ٹرانسپورٹ کا کرایہ اب غریب کی روزانہ کی دیہاڑی کا آدھا حصہ چاٹ جاتا ہے اور پٹرول کی قیمتوں میں ہر سات دن بعد ہونے والا اضافہِ بے لجام غریب کے موٹر سائیکل کے پہیے کو بھی جام کر دیتا ہےالغرض کوئی ایسا شعبہ نہیں بچا جہاں غریب کو سکھ کا ایک سانس نصیب ہو سکے اسکولوں کی فیسیں اتنی بڑھ چکی ہیں کہ غریب کا بچہ اب کتابیں چھوڑ کر ورکشاپوں پر بیٹھنے پر مجبور ہے کیونکہ تعلیم اب کوئی بنیادی حق نہیں بلکہ سرمایہ داروں کی دکان بن چکی ہے جہاں صرف امرا کے بچے ہی علم کی روشنی خرید سکتے ہیں اور غریب کی قسمت میں صرف جہالت کی تاریکی اور محنت مزدوری کا طوق لکھ دیا گیا ہے۔

مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ایوانوں میں بیٹھ کر غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرنے والے کرتہ دھرتاکبھی ایک لمحے کے لیے سوچتے ہیں کہ جس قلیل ترین اور مضحکہ خیزرقم کو انہوں نے ایک مزدور اور ملازم کی کم سے کم تنخواہ مقرر کیا ہےکیا اس میں ان کا اپنا ایک دن کا شاہانہ ناشتہ بھی آ سکتا ہے؟ کیا ان کے نزدیک غریب کا پیٹ کوئی فالتو برتن ہے جسے صرف سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں اور زہریلے پانی سے بھرا جا سکتا ہےاور ان کا اپنا شکمِ مبارک کوئی مقدس امانت ہے جس میں دنیا بھر کی نعمتیں، درآمد شدہ پھل اور لذیذ ترین مغزیات نہ جائیں تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے؟ کیا ان کے اور ایک عام مزدور کے پیٹ کی ساخت میں کوئی الٰہی فرق ہےیا ان کے خون کا رنگ سرخ کے بجائے کوئی نیلا شاہی رنگ ہے؟

جب بیماری کا وقت آتا ہے تو غریب کا بچہ تپ دق، ملیریا اور ٹائیفائیڈ کی تپش میں سرکاری ہسپتالوں کے سرد فرش پر لیٹ کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیتا ہے کیونکہ اس کی جیب میں دوا کے چند پیسوں کی سکت نہیں ہوتی جبکہ انہی کرتہ دھرتاؤں کو زکام بھی ہو جائے تو سرکاری خرچے پر بیرونِ ملک کے مہنگے ترین شفا خانوں کے شاہی بستر ان کے منتظر ہوتے ہیں کیا غریب کی بیماری، بیماری نہیں اور ان کی تکلیف کوئی کائناتی المیہ ہے؟ یہ کیسا اندھیر نگری چوپٹ راج ہے جہاں قانون بنانے والے خود تو اربوں روپے کی مراعات، مفت بجلی، مفت پٹرول اور عالی شان محلوں کے مزے لوٹتے ہیں لیکن جب غریب کو چند ہزار روپوں کا ریلیف دینے کا وقت آتا ہے تو معیشت کے ڈوبنے کا رونا رو کر کفایت شعاری کے تمام تر نشتر اسی غریب کے نحیف وجود میں چبھو دیے جاتے ہیں۔

کاش ان سنگدل مقتدر حلقوں کے مردہ ضمیر کو کوئی ایک بار جھنجوڑ کر یہ احساس دلا سکے کہ بھوک غریب کی بھی اتنی ہی تڑپانے والی ہوتی ہے جتنی کسی امیر کی اور جب ایک پینشنر کی آنکھ سے اپنی بے بسی پر آنسو گرتا ہے تو عرشِ الٰہی بھی ہل جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے کہ غریب کی فاقہ مستی کا یہ لاوا پھٹ پڑے اور تمہارے ان قصرِ شاہی کے در و دیوار کو جلا کر راکھ کر دے اپنے گریبانوں میں جھانکو اور انسان اور انسان کے درمیان تفریق کے اس بھیانک کھیل کو بند کرو ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کے صبر کا بندھن ٹوٹتا ہے تو پھر نہ کوئی ایوان بچتا ہے اور نہ ہی کوئی ایوان والا۔

Check Also

Jab Aik Ghareeb Ne Meri Biryani Chori Kar Li

By Babar Ali