Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anfal
  4. Shohrat Ki Bhook Ya Izzat Ki Neelami?

Shohrat Ki Bhook Ya Izzat Ki Neelami?

شہرت کی بھوک یا عزت کی نیلامی؟

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو کسی عام انسان کو راتوں رات مشہور بنا سکتی ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اب شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں کچھ لوگ اپنی عزت، کردار اور خاندان کی عزت تک داؤ پر لگانے لگے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں حیا اور عزت کو ہمیشہ اہمیت دی گئی، وہاں اب سستی شہرت کے لیے ہر حد پار کی جا رہی ہے۔

گزشتہ کچھ سالوں میں ہم نے دیکھا کہ کئی ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے نام اسکینڈلز کے ساتھ سامنے آئے۔ کہیں نازیبا ویڈیوز لیک ہوئیں، کہیں خود ہی متنازع مواد اپلوڈ کرکے توجہ حاصل کی گئی اور کہیں پرائیویسی کو ڈرامہ بنا کر فالوورز بڑھائے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی چند لاکھ ویوز اور فالوورز انسان کی عزت سے زیادہ قیمتی ہو گئے ہیں؟

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی اس گندگی کو فروغ دینے میں برابر کا شریک ہے۔ جتنی جلدی کوئی متنازع ویڈیو وائرل ہوتی ہے، اتنی جلدی کسی باصلاحیت انسان کا کام وائرل نہیں ہوتا۔ لوگ گھنٹوں ایسی ویڈیوز تلاش کرتے ہیں، شیئر کرتے ہیں اور پھر انہی لوگوں کو مشہور بھی بنا دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دوسرے نوجوان بھی یہی سمجھتے ہیں کہ شہرت حاصل کرنے کا آسان راستہ صرف اسکینڈل اور بے حیائی ہے۔

اصل مسئلہ صرف چند ٹک ٹاکرز نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو شہرت کو کردار سے بڑا سمجھنے لگی ہے۔ آج محنت، تعلیم اور صلاحیت سے زیادہ اہم "وائرل ہونا" بن چکا ہے۔ چاہے اس کے لیے عزت نیلام کرنی پڑے، خاندان کی بدنامی ہو، یا آنے والی نسلوں پر منفی اثر پڑے۔

خاص طور پر نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اس دوڑ میں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے فالوورز کم ہیں تو ان کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی احساسِ کمتری میں لوگ ایسے قدم اٹھا لیتے ہیں جن پر بعد میں پوری زندگی پچھتانا پڑتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی شہرت عارضی ہے، مگر عزت مستقل چیز ہے۔ چند دن کا ٹرینڈ ختم ہو جاتا ہے، مگر کردار پر لگا داغ آسانی سے نہیں مٹتا۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں فحاشی اور اسکینڈلز کو "انٹرٹینمنٹ" سمجھنا چھوڑنا ہوگا اور نوجوان نسل کو یہ سکھانا ہوگا کہ اصل کامیابی عزت، تعلیم اور کردار میں ہے، نہ کہ وائرل ہونے میں۔

کیونکہ جس معاشرے میں شہرت کے لیے عزت بیچی جانے لگے، وہاں اقدار آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہیں۔

Check Also

Aansu Sab Aik Jaise

By Muhammad Waris Dinari