Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Riyasat, Mazhabi Siasat Aur Arachi: Aik Taveel Dastan

Riyasat, Mazhabi Siasat Aur Arachi: Aik Taveel Dastan

ریاست، مذہبی سیاست اور کراچی: ایک طویل داستان

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات اور جماعتوں کا مطالعہ محض ان کے اعلانات یا بیانات سے نہیں بلکہ ان کے عملی سیاسی کردار، ریاستی طاقت کے مراکز سے تعلقات اور مختلف ادوار میں اختیار کی گئی حکمت عملیوں کی روشنی میں کرنا پڑتا ہے۔ مولانا حنیف طیب کی سیاسی زندگی بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے جسے کراچی، مذہبی سیاست، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور شہری سندھ کی سیاسی تشکیل کے وسیع تر تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔

مولانا حنیف طیب نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز انجمن طلباء اسلام (اے ٹی آئی) سے کیا، جو بریلوی یا صوفی سنی مکتب فکر کی طلبہ تنظیم سمجھی جاتی تھی۔ وہ نہ صرف کراچی میں اس تنظیم کے نمایاں رہنما بنے بلکہ بعد ازاں اے ٹی آئی کے ناظم اعلیٰ پاکستان بھی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) بنی جہاں وہ جلد ہی اہم قیادت میں شمار ہونے لگے۔

1977ء میں پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک میں مولانا حنیف طیب سرگرم کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے۔ پی این اے کی تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا، لیکن جلد ہی جے یو پی کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی اور فوجی حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔

مولانا نورانی مارشل لا کے خاتمے اور عام انتخابات کے حامی تھے۔ اگرچہ انہوں نے ایم آر ڈی میں باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی، لیکن وہ ضیاء آمریت کے ناقدین میں شامل ہوگئے۔ اسی مرحلے پر جے یو پی کے اندر ایک واضح تقسیم ابھر کر سامنے آئی۔

کراچی میں مولانا حنیف طیب، مولانا عبدالمصطفیٰ ازہری، مولانا ظہور الحسن بھوپالی اور حیدرآباد کے عثمان کینیڈی ان رہنماؤں میں شامل تھے جو مولانا نورانی کی ضیاء مخالف پالیسی سے متفق نہیں تھے۔ پنجاب میں مولانا عبدالستار نیازی، مولانا قمرالدین سیالوی، صاحبزادہ فضل کریم اور مختلف درگاہوں کے سجادہ نشین بھی اسی دھڑے کے قریب سمجھے جاتے تھے۔

یہی وہ مذہبی و سیاسی حلقے تھے جو بعد کے برسوں میں پنجاب میں نواز شریف کے لیے بریلوی ووٹ بینک متحرک کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے نظر آئے۔

جب مولانا نورانی نے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو مولانا حنیف طیب ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اس فیصلے سے کھلا اختلاف کیا۔ انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا، مجلس شوریٰ کے رکن بنے اور بعد ازاں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مقرر کیے گئے۔

یہ تقرری اس دور کی سیاسی حرکیات میں محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھی بلکہ اسے جے یو پی کے اندر ضیاء حکومت کے ساتھ تعاون کرنے والے حلقوں کی تقویت کے طور پر بھی دیکھا گیا۔

کراچی کی بلدیاتی سیاست: اختلاف کس بات پر تھا؟

مولانا حنیف طیب کے بعض حالیہ بیانات سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ضیاء دور میں کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی مخالفت دراصل آمریت مخالف موقف کا اظہار تھی۔

تاریخی ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتا۔

ضیاء دور میں ایم آر ڈی سے وابستہ جماعتوں نے نہ صرف 1985ء کے قومی و صوبائی انتخابات بلکہ بلدیاتی انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔ اس تناظر میں کراچی کی بلدیاتی سیاست کے اندر اصل مقابلہ آمریت اور جمہوریت کے درمیان نہیں بلکہ آمریت کے زیر سایہ مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان تھا۔

ایک طرف جماعت اسلامی تھی جسے ریاستی سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دوسری جانب ضیاء نواز مگر جماعت اسلامی مخالف مذہبی اور شہری سیاسی حلقے موجود تھے۔ نتیجتاً کامیابی جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کے حصے میں آئی۔

مہاجر سیاست، جے یو پی اور کراچی

1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں شہری سندھ میں مہاجر قوم پرست سیاست کے ابھار نے کراچی کی سیاسی سمت متعین کی۔

مولانا شاہ احمد نورانی اس رجحان کے ناقد تھے اور اسے شہری سندھ کی کثیرالثقافتی سیاست کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس جے یو پی کے بعض حلقے یا تو اس سیاست کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے یا اس کی مخالفت میں سرگرم کردار ادا نہیں کر رہے تھے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 1988ء، 1990ء، 1993ء اور 1997ء کے انتخابات میں کراچی میں مولانا نورانی کی ناکامی کے اسباب میں یہی داخلی تقسیم بھی شامل تھی۔

مشرف دور، ایم ایم اے اور مذہبی سیاست

جنرل پرویز مشرف کے دور میں مولانا حنیف طیب نے نظام مصطفیٰ پارٹی قائم کی اور مشرف حکومت کے لیے نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا۔

اسی زمانے میں متحدہ مجلس عمل وجود میں آئی جسے بے نظیر بھٹو نے "ملا ملٹری الائنس" قرار دیا تھا۔ 2002ء کے انتخابات کے بعد ایم ایم اے کو خیبر پختونخوا میں حکومت ملی جبکہ قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمن قائد حزب اختلاف بنے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم ایم اے کی قیادت میں شامل واحد شخصیت جسے قومی اسمبلی تک پہنچنے سے روکا گیا، وہ مولانا شاہ احمد نورانی تھے۔ بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں سینیٹ میں جگہ دی۔

اسی عرصے میں قاضی حسین احمد اور مولانا نورانی ان رہنماؤں میں شامل تھے جو جنرل مشرف کے لیگل فریم ورک آرڈر (LFO) اور باوردی صدارت کی مخالفت کر رہے تھے۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ کا طویل سایہ

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک مستقل سوال یہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور ریاستی اداروں کے درمیان تعلقات کس نوعیت کے رہے ہیں۔

ایوب خان کے بنیادی جمہوریتوں کے نظام سے لے کر جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ادوار تک مختلف مذہبی جماعتوں کے بعض دھڑے ریاستی سرپرستی سے فائدہ اٹھاتے رہے۔ متعدد سیاسی و صحافتی تحقیقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ 1970ء کی دہائی میں فوج کے اندر دائیں بازو کے حامی حلقے مختلف مذہبی و سیاسی قوتوں سے رابطے میں تھے اور بعض معاملات میں مالی معاونت کے الزامات بھی سامنے آتے رہے۔

اسی دوران جب بعض جماعتوں کی مرکزی قیادت فوجی حکمرانوں سے اختلاف کی راہ پر چلی تو ان جماعتوں کے اندر دھڑے بندی اور ٹوٹ پھوٹ کے واقعات بھی سامنے آئے۔

آکٹوپس: ایک استعارہ

پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو محض ایک عسکری ادارہ سمجھنا شاید اس کی اصل سیاسی موجودگی کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتا۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں اسٹیبلشمنٹ نے سیاست، صحافت، بیوروکریسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، بار ایسوسی ایشنز، جامعات اور شہری سماج کے مختلف حصوں میں اثر و رسوخ کا ایک ایسا جال قائم کیا جسے بعض ناقدین "آکٹوپس" سے تشبیہ دیتے ہیں۔

اس نقطہ نظر کے مطابق یہ اثر و رسوخ صرف براہ راست مداخلت تک محدود نہیں بلکہ سیاسی انجینئرنگ، ادارہ جاتی دباؤ، سرپرستی اور غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے بھی کام کرتا ہے۔

نئی عوامی تحریکوں کا ابھار

روایتی سیاسی جماعتوں، طلبہ یونینز اور مزدور تنظیموں کے کمزور ہونے کے بعد پاکستان میں نئی نوعیت کی عوامی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)، عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی جیسی تحریکیں اسی پس منظر میں ابھری ہیں۔

یہ تحریکیں روایتی جماعتی سیاست سے ہٹ کر براہ راست عوامی مطالبات اور مقامی حقوق کے سوالات کو اٹھاتی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ریاستی طاقت کے ان مراکز کے لیے ایک نئے چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہیں جو سیاسی عمل کو اپنی مرضی کے مطابق منظم رکھنے کے عادی رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کو محض منتخب حکومتوں اور فوجی ادوار کی تبدیلی سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کے مستقل مراکز کہاں موجود رہے، انہوں نے سیاسی جماعتوں، مذہبی قوتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات قائم کیے اور کس طرح مختلف ادوار میں نئے سیاسی کھلاڑی پیدا یا کمزور کیے گئے۔

مولانا حنیف طیب کی سیاسی زندگی اسی بڑی داستان کا ایک باب ہے۔ یہ باب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشمکش اکثر جمہوریت اور آمریت کے درمیان سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ اس کے اندر ریاست، مذہبی سیاست، شہری شناختوں اور طاقت کے غیر مرئی مراکز کا ایک پیچیدہ جال مسلسل سرگرم رہتا ہے۔ یہی جال بعض اوقات ایک آکٹوپس کی مانند پورے سیاسی منظرنامے پر سایہ فگن دکھائی دیتا ہے۔

Check Also

Chiragh e Raah Phir Roshan Ho Gaya

By Abu Nasr