Thursday, 28 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Aurat Ki Azadi: Kuch Naye Zawiye

Aurat Ki Azadi: Kuch Naye Zawiye

عورت کی آزادی: کچھ نئے زاویے

عورت مارچ کراچی کے تناظر میں ہمارے حلقہ دوستاں میں باہم بحث و مباحثے میں کچھ ایسے نکات سامنے لائے گئے جنھیں میں نے اس موضوع پر بحث کے دوران سوشل میڈیا پر بحث کا مرکزی نکتہ بنتے نہیں دیکھا۔ میں انھیں یہاں پیش کر رہا ہوں:

لبرل سیاسی فکر میں معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک "گھر" یا خاندانی دائرہ اور دوسرا "سول سوسائٹی" یعنی وہ عوامی دنیا جہاں سیاست، قانون، حقوق، ملازمت، عدالت اور شہری زندگی موجود ہوتی ہے۔

لبرل فکر یہ فرض کرتی ہے کہ گھر ایک "فطری" جگہ ہے۔ یعنی جیسے مرد، عورت، خاندان اور بچوں کے تعلقات ہمیشہ سے ایسے ہی تھے اور ان میں سیاست یا طاقت کا کوئی کردار نہیں۔ اسی لیے گھر کو "نجی" معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، سول سوسائٹی کو ایک سیاسی میدان سمجھا جاتا ہے جہاں ریاست لوگوں کو حقوق دیتی ہے، قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان "شہری" یا "فرد" کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

اب مسئلہ عورت کے مقام سے پیدا ہوتا ہے۔ عورت کو اس سوچ میں "فطری طور پر" گھر کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یعنی یہ تصور بنایا جاتا ہے کہ بچے پیدا کرنا، ان کی پرورش کرنا، کھانا پکانا، دیکھ بھال کرنا اور گھریلو محنت عورت کی "قدرتی ذمہ داری" ہے۔ حالانکہ یہ بھی ایک سماجی اور معاشی محنت ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جس گھر کو عورت کا "نجی دائرہ" کہا جاتا ہے، وہاں بھی عورت مکمل آزادی نہیں رکھتی۔ مرد مسلسل اس دائرے میں اختیار استعمال کرتا ہے۔ یعنی گھر حقیقت میں عورت کے لیے مکمل نجی یا آزاد جگہ نہیں بنتا۔

دوسری طرف، لبرل فکر میں "حقوق رکھنے والا مکمل فرد" وہی بنتا ہے جو سول سوسائٹی میں داخل ہو۔ چونکہ عورت کو پہلے ہی گھر کے اندر محدود کر دیا جاتا ہے، اس لیے وہ مکمل سیاسی و سماجی فرد کے طور پر تسلیم نہیں کی جاتی۔ اس کے مقابلے میں مرد دونوں جگہوں پر موجود ہوتا ہے: گھر میں وہ اختیار اور طاقت استعمال کرتا ہے، جبکہ عوامی دنیا میں وہ حقوق حاصل کرتا ہے۔

جب قوم پرستانہ تحریکوں میں عورت کو "قوم کی ماں"، "عزت"، "ثقافت" یا "وطن کی علامت" بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو یہ تصور عورت کو مزید گھر اور نجی دائرے کے ساتھ باندھ دیتا ہے یا اسے سیاسی طاقت بھی دیتا ہے؟ یعنی عورت کی یہ علامتی تصویر آزادی پیدا کرتی ہے یا ایک نئے طریقے سے قید؟

مثال کے طور پر ہم نے دیکھا کہ بلوچ یک جہتی کمیٹی کی سرکردہ نوجوان خواتین کو بلوچ اور پشتون قوم پرست سیاسی رہنماؤں، ممتاز سرداروں اور یہاں تک کہ عام بلوچ مردوں نے بلوچی چادر پہنائی یا اس کا تحفہ دیا۔ یہ عمل کیا ظاہر کرتا ہے؟

اس عمل کو محض ایک ثقافتی احترام یا روایتی اعزاز کے طور پر دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ مارکسی، فیمینسٹ اور ثقافتی سیاسی تناظر میں یہ ایک نہایت پیچیدہ علامتی عمل ہے، جس کے اندر قبولیت، ضبط، اخلاقی جواز اور طاقت کے کئی پرت دار رشتے موجود ہوتے ہیں۔

جب بلوچ سردار، سیاسی رہنما یا عام مرد Baloch Yakjehti Committee کی سرکردہ خواتین کو بلوچی چادر اوڑھاتے ہیں تو بظاہر یہ عمل عزت، حمایت، قومی وابستگی اور ثقافتی شناخت کے اعتراف کے طور پر پیش آتا ہے۔ چادر یہاں صرف کپڑا نہیں رہتی بلکہ بلوچ روایت، وقار، غیرت اور قومی شناخت کی علامت بن جاتی ہے۔ اس معنی میں یہ عمل گویا یہ پیغام دیتا ہے کہ: "یہ عورتیں اب بلوچ قومی مزاحمت اور اجتماعی شناخت کا قابلِ احترام حصہ ہیں"۔

لیکن تنقیدی نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں طاقت کا ایک باریک عمل بھی شامل ہوتا ہے۔ کیونکہ چادر اوڑھانے والا اکثر مرد ہوتا ہے اور وہی عورت کو "عزت"، "قبولیت" یا "قومی تقدیس" عطا کرنے کا علامتی اختیار symbolic authority اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ یوں عورت کی سیاسی موجودگی کو ایک ثقافتی و اخلاقی فریم میں جذب کیا جاتا ہے۔ یعنی عورت بطور خودمختار سیاسی فاعل subject کم اور "بلوچ روایت کی باوقار بیٹی/بہن" زیادہ بنا دی جاتی ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا عورت اپنی سیاسی کردار یا اختیار agency کے ساتھ قبول کی جا رہی ہے، یا اسے روایت کے اندر دوبارہ "قابلِ قبول" بنایا جا رہا ہے؟

مارکسی فیمینسٹ تنقید کہے گی کہ قوم پرستانہ اور قبائلی سماج اکثر عورت کی مزاحمت کو مکمل آزادی کے طور پر قبول نہیں کرتے، بلکہ اسے ثقافتی علامتوں کے ذریعے مقامیانے domesticate کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چادر اوڑھانا ایک طرف عزت افزائی ہے، لیکن دوسری طرف یہ عورت کی سیاسی موجودگی کو "روایت"، "حیا"، "قومی غیرت" اور "اخلاقی پاکیزگی" کے ساتھ مشروط بھی کر سکتا ہے۔

گویا پیغام یہ بنتا ہے: "آپ سیاسی کردار ادا کر سکتی ہیں، لیکن بلوچ روایت کی مقرر کردہ حدود کے اندر"۔

اسی لیے اس عمل میں تضاد موجود ہے۔

ایک پہلو نجات والا emancipatory ہے، کیونکہ بلوچ سماج کے مردانہ و قبائلی حلقے عورتوں کی قیادت کو مکمل طور پر رد نہیں کر پا رہے بلکہ انہیں قومی مزاحمت کے مرکز میں جگہ دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ یہ خود بلوچ سماج میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

مگر دوسرا پہلو نظم و ضبط disciplinary بھی ہو سکتا ہے، جہاں عورت کی انقلابی یا خودمختار سیاست کو ثقافتی تقدیس کے ذریعے نرم، اخلاقی اور روایت کے تابع بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کارل مارکس کے بعد آنے والی مارکسی ثقافتی تنقید، خاص طور پر Antonio Gramsci جیسے مفکرین کے تصورِ hegemonic consent کی روشنی میں، اس عمل کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ طاقت صرف جبر سے نہیں بلکہ عزت، روایت، اخلاقیات اور ثقافتی قبولیت کے ذریعے بھی کام کرتی ہے۔

لہٰذا بلوچ چادر اوڑھانے کا یہ عمل بیک وقت: قبولیت بھی ہے، احترام بھی، قومی یکجہتی بھی اور عورت کی سیاسی موجودگی کو ثقافتی حدود میں جذب absorb کرنے کی کوشش بھی۔

Baloch Yakjehti Committee میں نوجوان عورتوں کے نمایاں اور ہر اول دستے کے کردار کو بلوچ سماج کی روایتی سیاسی قوتیں ایک پیچیدہ، متضاد اور بعض اوقات اضطرابی نظر سے دیکھتی ہیں۔ خاص طور پر وہ جماعتیں اور دھڑے جن پر قبائلی، سرداری اور مرد مرکز سماجی شعور غالب ہے، ان کے لیے یہ منظر محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ سماجی طاقت کے پرانے توازن میں دراڑ کا اشارہ بھی ہے۔

روایتی بلوچ سیاسی کلچر میں عورت کی موجودگی مکمل طور پر غائب کبھی نہیں رہی۔ بلوچ تاریخ اور لوک روایت میں عورت عزت، مزاحمت، مہمان نوازی اور قومی وقار کی علامت کے طور پر موجود رہی ہے۔ لیکن اس کی سیاسی موجودگی اکثر علامتی یا اخلاقی حیثیت تک محدود رکھی گئی۔ فیصلہ سازی، عسکریت، قبائلی ثالثی، قیادت اور اقتدار کے عملی مراکز زیادہ تر مردوں کے ہاتھ میں رہے۔

Baloch Yakjehti Committee جیسے پلیٹ فارم نے اس روایت میں ایک اہم تبدیلی پیدا کی، جہاں نوجوان عورتیں صرف "علامت" نہیں رہیں بلکہ جلسوں، احتجاجوں، تنظیم سازی، بیانیہ سازی اور مزاحمتی سیاست کی فعال قیادت میں سامنے آئیں۔ یہ بات قبائلی و سرداری ذہنیت کے لیے کئی سطحوں پر چیلنج بن جاتی ہے۔

ایک سطح پر روایتی سیاسی قوتیں اس کردار کو مجبوری کے تحت قبول بھی کرتی ہیں، کیونکہ جبری گمشدگیوں، ریاستی جبر اور انسانی حقوق کے سوالات پر عورتوں کی موجودگی تحریک کو اخلاقی طاقت اور عوامی ہمدردی فراہم کرتی ہے۔ ایک لاپتہ فرد کی ماں، بہن یا بیٹی کی آواز سماج میں زیادہ گہرا اثر پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے عورت یہاں مزاحمت کی "اخلاقی علامت" بن جاتی ہے۔

لیکن دوسری سطح پر یہی قوتیں عورت کی خودمختار سیاسی کردار اور اختیار agency سے بے چینی محسوس کرتی ہیں۔ کیونکہ جب عورت صرف مظلوم رشتہ دار نہیں بلکہ خود مقرر، منتظم، مقررہ بیانیے سے انحراف کرنے والی سیاسی فاعل بن جائے تو وہ قبائلی پدرشاہی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔ اس لمحے عورت "قوم کی عزت" سے آگے بڑھ کر اقتدار کے مردانہ ڈھانچے کو بھی چیلنج کرنے لگتی ہے۔

مارکسی اور فیمینسٹ زاویے سے دیکھا جائے تو یہاں ایک تضاد پیدا ہوتا ہے: ایک قومی یا مزاحمتی تحریک عورت کو اپنی اخلاقی قوت کے طور پر قبول کرتی ہے، مگر اسی وقت اس کی مکمل سیاسی خودمختاری سے ہچکچاہٹ بھی رکھتی ہے۔

اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ بعض بلوچ قوم پرست یا قبائلی حلقے عورتوں کی شرکت کو اس وقت تک سراہتے ہیں جب تک وہ "قومی مقصد" کے تابع رہے، لیکن جیسے ہی عورتیں اندرونی پدرشاہی، قبائلی جبر، یا مردانہ قیادت کے احتساب کی بات کریں تو ردعمل سخت ہو جاتا ہے۔

یہ کیفیت صرف بلوچ سماج تک محدود نہیں۔ دنیا کی کئی قوم پرستانہ تحریکوں میں عورتوں کو مزاحمت کے اگلے مورچوں پر جگہ دی گئی، مگر آزادی یا سیاسی پیش رفت کے بعد اکثر انہیں دوبارہ "روایتی کردار" کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہوئی۔

بلوچ سماج میں نوجوان عورتوں کی یہ نئی سیاسی موجودگی اس لیے اہم ہے کہ وہ دوہری مزاحمت کی نمائندہ بنتی جا رہی ہے: ایک طرف ریاستی جبر کے خلاف اور دوسری طرف اندرونی قبائلی و پدرشاہی طاقت کے ڈھانچوں کے خلاف۔

یہی وجہ ہے کہ Baloch Yakjehti Committee جیسی تنظیمیں صرف سیاسی تنازع کا حصہ نہیں رہتیں بلکہ بلوچ سماج کے اندر طاقت، جنس، روایت اور قیادت کے معنی بھی تبدیل کرنے لگتی ہیں۔

اب ہم دوبارہ عورت کے گھر، خاندان میں رشتے کو لیکر یہ سوال کرتے ہیں کہ مارکس اور بعد میں آنے والے مارکسی مفکرین نے کیسے دیکھا؟

کارل مارکس اس سوال کو لبرل فکر سے بالکل مختلف انداز میں دیکھتا تھا۔ مارکس کے نزدیک خاندان، گھر، عورت کی گھریلو حیثیت اور "نجی" دائرہ کوئی فطری یا ازلی چیزیں نہیں بلکہ تاریخی، معاشی اور طبقاتی نظام کی پیداوار ہیں۔

مارکس یہ نہیں مانتا تھا کہ گھر سیاست اور طاقت سے خالی کوئی معصوم جگہ ہے۔ اس کے نزدیک جس طرح فیکٹری میں طاقت اور استحصال موجود ہوتا ہے، اسی طرح خاندان کے اندر بھی طاقت کے تعلقات موجود ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ سماج گھر کو "قدرتی" اور "نجی" کہہ کر ان تعلقات کو چھپا دیتا ہے۔

مارکس کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو صرف مزدور کی محنت نہیں چاہیے ہوتی بلکہ اس مزدور کی روزانہ "دوبارہ تیاری" بھی چاہیے ہوتی ہے۔ یعنی کوئی کھانا پکائے، بچوں کی پرورش کرے، بیمار کی دیکھ بھال کرے، جذباتی سہارا دے، نئی نسل پیدا کرے۔ یہ سارا کام زیادہ تر عورتوں سے لیا جاتا ہے، مگر اسے "محبت" یا "فطری ذمہ داری" کہہ کر غیر مرئی بنا دیا جاتا ہے۔

بعد میں مارکسی فیمینسٹ مفکرین، خاص طور پر Friedrich Engels کی کتاب The Origin of the Family, Private Property and the State سے آگے بڑھتے ہوئے، یہ دلیل دیتے ہیں کہ عورت کی محکومی نجی ملکیت اور طبقاتی سماج کے ابھرنے سے جڑی ہوئی ہے۔ اینگلز کے مطابق ابتدائی انسانی سماجوں میں عورت کی حیثیت نسبتاً زیادہ آزاد تھی، مگر نجی ملکیت اور وراثت کے نظام نے خاندان کو مرد کے اقتدار کے مرکز میں بدل دیا تاکہ جائیداد مرد کی نسل میں منتقل ہو سکے۔

مارکس اور اینگلز کے نقطۂ نظر میں "گھر" کوئی غیر تاریخی یا فطری دائرہ نہیں بلکہ معیشت کا حصہ ہے۔ گھر سرمایہ دارانہ نظام کے لیے خاموشی سے مزدور تیار کرتا ہے۔ اس لیے عورت کی گھریلو محنت بھی دراصل سماجی پیداوار کا حصہ ہے، چاہے اس کی اجرت نہ دی جائے۔

اسی وجہ سے مارکسی فکر قوم پرستانہ تحریکوں میں عورت کی علامتی شبیہوں کو بھی تنقیدی نظر سے دیکھتی ہے۔ جب عورت کو "قوم کی ماں"، "روایت کی محافظ" یا "عزت" بنا کر پیش کیا جاتا ہے تو اکثر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عورت کو دوبارہ گھر، روایت اور اخلاقی نگرانی کے دائرے میں محدود کیا جا رہا ہے، جبکہ مرد سیاست، جنگ، ریاست اور معیشت کے میدان میں سرگرم رہتا ہے۔

مارکس شاید یہ کہتا کہ: عورت کی "فطری" گھریلو حیثیت دراصل ایک تاریخی اور معاشی تعمیر ہے، جسے طبقاتی سماج اور سرمایہ دارانہ نظام اپنے مفاد کے لیے قائم رکھتے ہیں۔

پاکستان میں Aurat March کے نعرے "میرا جسم، میری مرضی" کو مارکسی زاویے سے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے صرف اخلاقی یا ثقافتی بحث کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اس کے پیچھے موجود طبقاتی، معاشی اور سماجی رشتوں کا تجزیہ کریں۔

مارکسی نقطۂ نظر سے یہ نعرہ بنیادی طور پر عورت کے جسم پر سماجی، خاندانی، مذہبی، ریاستی اور پدرشاہی کنٹرول کے خلاف احتجاج ہے۔ پاکستان جیسے سماج میں عورت کا جسم صرف ایک حیاتیاتی وجود نہیں رہتا بلکہ اسے "خاندان کی عزت"، "قوم کی ثقافت"، "مذہبی اخلاقیات" اور "مردانہ اختیار" کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے۔ اس لیے "میرا جسم، میری مرضی" کا مطلب صرف جنسی آزادی نہیں بلکہ یہ کہنا بھی ہے کہ عورت اپنی زندگی، شادی، تولید، لباس، نقل و حرکت، مشقت اور وجود کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

مارکسی فکر یہاں یہ سوال اٹھائے گی کہ عورت کے جسم پر یہ کنٹرول آخر کیوں ضروری بنایا جاتا ہے؟ اس کا جواب طبقاتی سماج، خاندان کے ادارے اور محنت کی تقسیم میں تلاش کیا جائے گا۔

سرمایہ دارانہ اور نیم جاگیردارانہ سماج میں خاندان صرف جذباتی ادارہ نہیں ہوتا بلکہ معاشی اکائی بھی ہوتا ہے۔ عورت کی بلا اجرت گھریلو محنت، بچوں کی پرورش، بزرگوں کی نگہداشت اور مرد مزدور کی روزانہ بحالی سرمایہ دارانہ معیشت کو سہارا دیتی ہے۔ اسی لیے عورت کی "فرماں برداری"، "عفت" اور "گھریلو کردار" کو نظریاتی طور پر مقدس بنایا جاتا ہے۔ "میرا جسم، میری مرضی" اس پورے نظم کے خلاف ایک علامتی بغاوت کے طور پر سامنے آتا ہے۔

لیکن ایک مارکسی تنقید یہ بھی کرے گی کہ اگر عورت کی آزادی کو صرف "انفرادی انتخاب" اور "ذاتی خودمختاری" تک محدود کر دیا جائے تو یہ لبرل فیمینزم کی حدود میں قید ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک غریب فیکٹری ورکر عورت، زرعی مزدور عورت، یا گھریلو ملازمہ کے لیے "اپنے جسم پر اختیار" کا سوال صرف ثقافتی نہیں بلکہ معاشی بھی ہے۔ اگر اس کے پاس روزگار، صحت، رہائش، تحفظ اور معاشی خودمختاری نہیں تو محض قانونی یا علامتی آزادی کافی نہیں ہوتی۔

اسی لیے مارکسی فیمینزم یہ کہے گا کہ عورت کی حقیقی آزادی صرف پدرشاہی کے خلاف نہیں بلکہ طبقاتی استحصال، سرمایہ دارانہ محنت کی تقسیم اور نجی ملکیت کے بعض جابرانہ ڈھانچوں کے خلاف جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔

پاکستان کے تناظر میں ایک اور پہلو بھی اہم ہے۔ یہاں Aurat March پر تنقید اکثر مذہبی یا ثقافتی غیرت کے نام پر کی جاتی ہے، جبکہ اسی سماج میں عورتوں پر گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، کم عمری کی شادی، ہراسانی، اجرتی تفریق اور تولیدی جبر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔

مارکسی تجزیہ یہ دیکھے گا کہ سماج عورت کے جسم کو کنٹرول کرنے کے لیے اخلاقیات کا استعمال کیسے کرتا ہے، مگر عورت کی محنت کے استحصال پر خاموش رہتا ہے۔

اس کے باوجود مارکسی نقطۂ نظر Aurat March کو مکمل طور پر رد نہیں کرے گا۔ بلکہ یہ کہے گا کہ یہ پدرشاہی کے خلاف مزاحمت کا ایک اہم اظہار ہے، مگر اگر اسے وسیع طبقاتی سیاست، مزدور عورتوں کے مسائل، زرعی عورتوں کی حالت، نجکاری، مہنگائی، اجرتی استحصال اور ریاستی جبر کے ساتھ نہ جوڑا جائے تو اس کی سیاست زیادہ تر شہری متوسط طبقے کی علامتی مزاحمت تک محدود رہ سکتی ہے۔

یعنی مارکسی انداز میں دیکھا جائے تو "میرا جسم، میری مرضی" صرف جسمانی خودمختاری کا نعرہ نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ عورت کے جسم، محنت اور زندگی پر اختیار کس طبقے، کس ادارے اور کس طاقت کے پاس ہے۔

مارکسی نقطۂ نظر سے کسی بھی سماجی تحریک کو صرف اس کے نعروں سے نہیں بلکہ اس کی طبقاتی بنیاد، قیادت، تنظیمی ساخت، سیاسی افق اور معاشی مطالبات سے بھی پرکھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں اگر Aurat March کی قیادت کا بڑا حصہ شہری، اعلیٰ تعلیم یافتہ، انگریزی بولنے والے بالائی متوسط طبقے سے آتا ہے تو یہ پس منظر تحریک کے نظریاتی خدوخال پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

مارکسی فکر یہ کہتی ہے کہ ہر طبقہ دنیا کو اپنے مادی حالات اور سماجی مفادات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ بالائی متوسط طبقے کی عورتیں یقیناً پدرشاہی جبر کا سامنا کرتی ہیں، لیکن ان کے مسائل اور ایک محنت کش یا دیہی عورت کے مسائل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، ایک شہری پیشہ ور عورت کے لیے "آزادی" کا سوال زیادہ تر ذاتی خودمختاری، لباس، تعلقات، نقل و حرکت، یا کام کی جگہ پر برابری کے گرد گھوم سکتا ہے، جبکہ ایک فیکٹری مزدور عورت، ہاری عورت، یا گھریلو ملازمہ کے لیے سوال روٹی، اجرت، کام کے اوقات، جسمانی تحفظ، صحت، پانی، تعلیم اور زندہ رہنے سے جڑا ہوتا ہے۔

یہاں مارکسی تنقید سامنے آتی ہے کہ جب تحریک کی قیادت بالائی متوسط طبقے کے ہاتھ میں ہو تو وہ اکثر عورت کی آزادی کو "انفرادی حقوق" اور "شخصی خودمختاری" کے لبرل فریم میں بیان کرتی ہے، نہ کہ طبقاتی استحصال کے خاتمے کے اجتماعی سوال کے طور پر۔ یوں پدرشاہی کو تو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر سرمایہ دارانہ معیشت، نجکاری، کم اجرت، غیر رسمی محنت، زرعی استحصال، یا عالمی سرمایہ داری کے ڈھانچوں پر اتنی شدت سے بات نہیں ہوتی۔

مارکسی فکرکے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تحریک کا بیانیہ نسبتاً زیادہ علامتی اور ثقافتی بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر نعروں، شناختی سیاست، نمائندگی اور "چوائس" پر زور بڑھ جاتا ہے، جبکہ طبقاتی تنظیم سازی، مزدور عورتوں کی یونینائزیشن، یا سرمایہ دارانہ محنتی رشتوں کی تنقید کمزور رہتی ہے۔

اسی لیے بعض مارکسی ناقدین یہ کہتے ہیں کہ ایسی تحریکیں کبھی کبھی "این جی اوائزیشن" کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یعنی جدوجہد ایک انقلابی طبقاتی سیاست کے بجائے ورکشاپوں، پالیسی مباحث، میڈیا نمائندگی، یا حقوق کی محدود اصلاحات تک سمٹنے لگتی ہے۔ اس عمل میں عورت کی آزادی کو سرمایہ دارانہ سماج کے اندر "بہتر جگہ" حاصل کرنے کے مطالبے تک محدود کر دیا جاتا ہے، بجائے اس کے کہ پورے استحصالی سماجی ڈھانچے کو چیلنج کیا جائے۔

لیکن مارکسی تجزیہ یہ بھی تسلیم کرے گا کہ کسی تحریک کی قیادت کا متوسط طبقاتی ہونا خودبخود اسے "جھوٹا" یا "غیر ضروری" نہیں بنا دیتا۔ تاریخ میں بہت سی انقلابی تحریکوں کی ابتدائی قیادت تعلیم یافتہ متوسط طبقے سے آئی۔ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ: کیا تحریک خود کو وسیع محنت کش طبقے، دیہی عورتوں، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ جوڑتی ہے یا نہیں؟

اگر عورت کی آزادی کو صرف "میرے انتخاب" تک محدود رکھا جائے تو وہ لبرل انفرادیت میں قید رہتی ہے۔ لیکن اگر اسے اجرتی استحصال، طبقاتی طاقت، ریاستی جبر، جاگیرداری، مذہبی پدرشاہی اور سرمایہ دارانہ معیشت کے خلاف وسیع جدوجہد سے جوڑا جائے تو وہ مارکسی فیمینزم کے قریب آ سکتی ہے۔

یعنی مارکسی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ نہیں کہ "یہ عورتیں متوسط طبقے سے کیوں ہیں"، بلکہ یہ ہے کہ: کیا ان کی سیاست عورت کی آزادی کو ایک اجتماعی مادی آزادی میں بدلتی ہے، یا اسے صرف شہری متوسط طبقے کی شخصی آزادی کے دائرے میں محدود کر دیتی ہے؟

Check Also

Nikharti Hui Shakhsiyat Ki Tarbiyat

By Ammar Riaz Chohan