Aurat Ka Jism: Makalma, Mazah Ya Mandi?
عورت کا جسم: مکالمہ، مزاح یا منڈی؟

سوشل میڈیا پر مزاح، طنز اور تنقید کے نام پر عورت کے جسم کو موضوع بنانا کوئی نیا رجحان نہیں، لیکن جب یہی زبان ادبی اور علمی حلقوں سے وابستہ لوگوں کی طرف سے استعمال ہو اور معروف ادیب، شاعر اور دانش ور اسے لائک، تبصرے اور قہقہے کے ذریعے قبولیت فراہم کریں تو معاملہ کسی ایک غیر مہذب جملے تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ایک بڑے ثقافتی مسئلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
حالیہ بحث کا آغاز ایک ایسے سٹیٹس سے ہوا جس میں انسٹاگرام پر خواتین کی مقبولیت اور پیشہ ورانہ اشتراک کو ان کے سینے کے حجم سے جوڑتے ہوئے لکھا گیا: "جتنے بڑے بوبز، اتنے بڑے کولیبریٹرز، چھوٹے سائز خسارے میں"۔ اس سٹیٹس پر ایک خاتون نے احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جو شخص ادیبوں اور کتابوں پر اپنی ٹرولنگ کو تنقید قرار دیتا اور علمی مکالمہ نہ ہونے کا شکوہ کرتا ہے، اس کی اپنی دیوار پر عورت کے جسم کے بارے میں ایسی بازاری اور جنس زدہ پوسٹوں کی موجودگی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے ان ادیبوں اور شاعروں کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھایا جو ایسے مواد کو لائک، ہارٹ یا مزاحیہ تبصروں سے جواز بخشتے ہیں۔
اس احتجاج کے جواب میں ایک ادیب خاتون نے لکھا کہ مردوں کے اعضا پر بھی لکھنا چاہیے، جنسی اعضا کوئی اچھوت یا مقدس شے نہیں، عورت کا سینہ صرف دودھ کی پیداوار کا ذریعہ نہیں بلکہ کشش، جنسی لذت اور عورت کے اپنے حظ کا وسیلہ بھی ہے، اس لیے ایسے معاملے میں ضرورت سے زیادہ حساس نہیں ہونا چاہیے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل بحث شروع ہوتی ہے۔ مسئلہ جنس، جسم یا جنسی اعضا کے ذکر پر پابندی نہیں، بلکہ اس نگاہ کا ہے جو عورت کے جسم کو انسان کی بجائے تماشے، درجہ بندی اور سماجی قدر کے پیمانے میں بدل دیتی ہے۔
یہ بحث اس بات پر نہیں کہ عورت کے سینے، مرد کے اعضا یا انسانی جنسیت پر لکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ادب نے ہمیشہ جسم، خواہش، لذت، زچگی، شہوت، محرومی اور جنسی تجربے پر لکھا ہے اور آئندہ بھی لکھتا رہے گا۔ انسانی جسم نہ کوئی ممنوع بت ہے، نہ اسے تقدیس کے غلاف میں لپیٹ کر زندگی سے خارج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جسم کا بے تکلف ذکر اور کسی انسان کے جسم کو اس کی سماجی قدر، ذہانت، مقبولیت یا پیشہ ورانہ اہلیت کا پیمانہ بنا دینا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔
"انسٹاگرام پر جتنے بڑے بوبز، اتنے بڑے کولیبریٹرز" کوئی بے ضرر تشریحِ اعضا نہیں، یہ ایک ایسا جملہ ہے جو عورت کے پورے وجود، محنت، تخلیقی صلاحیت اور پیشہ ورانہ کامیابی کو اس کے سینے کے حجم سے جوڑ دیتا ہے۔ یہاں سینہ انسانی حظ، عورت کی اپنی جنسی حس یا جسمانی تجربے کے طور پر زیرِ بحث نہیں آ رہا، اسے سماجی سرمائے اور پیشہ ورانہ کامیابی کی کرنسی بنا دیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جنسی بے تکلفی، جنسیت کی تفہیم نہیں رہتی بلکہ عورت کو شے بنانے والی نگاہ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
جوابی تبصرے میں کہا گیا کہ مرد کے اعضا پر بھی لکھنا چاہیے، عورت کے اعضا کوئی مقدس گنبد نہیں اور بہت زیادہ حساس ہونا بھی مناسب نہیں۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ مرد و عورت، دونوں کے جسم ادب، مزاح اور گفتگو کا موضوع بن سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس سیاق میں، کس مقصد سے، کس کی رضامندی سے اور کس طاقت کے رشتے کے اندر؟
کسی عورت کا اپنے جسم، اپنی خواہش اور اپنے حظ کے بارے میں لکھنا اس کے جسمانی اختیار کا اظہار ہو سکتا ہے۔ کسی ادیب کا انسانی جنسیت کی پیچیدگی پر لکھنا ادب ہو سکتا ہے۔ کسی کردار کے جسمانی تجربے کو بیان کرنا فن کا حصہ ہو سکتا ہے۔ مگر اجنبی عورتوں کے سینے کا حجم ناپ کر ان کی پیشہ ورانہ کامیابی کا مذاق بنانا نہ جنسی آزادی ہے، نہ حقیقت بیانی، نہ "کدال کو کدال کہنا"۔ یہ صرف ایک پرانی مردانہ نگاہ کو جدید سوشل میڈیا کی زبان میں دہرانا ہے۔
اور یہ کہنا کہ مرد کے اعضا اور ان کی کارکردگی پر بھی اسی طرح لکھا جائے، مسئلے کا حل نہیں۔ مساوات کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کی توہین کے جواب میں مرد کی توہین بھی شروع کر دی جائے۔ دو طرفہ تحقیر، مساوات نہیں ہوتی، وہ صرف تحقیر کی جمہوریت ہوتی ہے۔ انسانی آزادی کا مقصد سب جسموں کو تماشا بنانا نہیں، سب انسانوں کو تماشے سے نکالنا ہے۔
اصل پوسٹ کے احتجاج میں ایک دلیل یہ بھی دی گئی کہ عورت کا سینہ ماں کے دودھ اور ہماری پہلی غذا کا وسیلہ ہے، اس لیے اس کا احترام کیا جائے۔ نیت قابلِ فہم ہے، مگر عورت کے احترام کو صرف ماں، بہن اور بیٹی کے رشتوں سے مشروط کرنا بھی کافی نہیں۔ عورت اس لیے قابلِ احترام نہیں کہ وہ کسی مرد کی ماں، بہن یا بیٹی ہے، وہ اپنے آزاد انسانی وجود کی وجہ سے احترام کی حق دار ہے۔ اس کا جسم صرف دودھ پیدا کرنے کا ذریعہ بھی نہیں، لیکن نہ ہی وہ مردوں کے لطیفوں، لائکس اور قہقہوں کے لیے عوامی ملکیت ہے۔
یہاں ادبی حلقوں کی ذمہ داری عام لوگوں سے کم نہیں، بلکہ زیادہ ہے۔ جب معروف شاعر، ادیب، نقاد اور دانش ور ایسی پوسٹوں پر قہقہے، دل اور تحسینی تبصرے ثبت کرتے ہیں تو وہ محض ایک شخص کی دل جوئی نہیں کر رہے ہوتے، وہ ایک مخصوص زبان اور نگاہ کو سماجی جواز دے رہے ہوتے ہیں۔ پھر گلی کے تھڑے پر بیٹھا شخص بجا طور پر پوچھ سکتا ہے کہ جو بات ادبی اشرافیہ کے فیس بک قہقہے میں مزاح ہے، وہ میرے قہقہے میں بدتہذیبی کیوں ہے؟
خواتین کا ایسی پوسٹوں پر ہنس دینا بھی اسے خود بخود بے ضرر نہیں بنا دیتا۔ عورتیں بھی پدرشاہی ثقافت کے اندر پرورش پاتی ہیں، اس کی زبان سیکھتی اور کبھی اس کے تعصبات کو دہراتی ہیں۔ کسی متعصبانہ رویے میں متاثرہ گروہ کے چند افراد کی شرکت، اس رویے کو انصاف میں تبدیل نہیں کر دیتی۔
مسئلہ "بوبز" کا لفظ نہیں، وہ نگاہ ہے جو لفظ کے پیچھے کھڑی ہے۔ مسئلہ جنسیت نہیں، جنسیت کی منڈی کاری ہے۔ مسئلہ جسمانی لذت کا اعتراف نہیں، عورت کے جسم کو قابلیت اور کامیابی کا متبادل قرار دینا ہے۔ مسئلہ حساس ہو جانا نہیں، اتنا بے حس ہو جانا ہے کہ انسان غائب ہو جائے اور صرف جسم کا ایک حصہ باقی رہ جائے۔
ادب کا کام ممنوعات پر خاموشی اختیار کرنا نہیں، ادب کو جسم، جنس، خواہش اور لذت پر ضرور لکھنا چاہیے۔ مگر ادب اور مزاح کی آزادی کا حقیقی امتحان یہ ہے کہ وہ طاقتور نگاہ کو بے نقاب کرتے ہیں یا اسی نگاہ کے لیے عورت کے جسم کو مزید سستا تماشا بنا دیتے ہیں۔
ہر عریاں جملہ بے باکی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ صرف ایک پرانی بدتہذیبی ہوتی ہے جس نے جدید لفظیات پہن رکھی ہوتی ہیں۔

