Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Aalmi Urdu Conference: Aman, Elamiya Aur Khamoshi Ki Siasat

Aalmi Urdu Conference: Aman, Elamiya Aur Khamoshi Ki Siasat

عالمی اردو کانفرنس: امن، اعلامیہ اور خاموشی کی سیاست

اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس کا اختتام اس کانفرنس میں شریک "نامور ادیبوں" نے ایک اعلامیے کے ساتھ کیا۔ اس بارے سب سے پہلے تو ہر کوئی یہ سوچے گا کہ اعلامیے کا متن کیا کہتا ہے؟ لیکن میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ "یہ کیا نہیں کہتا"۔

میرے نزدیک اس متن کی معنویت اس متن میں کیا "موجود" ہے سے کہیں زیادہ اس میں "کیا غائب ہے" سے زیادہ بنتی ہے۔ یہی وہ مقام اور سوال ہے جو اس اعلامیے کے متن کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔

اعلامیہ امن سے شروع ہوتا ہے۔ امن کو ایک آفاقی، شفاف اور غیر متنازع تصور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن امن کوئی مکمل، حاضر اور بند معنی نہیں رکھتا، امن کے معنی ہمیشہ زیر التواء (différé) رہتا ہے، ایک ایسا وعدہ جو کبھی پورا نہیں ہوتا بلکہ مسلسل مؤخر ہوتا رہتا ہے۔

یہاں امن کو ایک زمان و مکان سے ماورا، ابعاد سے بے نیاز "شئے" کے ساتھ برتا گیا گویا امن "خود معنی" ہو جبکہ ہمیں پتا ہے کہ وہ طاقت کے رشتوں، ریاستی تشریحات اور چنیدہ، انتخاب کردہ "حاموشیوں سے مشروط ہوتا ہے۔

اعلامیہ فلسطین اور کشمیر پر واضح اور بلند آواز میں بولتا ہے۔ بظاہر یہ اخلاقی جرات کی علامت ہے، لیکن ایسا ہر اعلان اپنے ساتھ "اخراج" بھی لیکر آتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ فلسطین اور کشمیر کیوں شامل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کی داخلی صورتِ حال کیوں خارج ہے؟

یہ خاموشی خود ایک متن ہے۔ یہ کسی "بھول چوک، نادانستہ غلطی نہیں بلکہ یہ ایک "تشکیل دی کئی" ساخت کی گئی خاموشی ہے۔ یہ خاموش متن چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کچھ سچ ایسے ہیں جنہیں کہا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ طاقت کے موجودہ ڈھانچوں کو غیر مستحکم کر دیتے ہیں۔ یہ خاموشی ایک نشان، علامت، ٹریس کی طرح موجود ہے جو نہ مکمل طور پر غیر موجود ہے نہ ہی مکمل طور پر ظاہر ہے۔

جب اعلامیہ ریاستی جبر کو "باہر" (فلسطین، کشمیر) دیکھتا ہے اور "اندر" نہیں دیکھتا، تو وہ خود مرکز/حاشیہ (center/margin) کی وہی درجہ بندی دہرا رہا ہوتا ہے جسے وہ بظاہر چیلنج کر رہا ہے۔ اسی طرح "ہم، ادیب اور دانش ور" کا جملہ ایک ہمہ گیر " موضوع / سبجیکٹ کو طاہر کر رہا ہے۔ ایک ایسا "ہم" جو اختلاف، طبقاتی تفاوت، خوف، سنسرشپ اور جبر کے تجربات کو ہموار کر دیتا ہے۔

یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا واقعی سب ادیب یکساں طور پر بولنے کے قابل ہیں؟

یا کچھ ادیب وہ ہیں جو بول سکتے ہیں اور کچھ وہ جو صرف لکھ سکتے ہیں اور کچھ وہ جو لکھبھی نہیں سکتے۔ یہ اعلامیہ ریاست، قوم اور فوج کے حوالوں میں بھی ایک خاص مابعدالطبعیاتی تقدیس کی موجودگی برقرار رکھتا ہے جو طاقت کو براہِ راست نام لینے کے بجائے اسے اخلاقی زبان میں تحلیل کر دیا جاتا ہے۔ یوں ظلم ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ ایک دور دراز تصور بن جاتا ہے۔

متن خود کو جتنا بھی "انسانی"، "اخلاقی" اور "آفاقی" ظاہر کرے، وہ اپنے اندر ایک تشدد کی معیشت رکھتا ہے۔ تشددِ زبان، تشددِ انتخاب اور تشددِ خاموشی۔

سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ اعلامیہ "امن" کو بولتا ہے، مگر انصاف کو ملتوی کر دیتا ہے۔ انصاف (Justice) وہ شے ہے جو کبھی مکمل طور پر موجود نہیں ہوتی، مگر اسی کی عدم موجودگی ہمیں بولنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ اعلامیہ انصاف کو ایک مکمل شے سمجھ کر اس کا اعلان کرتا ہے، جب کہ دریدائی منطق میں انصاف وہی ہے جو اعلان سے انکار کرتا ہے، جو خود کو مکمل ہونے نہیں دیتا۔

یوں اعلامیے کا یہ متن اپنی نیت کے باوجود خود کو رد کر دیتا ہے۔ یہ امن کی بات کرتا ہے مگر طاقت کی ساخت کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ مظلوموں کا ذکر کرتا ہے مگر اپنے قریب کے مظلوم کو ملتوی رکھتا ہے۔ یہ بولتا ہے، مگر اسی بولنے میں ایک گہری خاموشی لکھ دیتا ہے۔

خاموشی کبھی غیر سیاسی نہیں ہوتی۔ خاموشی بھی ایک دال (signifier) ہے اور بعض اوقات سب سے زیادہ چیخنے والی دال۔

اس کانفرنس میں پاکستان کے نامور ادیبوں اور دانش وروں کی موجودگی کے باوجود جن موضوعات پر بات نہیں کی گئی، وہ محض غفلت نہیں بلکہ ایک ساختی انتخاب ہے۔

جب ایک متن، یا ایک اجتماعی اعلامیہ

جبری گمشدگیوں۔

ماورائے عدالت قتل۔

پریس پر قدغنوں۔

سوشل میڈیا کے خلاف پیکا ایکٹ جیسے قوانین۔

عوامی حقوق کی تحریکوں کی سرکوبی۔

اور مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں

کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیتا ہے

یہی اصل متن بن جاتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں کہا نہ جانا، کہے جانے سے زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے۔

یہ خاموشی ایک ادارہ جاتی"نشان / ٹریس ہے ایک ایسا نشان جو یہ بتاتا ہے کہ بولنے کی اجازت کہاں تک ہے اور اس سے آگے کہاں زبان رک جاتی ہے۔

یہ ادیب بطور فرد خاموش نہیں ہیں، بلکہ بطور ادارہ جاتی وجود بول رہے ہیں، یا نہیں بول رہے۔

یہاں "نامور ادیب" خود ایک مرکزی دال بن جاتا ہے۔

ناموری، اعزاز، اسٹیج، سرکاری سرپرستی اور ثقافتی ادارے، سب مل کر ایک ایسا مرکز (center) تشکیل دیتے ہیں جس کے گرد معنی گھومتے ہیں۔

دریدائی منطق میں مرکز ہمیشہ غیر مستحکم ہوتا ہے، مگر وہ عدم استحکام کو چھپانے کے لیے خاموشی کا سہارا لیتا ہے۔ یہ ادیب فلسطین اور کشمیر پر بول سکتے ہیں کیونکہ وہ مظالم محفوظ فاصلے پر ہیں۔ لیکن پاکستان کے اندر جلتی ہوئی عوامی تحریکیں، لاپتہ افراد کے کیمپ، مسخ شدہ لاشیں، بند نیوز رومز اور خاموش کیے گئے صحافی۔

یہ سب بہت قریب ہیں، بہت حاضر ہیں اور حاضری ہی سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ وہ مرکز کو بے نقاب کر دیتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم ثنویت کام کر رہی ہے:

باہر/اندر

دور/قریب

محفوظ/خطرناک

اعلامیہ میں ظلم کو "باہر" رکھا گیا ہے۔

اور خاموشی کو "اندر"۔

یوں ظلم ایک اخلاقی بیانیہ بن جاتا ہے اور اندرونی جبر ایک ناقابلِ تلفظ حقیقت۔

پیکا ایکٹ، پریس پر قدغنیں اور سوشل میڈیا کی نگرانی

یہ سب محض قوانین نہیں بلکہ تحریر پر تشدد ہیں۔

دریدائی فکر میں تحریر ہمیشہ طاقت سے الجھی ہوتی ہے۔

جب ریاست تحریر کو منضبط کرتی ہے، تو وہ صرف لفظ نہیں کاٹتی بلکہ امکانِ معنی کو محدود کرتی ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ ادیبوں کو ان قوانین کا علم نہیں تھا۔

بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ قوانین وہ حد بن چکے ہیں جس کے اندر رہ کر ہی ادب ممکن ہے؟

جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل "مطلق غیاب نہیں ہیں بلکہ ایک خوفناک آسیبی موجودگی ہیں وہ لاشیں جو نہیں ملتیں، وہ لوگ جو نہ زندہ ہیں نہ مردہ۔ یہی وہ "آسیب " ہیں جن پر بولنا ریاستی متن کو چیر دیتا ہے۔ اسی طرح مذہبی اقلیتوں کا سوال، یہ بھی ایک دوبارے حذف شدہ (double exclusion) موضوع ہے۔ نہ وہ قومی بیانیے میں پوری طرح شامل ہیں، نہ ادبی اعلامیوں میں۔

یہ خاموشی ایک طرح سے اعترافِ ناکامی ہے کہ انسان دوستی کی زبان بھی مخصوص حدود میں قید ہے۔ جو متن خود کو آفاقی کہتا ہے، وہ سب سے زیادہ اخراج پیدا کرتا ہے۔ یہ کانفرنس بھی اسی تضاد کا شکار ہے۔ یہ امن، انسانیت اور آزادی کی بات کرتی ہے، مگر اسی لمحےاپنے ہی سماج کے سب سے ننگے سچ کو مؤخر کر دیتی ہے۔

یوں یہ ادیب، خواہ شعوری طور پر، خواہ لاشعوری طور پر، ایک ایسے ڈسکرسیو کنٹریکٹ (خطابی معاہدہ) کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں بولنے کی اجازت تو موجود ہوتی ہے، مگر یہ اجازت غیر مشروط نہیں بلکہ مخصوص، متعین اور طاقت کے ذریعے مقرر کردہ حدود کے اندر قید رہتی ہے۔ یہاں اظہارِ رائے ایک آزاد عمل نہیں رہتا بلکہ ایک ضابطہ بند عمل بن جاتا ہے، جہاں یہ پہلے سے طے ہوتا ہے کہ کیا کہا جا سکتا ہے، کس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کن موضوعات پر خاموشی ہی بہتر، محفوظ اور قابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انقلابی منطق ہمیں کسی ایک فرد، کسی ایک ادیب یا کسی ایک مقرر پر الزام عائد کرنے کے بجائے ایک پورے ادبی و فکری نظمِ کلامیہ کو بے نقاب کرنے کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ نظمِ کلامیہ ہمیں بتاتا ہے کہ خاموشی محض کمزوری یا خوف کی علامت نہیں بلکہ بعض اوقات مراعات، ایک رعایت اور ایک سماجی و ادارہ جاتی سہولت بھی بن جاتی ہے، جب کہ بولنا، خاص طور پر اپنے عہد اور اپنے سماج کے جبر کے خلاف بولنا، ایک خطرہ، ایک رسک اور ایک ممکنہ سزا کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

اسی تناظر میں آخرکار یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: کیا یہ ادیب واقعی بول نہیں سکتے تھے، یا اصل مسئلہ یہ تھا کہ انہیں بولنے دیا ہی نہیں گیا؟ اور اگر انہیں بولنے کی اجازت نہیں تھی تو یہی عدمِ اجازت، یہی منظم خاموشی اور یہی حذف شدہ آوازیں اصل متن بن جاتی ہیں، وہ متن جو لکھا نہیں گیا، مگر جس کی معنویت کہے گئے تمام لفظوں سے زیادہ گہری اور زیادہ معنی خیز ہے۔

عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے والے "نامور" ادیبوں، دانشوروں، شاعروں، صحافیوں جنھوں نے مختلف سیشنوں میں بطور میزبان یا بطور مہمان مقرر شرکت کی ان میں ایسے بھی تھے جو ہمیں سارتر، رسل، فرانز فینن، محمود درویش، ناظم حکمت، بھگت سنگھ، امیبدکر، پاش، سرجیت سنگھ پاتر، جالب، تنویر سپرا، ریاض احمد، شیخ ایاز، فیض احمد فیض (ان کی تمام تر مصلحت پسندی اور بعض اہم موقعوں خاموشی کے باوجود)، نذر الاسلام، سعادت حسن منٹو کے ادب میں مزاحمت اور انقلابیت کے کارنامے سناتے نہیں تھکتے لیکن اس کانفرنس میں وہ " کیچوے" بنے نظر آئے۔

Check Also

Noor Khan, Folad Mein Dhala Hua Quaid

By Asif Masood