Switzerland Muzakrat Mein Pesh Raft, Jaame Muahde Ka Ibtedai Khaka Tayyar
سوئزرلینڈ مذاکرات میں پیشرفت، جامع معاہدے کا ابتدائی خاکہ تیار

پاکستان اور قطر کی مدد سے سوئزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں حوصلہ افزا پیشرفت ہوئی۔ یوں اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ دونوں ممالک حالیہ جنگ اور کشیدگی کے باوجود ایک وسیع تر سمجھوتے کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگرچہ مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے، لیکن مذاکرات کے پہلے دور میں یہ واضح ہوگیا کہ لبنان، آبنائے ہرمز اور خطے کی مجموعی سلامتی بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں جاری مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی، جبکہ ایرانی وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔ مذاکرات کے اختتام پر جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فریقین نے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ساٹھ روزہ روڈمیپ پر اتفاق کیا ہے۔
قطر اور پاکستان کے مطابق امریکا اور ایران نے ایک "ڈی کنفلکشن سیل" قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور جنگ بندی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح آبنائے ہرمز کے لیے ایک براہ راست مواصلاتی نظام قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ کسی غلط فہمی یا حادثے سے بچا جاسکے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت محفوظ رہے۔
مذاکرات کے دوران سب سے بڑی رکاوٹ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپیں بنیں۔ ابتدائی مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں جنگ کے خاتمے کو ایک بنیادی شرط قرار دیا گیا تھا، لیکن گزشتہ چند روز کے دوران اسرائیلی حملوں اور حزب اللہ کی کارروائیوں نے اس عمل کو خطرے میں ڈال دیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی وفد اصل میں جوہری معاملات پر توجہ دینا چاہتا تھا، لیکن مذاکرات کا بڑا حصہ لبنان کی صورتحال پر صرف ہوا۔
اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے بھی ایرانی وفد کو بددل کیا۔ صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کو قابو میں نہ رکھا تو امریکا دوبارہ سخت فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔ ایرانی حکام نے اسے ابتدائی مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا، کیونکہ اس معاہدے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد وقتی طور پر مذاکرات سے الگ ہوگیا تھا، لیکن امریکی ذرائع کے مطابق پس پردہ بات چیت جاری رہی۔
ایک امریکی سفارت کار نے نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو بتایا کہ بات چیت "سخت لیکن مثبت" رہی اور دونوں فریق ایک ابتدائی خاکہ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس کی بنیاد پر آنے والے ہفتوں میں تکنیکی مذاکرات آگے بڑھیں گے۔ امریکی اور ایرانی نمائندوں نے جوہری پروگرام، پابندیوں، تنازعات کے حل اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر الگ الگ ورکنگ گروپس قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
جوہری پروگرام بدستور مذاکرات کا سب سے حساس موضوع ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو یا تو تلف کرے یا بیرون ملک منتقل کرے اور آئندہ بیس برس تک افزودگی کی سرگرمیاں معطل رکھے۔ ایران اس بات پر آمادہ دکھائی دیتا ہے کہ افزودہ یورینیم کی سطح کم کردی جائے اور محدود مدت کے لیے افزودگی روک دی جائے، لیکن وہ مکمل دستبرداری پر تیار نہیں۔
ایران کے لیے معاشی فوائد بھی مذاکرات کا اہم پہلو ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اشارہ دیا ہے کہ بعض تیل برآمدی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی پر پیشرفت ہوئی ہے، اگرچہ امریکی حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت میں نرمی جیسے اقدامات پر غور کررہا ہے تاکہ ایران مذاکراتی عمل میں شامل رہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے۔
ان مذاکرات سے ایک اور اہم حقیقت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران اب صرف جوہری مسئلے پر بات نہیں کررہے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سلامتی ڈھانچے پر گفتگو کررہے ہیں۔ جے ڈی وینس نے مذاکرات کے موقع پر کہا کہ اگر ایران علاقائی عدم استحکام کا ذریعہ بننے سے دستبردار ہو اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی خواہش ترک کردے تو امریکا ایران کے ساتھ تعلقات کا "نیا باب" کھولنے کے لیے تیار ہے۔ ایران یہ مؤقف دوہرارہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور خطے میں استحکام کے بغیر کسی بھی معاہدے کی کامیابی ممکن نہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں پر مزید پیشرفت کی توقع ہے۔ تکنیکی ٹیمیں سوئزرلینڈ میں مذاکرات جاری رکھیں گی، جبکہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی سیاسی نگرانی کرے گی۔ اگر یہ ساٹھ روزہ عمل کامیاب رہتا ہے تو یہ نہ صرف ایران کے جوہری تنازع کے حل کی جانب بڑا قدم ہوگا بلکہ لبنان، آبنائے ہرمز اور پورے خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ فی الحال دونوں جانب محتاط امید پائی جاتی ہے، لیکن اعتماد کا فقدان اب بھی اس مذاکراتی عمل کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

