Na Pasandeeda Hero
ناپسندیدہ ہیرو

ورلڈکپ میں سینیگال کے خلاف دو گول کرکے فرانس کے کپتان ایمباپے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج پر ان جیسا کھلاڑی شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔ فرانس کی فتح میں ان کے دونوں گول فیصلہ کن ثابت ہوئے اور انھوں نے ایمباپے کو ورلڈکپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول اسکوررز کی فہرست میں مزید اوپر پہنچادیا۔ اب وہ صرف جرمنی کے میروسلاو کلوزے، ارجنٹینا کے لیونل میسی اور برازیل کے رونالڈو نازاریو سے پیچھے ہیں۔
عالمی فٹبال میں ایمباپے کا جتنا بڑا مقام ہے، اسی قدر وہ فرانس میں ناپسندیدہ ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ آٹھ سال پہلے وہ غیر معمولی کھیل پیش کرنے والے ابھرتے ہوئے نوجوان کے طور پر سامنے آئے تھے۔ پھر میسی اور رونالڈو کے جانشین سمجھے گئے۔ لیکن آج ان کے بارے میں رائے شدید طور پر منقسم ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کچھ لوگ انھیں فٹبال کا نابغہ کہتے ہیں اور کچھ ایک خود پسند اسٹار قرار دیتے ہیں۔
اس تضاد کی وجہ ان کی شخصیت ہے۔ وہ ریال میڈرڈ میں لا لیگا کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی رہے، لیکن اس کے باوجود انھیں بعض اوقات اپنے ہی شائقین کی تنقید اور ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں، خصوصاً وینیسیئس جونیئر اور جوڈ بیلنگھم کے کھیل پر منفی اثر ڈالتے ہیں اور دفاعی ذمے داریوں میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہیں۔
فرانس میں ان کے بارے میں رائے صرف کھیل تک محدود نہیں۔ اوڈوکسا کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد فرانسیسی شائقین سمجھتے ہیں کہ ایمباپے کو سینٹر فارورڈ کے بجائے ونگ پر کھیلنا چاہیے، لیکن وہ خود کو روایتی نمبر 9 مانتے ہیں اور اپنی پوزیشن کو تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
فرانس میں ایمباپے کے ناقدین کو یہ تاثر بھی پسند نہیں کہ وہ خود کو دوسروں سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یاد دلایا کہ 2022 میں پیرس سینٹ جرمین میں انھیں برقرار رکھنے کے لیے فرانس کے دو صدور تک نے مداخلت کی تھی۔ اس سے ان کے سوپر اسٹار ہونے کا تصور اور مضبوط ہوا، لیکن ساتھ ہی بہت سے لوگوں کو یہ احساس بھی ہوا کہ وہ خود کو ٹیم سے بڑا سمجھتے ہیں۔
مرر اور برطانوی میڈیا میں شائع ہونے والے تجزیوں میں بھی اسی تاثر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ایک جانب ان کے شاندار اعداد و شمار ہیں، دوسری جانب یہ الزام کہ وہ جدید فٹبال کے تقاضوں کے مطابق دفاع پر محنت نہیں کرتے۔ بعض مبصرین کے مطابق یورپ کی بڑی لیگز میں کم از کم 19 میچ کھیلنے والے فارورڈز میں ان کی دفاعی شراکت سب سے نچلے درجے پر ہے۔
ان کی نجی زندگی بھی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ ریال میڈرڈ کے مشکل دور میں وہ اپنی دوست کے ساتھ سارڈینیا کی تعطیلات پر چلے گئے۔ ان کی تصاویر سامنے آئیں تو شائقین نے اسے "ٹون ڈیف" یعنی حالات سے بے خبر رویہ قرار دیا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ریال میڈرڈ میں ان کے خلاف ایمباپے آوٹ مہم بھی چلتی رہی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لاکھوں لوگ ان کے خلاف دستخط کرچکے ہیں۔ اگرچہ اس مہم کی صداقت مشکوک تھی، لیکن اس نے یہ ضرور ظاہر کیا کہ ان کے ناقدین کی تعداد کم نہیں۔
اس سب کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ورلڈ کپ آتا ہے تو ایمباپے بدل جاتے ہیں۔ 2018 میں انھوں نے فرانس کو عالمی چیمپین بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا اور 2022 کے فائنل میں ہیٹ ٹرک کی۔ اب 2026 میں وہ ایک بار پھر فرانس کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق فرانس کے کوچ دیدیے دیشان اور ان کے ساتھی کھلاڑی بخوبی جانتے ہیں کہ ایمباپے کے بغیر فرانس کی کامیابی کا تصور مشکل ہے۔
شاید یہی ایمباپے کے کریئر کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ وہ اپنے ملک کے سب سے بڑے اسٹار فٹبالر ہیں، لیکن سب سے زیادہ محبوب نہیں۔ وہ دنیا بھر میں لاکھوں مداحوں کے ہیرو ہیں، لیکن فرانس میں ان کے مخالفین بے شمار ہیں۔ ان کی خود اعتمادی کو کچھ لوگ قیادت کی ضرورت کہتے ہیں اور کچھ تکبر سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اس ورلڈ کپ میں مزید تین چار گول کر ڈالیں اور فرانس کو ایک اور فائنل تک پہنچا دیں تو شاید یہ تمام بحثیں ثانوی ہوجائیں۔ کیونکہ تاریخ شخصیت کے تضاد نہیں، کارکردگی یاد رکھتی ہے۔

