Friday, 05 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Congo Mein Ebola Ki Waba

Congo Mein Ebola Ki Waba

کانگو میں ایبولا کی وبا

افریقہ کے قلب میں واقع جمہوریہ کانگو ایک بار پھر ایبولا وائرس کی شدید وبا کی لپیٹ میں ہے۔ دنیا کی توجہ اس وقت ایران، یوکرین، غزہ اور معاشی مسائل کی طرف ہے، لیکن وسطی افریقا میں لاکھوں لوگ ایسے بحران کا سامنا کررہے ہیں جس میں بیماری، غربت، جنگ اور ریاستی کمزوری سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس کوئی آسرا نہیں۔ امدادی اداروں اور عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ یہ وبا حالیہ برسوں کی بدترین ایبولا وباؤں میں سے ایک ہوسکتی ہے۔

کانگو کے بنیا، مونگبوالو اور رُوامپارا جیسے علاقوں میں ہر طرف خوف کی ایک دبیز تہہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ مقامی ریڈیو اسٹیشن دن رات احتیاطی پیغامات نشر کررہے ہیں۔ ایک صحافی نے بنیا پہنچنے پر ریڈیو پر "ایبولا، ایبولا" کے بول والا گیت سنا جو دراصل لوگوں کو احتیاطی تدابیر سکھانے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ اس معاشرے کی تصویر ہے جہاں انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہے اور ریڈیو اب بھی عوامی آگاہی کا سب سے مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

اس بار صورتحال کو زیادہ پیچیدہ بنانے والی بات یہ ہے کہ وبا ایک ایسے وائرس سے پھیل رہی ہے جسے بنڈی بوجیو ایبولا کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چند ہفتوں میں سیکڑوں مشتبہ اموات اور تقریباً ایک ہزار مشتبہ مریض سامنے آچکے ہیں جبکہ بیماری پڑوسی ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ گئی ہے۔

کانگو میں بیماری ایسے علاقے میں پھیلی ہے جہاں بنیادی صحت کا نظام پہلے ہی کمزور تھا۔ بنیا کے ایک اسپتال میں امدادی کارکنوں نے جب نئے مریضوں کے لیے وارڈ تلاش کرنے کی کوشش کی تو انھیں ہر جگہ ایک ہی جواب ملا، "جگہ نہیں ہے"۔ بعض اسپتالوں میں مشتبہ مریضوں کو جگہ نہ ملنے کے باعث دوسرے مراکز کی طرف بھیجا جارہا ہے، جبکہ طبی عملہ وسائل کی شدید کمی کا شکار ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کانگو کی مشرقی ریاست ایتوری گزشتہ کئی برسوں سے مسلح تشدد کی زد میں ہے۔ باغی گروہوں کے حملے معمول بن چکے ہیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ "ہم دو جنگیں لڑ رہے ہیں۔ ایک ہتھیاروں کی اور دوسری بیماری کی"۔ یہ جملہ شاید پورے بحران کا سب سے درست خلاصہ ہے۔

تشدد کا اثر صرف شہریوں تک محدود نہیں۔ کئی طبی مراکز حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ بعض مقامات پر مشتعل ہجوم نے طبی مراکز کو آگ لگادی کیونکہ وہ اپنے عزیزوں کی لاشیں واپس لینا چاہتے تھے۔ ایبولا میں مرنے والے افراد کی لاشیں انتہائی متعدی ہوسکتی ہیں، اس لیے حکام تدفین کا عمل خصوصی ٹیموں کے ذریعے انجام دیتے ہیں۔ لیکن مقامی روایات کے مطابق اہلخانہ مرنے والے کو غسل دیتے ہیں، چھوتے ہیں اور آخری دیدار کرتے ہیں۔ یہ رسمیں بیماری کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں۔

ثقافتی روایات بھی اس وبا کے خلاف جنگ میں ایک اہم رکاوٹ ہیں۔ کانگو کے بہت سے علاقوں میں مصافحہ، گلے ملنا اور جسمانی قربت سماجی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ لیکن ایبولا ایسی بیماری ہے جو قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے۔ ایک شہری نے بتایا کہ ان کے معاشرے میں روزانہ ہاتھ ملانا معمول کی بات ہے، لیکن اب لوگ ہر ملاقات کے بعد ہاتھ دھونے پر مجبور ہیں کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔

اس بحران کا ایک اور پہلو اعتماد کا فقدان ہے۔ کانگو میں ایبولا کی یہ پہلی وبا نہیں۔ 1976 سے اب تک ملک 17 بار اس وائرس کا سامنا کرچکا ہے۔ لیکن مسلسل جنگ، غربت اور حکومتی کمزوری نے عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کردیا ہے۔ بہت سے لوگ بیماری چھپاتے ہیں یا اسپتال جانے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض خاندان مریضوں کو علاج کے لیے پیش کرنے کے بجائے گھروں میں رکھتے ہیں۔ نتیجتاً وائرس کئی ہفتوں تک خاموشی سے پھیلتا رہتا ہے اور حکام کو اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ رائٹرز کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ وبا کم از کم چھ ہفتے تک لاعلمی میں پھیلتی رہی۔

عالمی امدادی نظام بھی اس بار پہلے جیسا متحرک نظر نہیں آتا۔ امدادی ادارے شکایت کررہے ہیں کہ بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی آئی ہے۔ کئی تنظیموں کو اپنے عملے میں کٹوتی کرنا پڑی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت اور دوسرے اداروں کے لیے درکار وسائل بروقت دستیاب نہیں ہورہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ وبا چند برس پہلے پھوٹتی تو بین الاقوامی ردعمل کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ہوتا۔

اعداد و شمار اس تشویش کی تصدیق کرتے ہیں۔ ہزاروں ایسے افراد ہیں جو مریضوں سے رابطے میں آئے لیکن امدادی ٹیمیں ان میں سے بہت سے لوگوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ ایبولا کے خلاف لڑائی میں رابطوں کا سراغ لگانا بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مریض کے قریب آنے والے ہر فرد کی 21 دن تک نگرانی ضروری ہوتی ہے۔ جب وسائل کم ہوں، سڑکیں غیر محفوظ ہوں اور مقامی آبادی کو اعتماد نہ ہو تو یہ کام تقریباً ناممکن بن جاتا ہے۔

کانگو کا موجودہ بحران صرف ایک طبی مسئلہ نہیں۔ یہ صحت، غربت، جنگ، سماجی روایات اور عالمی سیاست کے ملاپ سے پیدا ہونے والا بحران ہے۔ وائرس ایک حیاتیاتی حقیقت ہے، لیکن اس کے پھیلاؤ کی رفتار کا تعین معاشرتی اور سیاسی حالات کرتے ہیں۔ جب اسپتال بھر جائیں، امدادی فنڈز کم ہوجائیں، مسلح گروہ سڑکوں پر موجود ہوں اور لوگ حکام پر اعتماد نہ کرتے ہوں تو ایک بیماری پورے معاشرے کے لیے تباہ کن شکل اختیار کرلیتی ہے۔

دنیا نے 2014 اور 2016 کے درمیان مغربی افریقا میں ایبولا کی تباہ کاری دیکھی تھی جب 11 ہزار سے زیادہ لوگ جان سے گئے تھے۔ آج کانگو کے بارے میں ماہرین کی تشویش اسی خوف سے جنم لیتی ہے کہ کہیں تاریخ خود کو نہ دوہرائے۔ اگر عالمی برادری نے بروقت مدد فراہم نہ کی، مقامی آبادی کا اعتماد بحال نہ ہوا اور صحت کے نظام کو فوری سہارا نہ ملا تو یہ وبا صرف کانگو کا مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

Check Also

Maholiyat Ka Alimi Dan, Zameen Ki Khamosh Pukar

By Shams Muneer Gondal