Araghchi Aur Witkoff Switzerland Mein Muzakat Karen Ge
عراقچی اور وٹکوف سوئزرلینڈ میں جوہری مذاکرات کریں گے

امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سوئزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں جوہری مذاکرات کریں گے۔ تازہ خبر ہے کہ امریکا اور قطر نے ایران کو اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی دینے پر کام کا آغاز کردیا ہے۔ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل امن عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
امریکا ایران مذاکرات چند دن پہلے تک غیر یقینی دکھائی دے رہے تھے کیونکہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ لڑائی چھڑ گئی تھی۔ لیکن جنگ بندی کے بعد اب دونوں فریق اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق وٹکوف سوئزرلینڈ پہنچ رہے ہیں جبکہ عراقچی بھی روانہ ہوگئے ہیں۔ امریکی وفد میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے جو پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں توجہ جنگ بندی کو مستقل اور جوہری سمجھوتے میں تبدیل کرنے پر رہے گی۔
وال اسٹریٹ جرنل کی ایکسکلوسیو رپورٹ کے مطابق امریکا اور قطر ایک ایسے طریقۂ کار پر کام کررہے ہیں جس کے تحت ایران کو بیرون ملک منجمد اس کے اربوں ڈالر کے اثاثوں تک محدود رسائی دی جاسکتی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں قطر میں موجود چھ ارب ڈالر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ ایران خوراک، دوائیں اور انسانی ضروریات کی دوسری اشیا خرید سکے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ انتظام پابندیوں میں نرمی کی طرف پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے، جبکہ تہران اسے اپنی معاشی بحالی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق ایران دنیا بھر میں منجمد تقریباً ایک سو ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے کم از کم چوبیس ارب ڈالر کی جلد از جلد بحالی چاہتا ہے۔ اگرچہ ابھی حتمی طریقۂ کار طے نہیں ہوا، لیکن امریکی مذاکرات کار اسے جوہری مذاکرات میں ایک اہم ترغیب کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ چیتھم ہاؤس کی مشرق وسطیٰ ماہر صنم وکیل کے مطابق محدود ریلیف بھی ایران کی معیشت اور کرنسی کے لیے اہم نفسیاتی اور عملی سہارا ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ اقدامات اس لیے کیے جارہے ہیں کہ ایران مذاکراتی عمل سے اب پیچھے نہ ہٹے۔ لیکن واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اس امن عمل کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو داخلی سیاسی دباؤ کے باعث ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جو ایران کے ساتھ ہونے والے امن عمل کو نقصان پہنچائیں۔ امریکی حکام کے مطابق اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکا ایران مفاہمت کا ایک بنیادی نکتہ لبنان میں لڑائی کا خاتمہ ہے۔
امریکی انٹیلی جنس کے مطابق اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ ایران پر زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی اس کی حکمت عملی کو کمزور کر دے گا۔ نیتن یاہو خود بھی کہہ چکے ہیں کہ بعض معاملات میں ان کے اور صدر ٹرمپ کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود نہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کو غیر معمولی سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے سب سے طاقتور اتحادی امریکا کے ساتھ تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ اپنے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے مسلسل اصرار کررہے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو انعام دینے کے لیے نہیں بلکہ جنگ ختم کرنے، آبنائے ہرمز کھلوانے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
ان کے مخالفین کا استدلال ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو معاشی مراعات دینے کا وعدہ تو کرلیا ہے لیکن اس کے بدلے میں جوہری پروگرام پر ٹھوس پابندیاں ابھی طے نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سوئزرلینڈ کے مذاکرات کو اصل امتحان سمجھا جارہا ہے۔ اگر وہاں اس معاملے پر پیشرفت ہوجاتی ہے تو عبوری سمجھوتا ایک جامع معاہدے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر لبنان دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آیا یا اسرائیل اور امریکا کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تو سفارتی عمل شروع ہونے سے پہلے ہی تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔

