Friday, 19 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. America Iran Samjhote Mein Missile Program Aur Proxies Ka Zikr Kyun Nahi?

America Iran Samjhote Mein Missile Program Aur Proxies Ka Zikr Kyun Nahi?

امریکا ایران سمجھوتے میں میزائل پروگرام اور پروکسیز کا ذکر کیوں نہیں؟

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی سمجھوتے کا متن سامنے آنے کے بعد پہلے دن اس بارے میں تبصرے ہوتے رہے کہ اس میں کیا کچھ شامل ہے۔ لیکن دوسرے دن میڈیا کی توجہ اس نکتے پر رہی کہ متن میں کیا کچھ شامل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی خاموشیاں مستقبل میں اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گی۔

جنگ کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے ایران کے خلاف جو الزامات دوہرائے جاتے رہے، ان میں سب سے نمایاں ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تھا۔ اسرائیل اور امریکا کے حکام بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ اس کی میزائل صلاحیتوں کو بھی محدود کرنا ضروری ہے۔ لیکن 14 نکاتی سمجھوتے میں میزائل پروگرام کے بارے میں کوئی شق موجود نہیں۔ رائٹرز کے مطابق اسی وجہ سے اسرائیل کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی اصل دفاعی اور تزویراتی قوت جوہری تنصیبات سے زیادہ اس کے میزائل نظام میں پوشیدہ ہے۔

سمجھوتے کے متن سے ایران کے پروکسی گروہوں کا معاملہ بھی غائب ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں حزب اللہ، حماس، عراقی شیعہ ملیشیاؤں اور یمن کے حوثیوں کو مغربی اور اسرائیلی پالیسی ساز ایران کے علاقائی اثرورسوخ کے بنیادی ستون قرار دیتے رہے ہیں۔ جنگ کے دوران بھی اسرائیل نے بارہا مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی جامع امن معاہدے میں ان گروہوں کے مستقبل کا تعین ضروری ہے۔ لیکن موجودہ دستاویز میں ان کا ذکر برائے نام بھی نہیں۔ گارڈین نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ معاہدہ دراصل ان تمام پیچیدہ تنازعات کو مستقبل کے لیے مؤخر کردیتا ہے جنہوں نے خطے کو گزشتہ برسوں میں عدم استحکام سے دوچار رکھا۔

جوہری پروگرام پر کئی بنیادی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔ جنگ سے پہلے امریکی حکام بار بار صفر افزودگی کی اصطلاح استعمال کرتے رہے تھے۔ یعنی ایران کو یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنا ہوگی۔ لیکن معاہدے کے متن اور اس سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مطالبہ عملاً ترک کردیا گیا ہے۔ فارن پالیسی میگزین نے اپنے تجزیے میں نشاندہی کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے کئی بنیادی پہلو ابھی تک غیر طے شدہ ہیں۔

بہت سے ماہرین اس معاہدے کو مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک عبوری فریم ورک قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اصل امتحان اگلے ساٹھ دن میں پیش آئے گا، جب دونوں فریق مستقل معاہدے کی شرائط طے کرنے کی کوشش کریں گے۔

ایک اور پہلو انسانی حقوق کا ہے۔ ایران میں سیاسی قیدیوں، خواتین کے حقوق، آزادی اظہار اور حکومتی جبر کے مسائل طویل عرصے سے مغربی ممالک کی تنقید کا موضوع رہے ہیں۔ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔ لیکن موجودہ معاہدے میں انسانی حقوق سے متعلق کوئی شق موجود نہیں۔ اس خاموشی نے ناقدین کو یہ سوال اٹھانے کا موقع دیا ہے کہ کیا جغرافیائی سیاست نے ایک بار پھر انسانی حقوق کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

فارن پالیسی میگزین میں نک کوثر اور علی رضا نادر نے لکھا کہ جنگ کے بعد ایران شدید معاشی، ماحولیاتی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہے۔ پابندیوں میں نرمی اور ممکنہ تعمیر نو کے لیے آنے والی رقوم کا بڑا حصہ عام شہریوں تک پہنچنے کے بجائے حکومت سے وابستہ اداروں اور پاسدارانِ انقلاب کے معاشی نیٹ ورک تک پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر امداد اور سرمایہ کاری کے ساتھ شفافیت اور نگرانی کی سخت شرائط منسلک نہ ہوئیں تو اس سے ایرانی عوام کے بجائے وہی ادارے فائدہ اٹھائیں گے جو پہلے سے طاقتور ہیں۔

ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ معاہدے میں ایرانی سیاسی نظام یا حکومت کی نوعیت کے بارے میں کوئی شرط شامل نہیں۔ جنگ کے ابتدائی مراحل میں امریکی اور اسرائیلی حلقوں کی جانب سے رجیم چینج کی باتیں کی جارہی تھیں۔ اس کے برعکس دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول کو تسلیم کیا ہے۔

اسرائیل کی حیثیت اس پورے عمل میں ایک دلچسپ سوال بن گئی ہے۔ جنگ کے دوران اسرائیل سب سے زیادہ متحرک فریق تھا، لیکن مذاکرات کی میز پر اسے مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا۔ اسرائیلی مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے ملک کے بنیادی تحفظات معاہدے میں شامل نہیں کیے گئے۔ اسی لیے اسرائیل میں بعض حلقے اس سمجھوتے کو سفارتی کامیابی کے بجائے سیاسی پسپائی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بعض تجِزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے نے مشکل سوالات کو حل نہیں کیا بلکہ مؤخر کردیا ہے۔ میزائل پروگرام، جوہری افزودگی کی حتمی حد، ایرانی پروکسیز کا مستقبل، اسرائیل کے تحفظات، انسانی حقوق، پابندیوں کی نگرانی اور تعمیر نو کے فنڈز کا استعمال، یہ سب معاملات ابھی طے ہونے ہیں۔ گارڈین نے اسی بنیاد پر اسے ایسا سمجھوتا قرار دیا ہے جو جنگ کو تو روک سکتا ہے لیکن بنیادی تنازعات کو ختم نہیں کرتا۔

Check Also

Awami Zameen Aur Lahore Gymkhana: Public Trust Ke Asool Par Nazar e Sani

By Aftab Alam