Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Neki Dil Ko Khushi Deti Hai

Neki Dil Ko Khushi Deti Hai

نیکی دل کو خوشی دیتی ہے

گاؤں کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں احمد اپنی اماں کے ساتھ رہتا تھا۔ احمد دل کا نرم تھا جیسے بہتی ندی کا پانی صاف اور ٹھنڈا ہوتا ہے۔ وہ ہر ایک کی مدد کرنا چاہتا تھا۔ اس کی ماں اکثر کہتی تھی: "بیٹا دوسروں کا خیال رکھنا اچھی بات ہے مگر اپنے دل کو بھی خوش رکھنا ضروری ہے"۔ احمد یہ بات سنتا تو سر ہلا دیتا مگر اس کے دل میں سوال اُٹھتا کہ دونوں باتیں ایک ساتھ وقوع پذیر کیسے ہو سکتی ہیں؟

ایک دن احمد سکول سے واپس آ رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی لکڑیوں کا گٹھا اُٹھائے جا رہا ہے۔ وہ تھک چکا تھا اور اس کے قدم جیسے زمین سے چِپک گئے ہوں۔ احمد فوراً آگے بڑھا اور بولا: "بابا جی میں آپ کی مدد کرتا ہوں"۔ بوڑھے نے مسکرا کر کہا "بیٹا! تمہاری عمر کھیلنے کی ہے"۔ احمد نے ہنس کر کہا: "نیکی کر دریا میں ڈال"۔ یہ کہہ کر اس نے لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا لیا اور بوڑھے کے گھر تک پہنچا دیا۔ بوڑھا خوش ہوا اور دُعا دی کہ بیٹا تم نے مدد کی خدا کرے تمہارا دل ہمیشہ خوش رہے۔

اس واقعے کے بعد احمد گھر پہنچ کر تھکاوٹ محسوس کرنے لگا۔ اس نے سوچا کہ آج وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل نہیں سکا۔ اس کا دل تھوڑا سا اُداس ہوا جیسے بادل سورج کو چُھپا دیتے ہیں ویسے ہی اس کی خوشی چھپ گئی۔ اس کی ماں نے احمد کے چہرے پر اُداسی دیکھ کر پوچھا احمد بیٹے! کیا ہوا؟ احمد نے ساری بات بتا دی۔ ماں نے پیار سے کہا بیٹا: "تم نے اچھا کام کیا ہے مگر اپنے دل کو بھی وقت دینا ضروری ہے، خالی برتن زیادہ شور کرتا ہے اگر تم خود خوش نہیں رہو گے تو دوسروں کو خوشی کیسے دو گے"۔

اگلے دن احمد نے سوچا کہ وہ اپنی ماں کی بات پر عمل کرے گا۔ سکول کے بعد وہ سیدھا کھیل کے میدان میں گیا جہاں اس کے دوست کھیل رہے تھے۔ وہ سب ہنس رہے تھے جیسے باغ میں پھول کھلتے ہیں ویسے ہی ان کے چہرے کِھل رہے تھے۔ احمد بھی ان کے ساتھ کھیلنے لگا اور خوب خوش ہوا۔ کھیل کے بعد وہ گھر واپس آ رہا تھا کہ اس نے دیکھا ایک چھوٹا بچہ راستے میں رو رہا ہے۔ اس کے ہاتھ سے روٹی گِر گئی تھی اور وہ بھوکا تھا۔

احمد کے پاس اس دن اپنی پسند کی مٹھائی تھی جو اس کی ماں نے دی تھی۔ وہ رُک گیا۔ اس کے دل میں دو باتیں آئیں۔ ایک یہ کہ وہ خود مٹھائی کھائے کیونکہ اسے بہت پسند تھی۔ دوسری یہ کہ اس بچے کو دے دے کیونکہ وہ بھوکا ہے۔ احمد نے سوچا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے جیسی کوئی راہ ہونی چاہیے۔ اس نے بچے کے پاس جا کر پوچھا: تم کیوں رو رہے ہو؟ بچے نے کہا: "میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں"۔

احمد نے مُسکرا کر اپنی مٹھائی دو حصوں میں توڑ دی۔ آدھی اس بچے کو دے دی اور آدھی خود کھا لی۔ بچے نے خوش ہو کر کھانا شروع کیا اور اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی جیسے رات میں ستارے چمکتے ہیں۔ احمد بھی خوش ہوا کیونکہ اس نے اپنے دل کو بھی خوش رکھا اور دوسرے کی ضرورت بھی پوری کی۔

گھر جا کر احمد نے یہ واقعہ اپنی ماں کو بتایا۔ ماں نے خوش ہو کر کہا: "یہی سمجھداری ہے، نہ تو اپنا دل مارو اور نہ ہی دوسروں کو نظر انداز کرو۔ ہمیشہ درمیانی راہ کا انتخاب کرو"۔ سچ ہے: نیکی دل کو خوشی دیتی ہے۔

کچھ دن بعد گاؤں میں ایک میلہ لگا۔ سب لوگ خوش تھے۔ احمد کے پاس تھوڑے پیسے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ جھولا جھولے یا کھلونا خریدے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی اداس کھڑی ہے۔ اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ احمد نے اس سے پوچھا تم کیوں اداس ہو۔ لڑکی نے کہا میں بھی جھولا جھولنا چاہتی ہوں مگر میرے پاس پیسے نہیں۔

احمد نے ایک لمحہ سوچا۔ پھر اس نے اپنے پیسے دو حصوں میں بانٹ لیے۔ آدھے سے اس نے خود جھولا جھولا اور آدھے سے اس لڑکی کو جھولا جھولنے دیا۔ دونوں خوش ہو گئے۔ احمد نے دل میں محسوس کیا کہ خوشی بانٹنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی ہے جیسے دیا سے دیا جلایا جائے تو روشنی زیادہ ہو جاتی ہے۔

اس دن احمد نے ایک بڑی بات سیکھ لی۔ اس نے جان لیا کہ انسان کو اپنے دل کی آواز بھی سننی چاہیے اور دوسروں کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ اگر وہ صرف دوسروں کے لیے جیتا رہے تو اس کا دل تھک جائے گا اور اگر صرف اپنے لیے جیتا رہے تو وہ اکیلا رہ جائے گا۔ دونوں کے بیچ کا راستہ ہی اصل سمجھداری ہے۔

وقت گزرتا گیا اور احمد بڑا ہوتا گیا۔ لوگ اس کی مثال دینے لگے۔ وہ کہتے تھے احمد جیسا بنو جو اپنے لیے بھی جیتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔ احمد کے دل میں ہمیشہ یہ بات رہی کہ جیسے درخت خود بھی کھڑا رہتا ہے اور دوسروں کو سایہ بھی دیتا ہے ویسے ہی انسان کو ہونا چاہیے۔

ایک دن احمد نے اپنے دوستوں کو یہ سبق سنایا۔ اس نے کہا دوستو یاد رکھو کہ بوند بوند سے دریا بنتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں انسان کو بڑا بناتی ہیں۔ اگر ہم اپنے دل کو خوش رکھیں اور دوسروں کے لیے بھی آسانی پیدا کریں تو زندگی خوبصورت بن جاتی ہے۔

دوستوں نے اس کی بات سنی اور سب نے وعدہ کیا کہ وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔ اس دن گاؤں کا ماحول بدل گیا۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے اور ساتھ ہی اپنی خوشیوں کا بھی خیال رکھنے لگے۔ گاؤں میں محبت بڑھ گئی جیسے بہار میں پھول کھلتے ہیں ویسے ہی دل کھل گئے۔

احمد کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ زندگی ایک ترازو کی طرح ہے۔ ایک پلڑے میں اپنا دل اور دوسرے میں دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب دونوں برابر ہوں تو زندگی خوبصورت لگتی ہے۔ یہی اصل کامیابی ہے اور یہی انسانیت ہے۔

Check Also

Kohsar University Pe Akhri Mazmoon

By Muhammad Idrees Abbasi