Saturday, 25 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohsin Khalid Mohsin
  4. Jhoot Bolna Meri Majboori Hai

Jhoot Bolna Meri Majboori Hai

جھوٹ بولنا میری مجبوری ہے

یہ جملہ بظاہر ایک اعتراف ہے مگر حقیقت میں ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔ آج انسان جھوٹ بولتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر اسے اپنی ضرورت اور مجبوری قرار دیتا ہے۔ گویا سچائی اب ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک نقصان دہ عادت سمجھی جانے لگی ہے۔ جو شخص سچ بولتا ہے وہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے جبکہ جھوٹ بولنے والا ہجوم میں عزت اور کامیابی دونوں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔

ایک شخص جو سچائی کا عَلم اُٹھائے رکھتا ہے وہ ابتدا میں یہ سمجھتا ہے کہ سچ ایک دن ضرور فتح پائے گا۔ وہ دیانت داری سے کام کرتا ہے۔ حق بات کہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنے والے ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں اور سچ بولنے والے مردود ٹھہرائے جا رہے ہیں تو اس کے اندر ایک شدید ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کے حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔ اسے کمزور اور بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سامنے بار بار یہ مثال رکھی جاتی ہے کہ اگر تم بھی تھوڑا سا جھوٹ بول لو تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے ضمیر کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سچ پر قائم رہتے ہیں مگر اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ ہتھیار ڈال کر جھوٹ کو اپنا ذریعہ نمود بنا لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پورا نظام ہی جھوٹ پر چل رہا ہے تو میں سچا رہ کر کیا کر لوں گا۔ اس طرح ایک حسّاس اور ایماندار انسان آہستہ آہستہ اسی ظالم سماج کا حصہ بن جاتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔

جھوٹ نے عام انسان کی زندگی خراب نہیں کی بلکہ تاریخ کے بڑے بڑے حکمران بھی اسی کے سہارے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں سچ اکثر سب سے پہلے قتل کیا جاتا ہے۔ عوام سے وعدے کیے جاتے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔ انصاف کے نام پر ظلم کیا جاتا ہے۔ ترقی کے نام پر لوٹ مار کی جاتی ہے۔ قوم کو خواب دکھا کر حقیقت چُھپا دی جاتی ہے۔ جھوٹے بیانیے بنا کر نسلوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ بہت سے حکمران اپنی طاقت جھوٹ کے ستونوں پر کھڑی کرتے رہے۔ وہ سچ بولنے والوں کو باغی اور دُشمن قرار دیتے رہے تاکہ ان کی آواز دب جائے۔

جھوٹ کے ذریعے انسان وہ سب کچھ حاصل کر لیتا ہے جو حق کے راستے سے ممکن نہیں۔ جعلی ڈگریاں، جھوٹے مقدمے، غلط سفارشیں، ناجائز دولت، دوسروں کا حقِ منصب، شہرت اور عزت کا مصنوعی لباس وغیرہ

جھوٹ ایک ایسا ہتھیار ہے جو وقتی طور پر انسان کو طاقتور بنا دیتا ہے لیکن اندر سے کھوکھلا ضرور کرتا ہے۔ جو شخص جھوٹ سے کامیابی حاصل کرتا ہے وہ ہمیشہ خوف میں زندہ رہتا ہے کہ کہیں اس کا پردہ نہ فاش ہو جائے۔

سماجی اقدار کی تباہی بھی جھوٹ کی سب سے بڑی دین ہے۔ جب بچے اپنے بڑوں کو جھوٹ بولتا دیکھتے ہیں تو وہ سچائی کو بے وقوفی سمجھنے لگتے ہیں۔ جب اُستاد نقل کو نظر انداز کرتا ہے، جب دُکاندار ملاوٹ کو کاروبار کہتا ہے، جب افسر رشوت کو حق سمجھتا ہے، جب رشتہ دار تعلقات میں منافقت برتتے ہیں تو پورا معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی موت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس طرح باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے، محبت مشکوک ہو جاتی ہے، وعدے بے معنی ہو جاتے ہیں اور انسان ایک دوسرے سے ڈرنے لگتا ہے۔

جھوٹ کا سب سے خطرناک چہرہ اکیسویں صدی میں سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ اب جھوٹ صرف زبان سے نہیں بلکہ ایک کلک سے پوری دُنیا میں پھیل جاتا ہے۔ جعلی خبریں، جھوٹی ویڈیوز، کردار کُشی، افواہیں اور نفرت انگیز پروپیگنڈا وغیرہ۔ یہ سب اس رفتار سے پھیلتا ہے کہ سچ بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ لوگ تحقیق نہیں کرتے بلکہ جذبات کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ایک جھوٹی پوسٹ کسی کی عزت تباہ کر سکتی ہے، ایک غلط خبر ہجوم کو مُشتعل کر سکتی ہے اور ایک جھوٹا الزام کسی بے گناہ کی زندگی ختم کر سکتا ہے۔

سوشل میڈیا نے جھوٹ کو صرف طاقت نہیں دی بلکہ اسے خوبصورت بھی بنا دیا ہے۔ لوگ اپنی مصنوعی زندگی پیش کرتے ہیں، خوشی کا جھوٹا تاثر دیتے ہیں، کامیابی کا ڈرامہ کرتے ہیں اور دوسروں کو احساس کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔

اس رُجحان سے نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اصل زندگی وہی ہے جو اسکرین پر دکھائی جا رہی ہے۔ اس فریب نے ٹین ایج نسل کا ذہنی سکون چھین لیا ہے۔

مذہب جھوٹ کو صرف ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ روحانی تباہی قرار دیتا ہے۔ سچائی ایمان کی بنیاد ہے۔ جھوٹ انسان کو اپنے رب سے بھی دور کرتا ہے اور اپنے ضمیر سے بھی۔ دین ہمیں سکھاتا ہے کہ نقصان برداشت کر لو مگر جھوٹ کا سہارا نہ لو کیونکہ وقتی فائدہ ہمیشہ دائمی نقصان میں بدل جاتا ہے۔ جھوٹ دل کو سیاہ کرتا ہے اور انسان کو اپنی نظر میں بھی چھوٹا کر دیتا ہے۔

فلسفہ بھی جھوٹ کو انسان کی اخلاقی شکست سمجھتا ہے۔ سقراط نے سچ کے لیے زہر کا پیالہ قبول کیا مگر جھوٹ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ سچائی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی یہ انسان کو حقیقی آزادی دیتی ہے۔ جھوٹ بظاہر راستہ کھولتا ہے لیکن نئی قید بھی پیدا کرتا ہے۔

ادب نے ہمیشہ جھوٹ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ شاعروں نے منافقت کو بے نقاب کیا اور سچائی کے چراغ جلائے۔ شاعر جانتا ہے کہ لفظ اگر سچ نہ بولیں تو ان کی حُرمت ختم ہو جاتی ہے۔ اُردو شاعری میں بارہا یہ دُکھ ملتا ہے کہ سچ بولنے والا شخص تنہا رہ جاتا ہے مگر اس کی تنہائی بھی باوقار ہوتی ہے۔ جبکہ جھوٹ بولنے والا مجمع میں رہ کر بھی اندر سے خالی ہوتا ہے۔

نیک فطرت انسان جھوٹ کو صرف ایک لفظ نہیں سمجھتا بلکہ ایک زخم سمجھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جھوٹ صرف حقیقت نہیں بدلتا بلکہ رشتے بھی توڑ دیتا ہے۔ اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو پھر پوری عمر بھی اسے مکمل واپس نہیں لا سکتی۔ اسی لیے شریف النفس لوگ جھوٹ سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں چاہے اس کی قیمت تنہائی ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ یہ نہیں کہ جھوٹ موجود ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسے قبول کر لیا ہے۔ ہم نے اسے مجبوری کا نام دے کر جائز بنا لیا ہے۔ ہم نے بچوں کو سکھا رہے ہیں کہ حالات کے مطابق سچ بدل بھی سکتا ہے۔ ہم نے طاقتور کے جھوٹ کو حِکمت اور کمزور کے سچ کو گُستاخی سمجھ لیا۔

اگر معاشرہ واقعی بہتر بنانا ہے تو ہمیں سچ کو دوبارہ عزت دینی ہوگی۔ سچ بولنے والے کو تنہا چھوڑنا ترک کرنا ہوگا۔ انصاف کو خریدنے کی بجائے اپنے جُرم کا اقرار کرنا ہوگا۔

اس بدلاؤ کے لیے ہمیں اپنے گھر سے آغاز کرنا ہوگا کیونکہ جھوٹ کی پہلی تربیت بھی گھر سے شروع ہوتی ہے اور سچ کی پہلی روشنی بھی گھر کے آنگن سے پھوٹتی ہے۔

جھوٹ بولنا اگر مجبوری بن جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ معاشرہ بیمار ہو چکا ہے۔

بیماری کا علاج بیماری کو قبول کرنا نہیں بلکہ اس کے خلاف کھڑا ہونا ہے۔ سچ کبھی فوری فائدہ نہیں دیتا تاہم دیرپا سکون ضرور دیتا ہے۔ جھوٹ وقتی کامیابی دے سکتا ہے لیکن انسان کو اپنے ہی وجود سے محروم بھی کر دیتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ جھوٹ بولنا مجبوری ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب تک اس مجبوری کو اپنی تقدیر سمجھتے رہیں گے؟

Check Also

Pakistan Aur Khurak Ka Ziyaa

By Hameed Ullah Bhatti