Sahafi, Teacher Aur Aalim
صحافی، ٹیچر اور عالم

برصغیر میں استعمار کی آمد کے بعد سماجی دائرے میں تین نئے پیشے متعارف ہوئے: وکیل، ٹیچر اور صحافی۔ "استعمار" سے مراد سیاسی طاقت اور معیشت کا ایک نیا نظام ہے جو برطانیہ نے یہاں متعارف کرایا اور اس میں نیا صنعتی پیداواری عمل سامنے آیا اور بے شمار نئے پیشے بھی وجود میں آئے۔ یہ نئے پیشے زیر استعمار معاشی تبدیلی کے لیے ناگزیر تھے۔ معیشت کے دائرے میں پیشے ہنر پر اساس رکھتے ہیں اور معیشت کی تبدیلی سے نئے نئے پیشے سامنے آتے رہتے ہیں اور کچھ ہنر اور پیشے وقت کے ساتھ معاشی پیداواری عمل سے غیرمتعلق ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسے پیشے جن میں سماجی پہلو غالب ہو، ان کی تشکیل اور قرار زیادہ دیرپا ہوتا ہے اور وہ اس قدر تیزی سے تبدیل نہیں ہوتے جیسا کہ معیشت کے شعبے کا خاصہ ہے۔
اس کی ایک وجہ سماج اور سیاسی طاقت کی مستقل ضروریات ہیں۔ اوپر مذکورہ تین پیشوں میں مشترک چیز ان کی نئی سیاسی طاقت سے نسبتیں ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ التباس "ٹیچر" کے پیشے میں ہوا ہے جسے ماقبل جدیدیت "استاد" کا تسلسل اور خلف و جانشین (successor) سمجھ لیا گیا۔ ماقبل جدیدیت معاشرے میں مولوی، معلم، استاد اور عالم میں واضح امتیازات و تقسیمات نہیں تھیں اور درجے کے فرق کے ساتھ سب کو استاد ہی کہا اور سمجھا جاتا تھا۔ یہ تینوں پیشے درست تر معنی میں جدیدیت کے نقبا میں شمار ہوتے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں صرف صحافی اور ٹیچر کے حوالے سے ایک دو باتیں عرض کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ماقبل جدیدیت دور میں بادشاہ دربار میں کارپردازانِ سلطنت سے کلام کرتا تھا جو براہ راست پبلک تک نہیں پہنچتا تھا۔ مابعد جدیدیت دور میں دربار کا خاتمہ ہوگیا ہے اور اس کی جگہ دو نئی چیزیں آ گئی ہیں۔ ایک دفتر اور دوسرا پبلک (یا public sphere) جو ایک طرح سے دفتر کی توسیع ہی ہے۔ محیط عامہ (public sphere) ایسے جدید معاشرے کو کہا جاتا ہے جس میں دفتر سرایت کر چکا ہو کیونکہ نیا معاشرہ دفتر کے سانچے کا وسیع تر اظہار ہے اور وہ سیاسی طاقت اور سرمائے کی ہیئتوں پر ڈھلنے سے وجود میں آتا ہے۔ آج کل کے زمانے میں، حاکم دفتر میں حکم دیتا ہے جو ایک writ کی حیثیت سے پبلک پر بھی وارد ہوتا ہے۔ پبلک میں حکم، فیصلے، پالیسی اور موقف وغیرہ میں بس پرتو کا فرق ہوتا ہے۔
حاکم کی بات دفتر میں ہو یا پبلک میں، وہ ایک طرح سے طاقت کی deployment ہی ہوتی ہے۔ اس سے ایک مقصد طبعی اطاعت ہے اور دوسرا مقصد فرمانروائی کو عوامی ادراک میں درست رکھنا ہے۔ جدید طاقت کے ہر ہر پہلو سے اور طاقت کی عوامی deployment میں صحافی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی طاقت سے نسبتیں براہ راست ہیں۔ میڈیا طاقت کی عوامی deployment کا نام ہے۔ اس وجہ سے، سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظام میں صحافی معاشرے کا ایک اہم اور طاقتور فرد ہوتا ہے جسے سیاسی طاقت، صنعتی سرمایہ اور معاشرہ نہ صرف یہ کہ نظرانداز نہیں کر سکتے بلکہ انھیں اس کی ہر قدم پر ضرورت پڑتی ہے۔
یہ امر عام ہے کہ ہر معاشرے میں سماجی مقام و مرتبہ طاقت سے قرب و بعد کی علامت ہوتا ہے اور یہی پہلو صحافی کو اہم اور طاقتور بناتا ہے کیونکہ وہ ہر معاشرے میں قائم طاقت کی حرکیات کے ایک اہم جز کی حیثیت سے کام کرتا ہے۔ پیشہ وہ کام ہوتا ہے جو سیاسی طاقت اور سرمائے کی حرکیات میں ضروری اور اہم شمار کیا جائے۔ صحافی کی معاشرے اور سیاسی نظام میں اہمیت کا تعلق اس کی پیشہ ورانہ مہارت، nose for power، سیاسی طاقت اور سرمائے سے اس کی نسبتوں سے براہ راست ہوتا ہے۔ سیاسی نظام اور سرمائے کی حرکیات ایسی بے شمار معلومات پیدا (generate) کرتی ہے، جو اس کی کارکردگی اور بقا کے لیے اہم ہوتی ہیں اور صحافی کے کام کی locale بھی یہی ہے۔
صحافی طاقت کے ساتھ ہم قدم رہ کر کام کرتا ہے اور اس کے کام کی افادیت بھی اسی سے متعین ہوتی ہے۔ فرمانروائی کے عملی نتائج کے علاوہ، جدید سیاسی اور معاشی نظام کی کارکردگی میں ساکھ حد درجہ اہمیت کی حامل ہے اور پورے نظام کی جائزگی (legitmacy) کو متاثر کرتی ہے۔ جدید سیاسی اور معاشی نظام کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے صحافی کی خدمات سب سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا کہ معلومات (information) سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظام کا لازمی پیدائیہ (product) ہیں اور ان معلومات کا تعلق افراد کی جان، مال اور آبرو سے ہوتا ہے۔ صحافی کا تعلق براہِ راست ان معلومات کی مینجمنٹ سے ہے، اس لیے طاقت، سرمائے اور عام معاشرے کے حوالے سے صحافی کی اہمیت اور طاقت دوچند ہو جاتی ہے۔
صحافی کی ایک قسم دانشور کہلاتی ہے۔ جدید سیاسی اور معاشی نظام جس علم سے قائم ہوتا ہے، دانشور ان تک ابتدائی درجے کی رسائی ضرور رکھتا ہے۔ صحافی کا تعلق معلومات کی مینجمنٹ جبکہ دانشور کا کام علم کی مینجمنٹ ہوتا ہے۔ سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظری پہلوؤں سے واقف اہلِ نظر بخوبی جانتے ہیں کہ جدید ریاست violence کا مانعاتی اختیار (exclusive right) اور کنٹرول رکھتی ہے ورنہ معاشرے اور سیاسی نظام کا قیام ممکن نہیں ہوتا اور یہ سیاسی طاقت کا بنیادی ترین اصول بھی ہے۔
violence اصلاً اختیار کا سیاسی معاملہ ہے اور اس سے جڑا ہوا تصور بنیادی طور پر juridical ہے۔ لیکن تحریک تنویر کے بعد violence کے تصور میں غیرمعمولی توسیع سامنے آئی اور یہ طاقت کا وجودی اظہار بن گیا جس میں معاشی وایولنس (economic violence)، علمیاتی وایولنس (epistemic violence) اور ثقافتی وایولنس (cultural violence) بھی جدید سیاسی طاقت کے زیرِ کنٹرول آ گئیں اور جسے استعماری ریاست نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا (لارڈ میکالے کے کام کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے)۔ اسی باعث epistemic violence بھی جدید ریاست کے نہ صرف اختیارات میں داخل ہے بلکہ اس کی پالیسیوں کا بڑا مظہر بھی ہے۔ epistemic violence کو استعماری ریاستوں نے نقطۂ کمال تک پہنچایا اور محکوم معاشروں کو زیر و زبر کرنے میں اس طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اس طرح epistemic violence اب جدید ریاستوں کی معمول کی کارکردگی کا حصہ ہے۔
یہ کام چونکہ امر و اطاعت کے تناظر میں سرانجام نہیں دیا جا سکتا اس لیے epistemic violence کے لیے پالیسی سازی، رپورٹ کاری، ڈسکورس اور بیانیہ سازی کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جس کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ صحافیوں کی خدمات اہم ہوتی ہیں۔ اس تناظر میں یہ جاننا اہم ہے کہ سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظام کے لیے ساکھ کے ساتھ ساتھ اس کا "برسر حق ہونا" بھی اتنی ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ کسی بھی نظام کے "برسر حق ہونے" کی توثیق کا فریضہ دانشور سرانجام دیتا ہے۔ دانشور کوئی صاحب علم نہیں ہوتا، لیکن ایسے تمام علوم سے باخبر ہوتا ہے جنھیں ہر طرح کے نظام کی جواز سازی میں بھرتی کرکے مؤثر طریقے پر استعمال کیا جا سکے۔
برصغیر میں استعماری جدیدیت نے سب سے زیادہ استاد ہونے کو redefine کیا ہے۔ استاد روایتی معاشروں میں تعلیم، علم اور تہذیب کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا اور یہ ساری چیزیں صرف مذہبی دائرے میں قابل فہم تھیں۔ جدید ریاست نے تعلیم کو ریاستی معاملہ قرار دیتے ہی استاد کو بھی ایک ملازم کی حیثیت دے دی اور اسے جدید ریاست کے منظورہ کردہ علم اور تعلیم کا نفاذی آلہ بنا دیا۔ اس طرح تعلیم، علم اور تہذیب کا پرانا تصور تبدیل ہو کر مکمل طور پر مادی اور مقداری ہوگیا۔ روایتی معاشروں میں تعلیم کی ایجنسی استاد تھا جبکہ میکالے کے بعد یہ ایجنسی استعماری ریاست میں منتقل ہوگئی۔
استاد اب شعبۂ خدمات میں کام کرتے ہوئے سیاسی طاقت اور سرمائے کا ملازم ہے، کسی تہذیبی، مذہبی یا ثقافتی روایت کا نمائندہ نہیں ہے۔ جس علم کی ترویج، نفوذ اور نفاذ کی ذمہ داری استاد کے سپرد کی گئی ہے وہ بھی جدید ریاست اور سرمائے کی ترجیحات پر پیدا شدہ علم ہے اور مکمل طور پر مادی ہے اور اس میں مذہبی متون کی جمع تفریق سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ برصغیر میں قائم جدید استعماری ریاست نے نئے انسان کی تشکیل کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کے مقاصد کا حصول بھی ادارے کے قیام اور استاد کی بھرتی ہی کے ذریعے ہی ایک واقعاتی اور روزمرہ حقیقت کے طور پر ممکن ہو سکا تھا۔
دوسری طرف عالم اس شخص کو کہتے ہیں جس کا براہ راست تعلق علم اور تشکیلات علم سے ہو۔ مسلم روایت میں نافع علم کی بنیادی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ غیرمادی ہو، انسان کی نفسی اور ذہنی تشکیل میں کھپ سکتا ہو، اقدارِ حق کا حامل (carrier)، مطیع اور تاریخ میں اس کا نگہبان ہو۔ عصر حاضر میں علم اور تشکیلات علم کا براہِ راست تعلق طبائع اور ایسے مؤثرات سے قائم ہوگیا ہے جو سماجی اور تاریخی ہیں اور مکمل طور پر مادی ہیں۔ علم کی یہ صورت حال ایک مسلمان کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا، عالم سیاسی طاقت اور سرمائے کی حرکیات کا ناظر تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کا جزو کبھی نہیں بن سکتا کیونکہ اس کی بنیادی ذمہ داری "علم میں" اقدار حق کی استواری ہے۔
اس باعث عصر حاضر میں، مسلم عالم کی اصل انسانی اور اخلاقی ذمہ داری اپنے احوال کو extreme ordinariness کے مطابق بنانا ہے کیونکہ اسی صورت میں وہ جدید سیاسی طاقت اور سرمائے سے غیرمتعلق ہو سکتا ہے اور ان کو معروضی انداز میں دیکھنے اور سمجھنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس معنی میں، جدید معاشرے میں قائم سیاسی طاقت اور سرمائے کے نظام کے لیے عالم "غیرموجود" اور موہوم ہوتا ہے۔ جو عالم، علم سے قبولیت، مقبولیت اور حیثیت کی براہِ راست نسبتیں قائم کرنے کا میلان رکھتا ہو، وہ صاحبِ علم کہلانے کا سزاوار نہیں ہو سکتا۔
امام عالی مقام غزالی علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے کہ دل کا حبِ جاہ سے خالی کرنا کسی بھی عالم کے لیے آخری اور سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہر صاحب علم کا روئے سخن طاقت کے نظام کی بجائے معاشرے کی طرف ہونا چاہیے جہاں وہ تہذیب سازی، اخلاقی تربیت اور شعور افروزی کی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دے سکتا ہو اگر کوئی اس کی ضرورت اور طلب رکھتا ہو اور معاشرے میں اس کی گنجائش اور امکان باقی رہ گیا ہو۔ "روئے سخن معاشرے کی طرف" ہونے میں یہ بات مضمر ہے کہ وہ طاقت اور سرمائے کے اصل اور درست احوال کی بابت عام انسانوں کی رہنمائی کر سکتا ہو۔
اگر کسی عالم کا علم سیاسی اور سائنسی نسبتیں پیدا کر لے تو پھر وہ نظام کے لیے اہم ہو جاتا ہے اور اسے پروفیسر وغیرہ بنا دیا جاتا ہے۔ عالم کے لیے آزادی کا معنی وجودی ہے جبکہ ایک صحافی اور دانشور کے لیے یہ معنی سیاسی ہے۔ ایک مسلمان عالم کے لیے علمی کام کی شرائط ہی یہ ہیں کہ وہ طاقت اور سرمائے کی ترجیحات پر نہ ہوتاکہ اس کی truth value باقی رہ سکے اور مزاج و مفاد اس میں راہ نہ پا سکے۔ میرا خیال ہے کہ صاحبِ علم یا عالم کو اپنی "سماجی بے حیثیتی" ایک وجودی اصول کے طور پر اختیار کرنی چاہیے۔ ورنہ مسلم معاشرے میں ہدایت سے جڑے ہوئے علم کا امکان بھی ختم ہو جائے گا۔
اپنے پیشے اور بنیادی کام میں فرق کی بنا پر صحافی، استاد (ٹیچر) اور عالم کی زبان ایک نہیں ہو سکتی۔ اگر صحافی اور ٹیچر ابلاغ کو نظرانداز کر دے تو اس کی پیشہ ورانہ حیثیت باقی نہیں رہ سکتی۔ معلومات اور تعلیم میں ساری مادیات اور مجردات سے تمسک ان دونوں پیشوں پر جبر کے طور پر وارد ہے اور ابلاغ کو ہر دوسری چیز پر اولیت دینا ان پیشوں کا بنیادی فریضہ اور ذمہ داری ہے۔ آج کے عہد میں ہمارے اہلِ علم سب سے زیادہ clueless ہیں اور اس دبدھا سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ امام عالی مقام الغزالیؒ کی پیروی کی جائے جو مجسم عقل اور تقویٰ (paragon of reason and piety) ہیں۔

