Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Musalla Aur Kirdar

Musalla Aur Kirdar

مصلیٰ اور کردار

مصلیٰ مسلمان کی وجودی "ہاں" کی علامت ہے اور اس کا کردار نہیں، کا تاریخی مظہر۔ مصلیٰ پورے نظام ہستی میں مسلمان کی اصل پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے اور کردار تاریخ کے ساتھ اس کے تعاملات کا محضرنامہ ہے۔ مصلے اور کردار کی "ہاں" اور"نہیں" سے بننے والی اس تصویر کے دو لابدی رخ ہیں اور مسلمان میں تعمیر ذات کی جدلیات انہی قطبین کے درمیان ظاہر ہوتی ہے۔ مسلمان کی عبادت اس کے ایمان کی تفصیل ہے اور اس کا کردار پوری تہذیب کی تشکیل۔

عبادت کا مرکز ذات انسانی میں اس کا عقیدہ ہے اور جس کا رخ اپنے معبود کی طرف ہے۔ کردار کا مرکز ذات انسانی میں فعال اس کی اخلاقی اور جمالیاتی اقدار ہیں اور اس کا رخ دوسرے انسانوں اور تاریخ کی طرف ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارا تقویٰ مطلوب ہے اور انسانوں کو ہمارا کردار۔ عقیدہ غیب سے یعنی اپنے معبود سے جڑنے کا طریقہ بتاتا ہے اور اخلاق دوسرے انسانوں سے نبھاہ کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ عقیدہ ماوارئے تاریخ انسان کی جست ہے اور کردار تقدیر کے بلڈوزر کو تھام لینے کا عزم اور دلاوری۔ ایمان و عبادت اور معاشرت و تہذیب اپنی الگ الگ وجودی سطح رکھتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے متعامل ہیں، متضاد نہیں ہیں اور وہ ایک دوسرے کی جگہ بھی نہیں لے سکتے۔

اور صلاحیت؟ یہ ایک تاریخی اتفاق ہے۔ تقویٰ اور کردار ارادی اور اختیاری ہیں۔ صلاحیت کردار کے ہم معنی نہیں ہے کیونکہ یہ صرف ارادے سے ہی کردار بنتی ہے۔ کسی بھی معنی میں باصلاحیت ہونا محض ایک اتفاق ہے کیونکہ یہ فطری، وہبی اور غیر ارادی ہے۔ صلاحیت کو تقویٰ، کردار اور ہنر میں کھپانا ارادی ہے۔ ہماری ثقافتی نزاری کے باعث صلاحیت کا تقویٰ اور کردار میں ڈھلنا تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے اور صلاحیت اب صرف ہنر اور مہارت میں کھپ رہی ہے۔ ہماری ثقافت میں اچھے اور باصلاحیت انسان کی واضح تفریق اب نمایاں ہے اور دینی معاشرت کا آدرش مزید پیچھے ہٹ گیا ہے۔

ہماری ثقافت میں نیک آدمی ایک اخلاقی آدرش کے طور پر اب دھندلا گیا ہے۔ اب ہمارا آئیڈیل ایک باصلاحیت اور کامیاب آدمی ہے۔ نیکی کی جگہ صلاحیت نے لے لی ہے اور کردار کی جگہ ایک جدید اور تنظیمی نوعیت کا تصورِ خدمت عام ہوگیا ہے۔ آج کے صنعتی معاشرے کی اکھڑی پچھڑی معاشرت میں "خدمت انسانی" کا چرچا رہتا ہے اور اس کا چلن اس قدر ہوا ہے کہ "خدمت" خود صنعت بن کر معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ دوسری طرف خدمت انسانیت کو ایک اخلاقی آڑ بنا کر روحانی اقدار کا مذاق بلکہ انکار ہماری ثقافت میں عام ہوتا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں عبادت اور معاشرت کا باہمی تعلق بہت زیادہ پیچیدگی اختیار کر چکا ہے۔ ذکر عبادت ہے، لیکن اخلاقی معاشرت کے خلا کو اب اپنا ہی ذکرِ عبادت بھر رہا ہے۔ دینی معاشرت کردار سے پیدا ہوتی ہے تقویٰ سے نہیں۔ ہوتے ہوتے اب کردار اور مصلے کا سوال ہی ہمارے لیے ایک بڑی الجھن بن گیا ہے۔ ہمارے دینی مسلمات علم کی قلمرو سے بے دخل ہو چکے ہیں اور کردار ہماری معاشرت سے۔ بطور مسلمان ہمارے لیے اخلاقی خودی (moral self) کی بازیافت ہمارے دین اور تاریخ کا سب سے اہم تقاضا ہے۔

Check Also

Zikr Aik Eham Shakhsiyat Ki Bimari Ka

By Nusrat Javed