Thursday, 15 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Mojuda Aalmi Manzar Nama

Mojuda Aalmi Manzar Nama

موجودہ عالمی منظر نامہ

سرمایہ داری نظام میں معاشی مسابقت ایک بنیادی اصول کے طور پر کام کرتی ہے، لیکن یہی اصول سیاسی تناظر میں فنا و بقا کی پالیسی بن جاتی ہے۔ گزشتہ دو صدیوں کی عالمی سیاست اسی اصول پر کام کر رہی ہے۔ جاپان پہلا غیریورپی ملک تھا جو جدید معاشی پیداواری ذرائع کو اپنا کر سیاسی طاقت اور خوشحالی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا اور اس کی کامیابی یورپ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن گئی تھی۔

دوسرا نیم یورپی ملک روس تھا اور مغرب اس کو بھی آخرالامر منہدم کرنے میں کامیاب ہوگیا، لیکن اپنے داخلی قدرتی وسائل اور ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے مغرب کی براہِ راست غلامی سے محفوظ رہا۔ چین اب تیسرا ایسا ملک ہے جو جدید معاشی پیداواری ذرائع سے سیاسی طاقت اور خوشحالی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور مغرب کے لیے اپنی برتری کو برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ اکیسویں صدی کی ارضی سیاست اسی پر مرتکز دکھائی دیتی ہے اس لیے کہ چین اپنی موجودہ طاقت اور معیشت کے ساتھ مغرب کے لیے قطعی طور پر قابل برداشت نہیں ہے۔

جب سنہ 2025ء میں امریکی صدر ٹرمپ نے تجارتی جنگ کا آغاز کیا تھا تو میں نے عرض کیا تھا کہ اس کا مقصد عالمی تجارتی نظام کو ختم کرکے اس کو ازسرنو قائم کرنے کے منصوبے کو بروئے کار لانا ہے۔ عالمی تجارتی نظام کی ازسرنو تعمیر اس لیے ضروری ہے تاکہ چین کو باہر رکھا جا سکے۔ امریکہ کی تجارتی جنگ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، لہٰذا اب دوسرے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔ اس مرحلے میں چین پر براہِ راست حملے کے بغیر اس کی طلب اور رسد کے عالمی نظام کو ختم کرنا مقصود ہے۔ چین کے لیے سب سے زیادہ اہم توانائی کی سپلائی کا نظام ہے جس میں روس، ایران، وینزویلا اور مشرق وسطیٰ اہمیت کے حامل ہیں۔

دوسری اہمیت اس کی صنعتی پیداوار کی رسد کا نظام ہے۔ وینزویلا پر امریکی قبضے سے چین کے لیے توانائی کا ایک منبع ختم ہوگیا۔ اب ایران اور مشرق وسطیٰ کی باری ہے۔ اب پورا مشرق وسطیٰ غزہ بننے جا رہا ہے۔ اس میں تین مقاصد ہیں۔ ایک یہ کہ چین کے لیے مشرق وسطیٰ سے توانائی کی سپلائی کا خاتمہ کر دیا جائے، دوم یہ کہ ایران کی تباہی سے اسرائیل کے سلامتی خدشات کو دور کیا جا سکے، سوم یہ کہ مسلم معاشروں کی تباہی کو ویسے ہی یقینی بنایا جا سکے جیسے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں پورپی معاشروں کو فنا کرکے ازسرنو تعمیر کیا گیا تھا۔ استعمار کی پیدا کردہ مسلم ریاستوں کی اب تک کی مطلق غلامی کے باوجود مغربی مقاصد پورے نہیں ہو سکے ہیں۔

میرا اندازہ ہے کہ ایران میں برپا شورش بنیادی طور پر تو خانہ زاد تھی لیکن اب اس میں عالمی طاقتیں بھی شریک ہوگئی ہیں۔ لیکن پھر بھی اس شورش سے رجیم چینج کا امکان بہت کم ہے۔ لیکن چین کے خلاف عالمی بساط کی ترتیب نو اور اسرائیل کی سکیورٹی ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے ایرانی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ میں ایک اور شام اور عراق کا اضافہ ہو جائے گا۔ اس لیے ایران کے خلاف جنگ ناگزیر ہے اور جو مجھے بہت قریب دکھائی دیتی ہے۔ چین کے خلاف ہونے والی مغربی منصوبہ بندی کے دوسرے مرحلے کا تقاضا ایران کی مکمل تنظیم نو ہے۔ ایران کی تباہی چین کے خلاف براہ راست جنگ سے قبل تیسرے مرحلے کے لیے بھی ضروری ہے۔

تیسرا مرحلہ وسطی ایشیا میں شروع ہوگا جو روس کے نرم تلوے کی طرح ہے۔ وسطی ایشیا ممکنہ طور پر روس میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔ روس سے چین کے لیے توانائی کی سپلائی لائنوں کو ختم کرنے کے لیے بھی وسطی ایشیا میں امریکی غلبہ ضروری خیال کیا جاتا ہے۔ روس کو منہدم کرنے کے لیے یوکرائین کی طرف سے دراندازی میں مغرب اور نیٹو کو مکمل ناکامی کے بعد اب اس راستے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ وسطی ایشیا میں امریکی غلبے سے روس اور چین دونوں کے مفادات پر کاری ضرب لگائی جا سکتی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کا کیا رول ہوگا، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔

Check Also

Awami Transport Aur Kiraya Nama

By Malik Zafar Iqbal