Lafz Aur Maani
لفظ و معنی

یہ امر مسلمات میں سے ہے کہ علم معلوم کے تابع ہے۔ ہر معلوم مدرک اور پھر مستدَل ہے۔ اس طرح حس، ادراک، نظری عقل اور استدلال معلوم کی بابت تشکیل علم کے وسائل اور آلات قرار پاتے ہیں۔ معلوم صرف اور صرف شہود ہے اور عین یہی امر معلوم کے تابع علم کی تحدیدات بھی متعین کر دیتا ہے۔ معلوم کے مدرکات اور مستدلات علم کی حدود اور ہیئتِ معنی بھی متعین کر دیتے ہیں۔ وحی، خبرِ غیب ہے اور ایمانی معلوم مدرک ہے نہ مستدل، اس لیے ایمانی معلوم "کسی مدرک یا مستدل علم" کی بنیاد ہی نہیں بن سکتا، یعنی ایمانی معلوم کسی نظری علم میں بھی نہیں ڈھل سکتا کیونکہ نظر (theory) کا موضوع بھی صرف معلوم (شہود) ہی ہے۔
انسانی شعور کا اثاث البیت صرف لفط ہے جسے وہ شہود میں مدرک اور مستدل شے کے بالمقابل لاتا ہے اور ان کے باہمی تعاملات و انسلاکات سے "علم" پیدا کرتا ہے۔ شعور جب شہود کی طرف منعطف ہوتا ہے تو اس کا یہ انعطاف نظری عقل کی فعلیت ہے اور اس طرح نظری عقل کا دائرہ کار یہی جہانِ ممکنات یعنی شہود ہی طے پاتا ہے۔ انسانی شعور میں ایمانی معلوم کے ورود سے ایک بالکل ہی نئی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ "غیب سے" حاصل شدہ معلوم سے انسانی شعور کو "غیب میں" صرف لفظ حاصل ہوتا ہے کیونکہ انسانی شعور کے لیے خبر غیب کی "مرادات" و "مصداقات" مدرک ہیں نہ مستدل، صرف اور صرف ایمانی ہیں۔
لفظ شہود و غیب اور شعور و وجود کا برزخ ہے۔ لفظ کی تمام دلالتیں ساختی اور منطقی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ یعنی شہود کی جہت سے لفظ ٹھوس (concrete) اور ساختی ہے جبکہ غیب کی جہت سے لفظ مائعاتی اور سیالی ہے۔ یعنی لفظ کا رخ شہود کی طرف ہو تو یہ ساخت زیادہ ہوتا ہے اور معنی کم اور اگر اس کا رخ غیب کی طرف ہو تو یہ معنی زیادہ ہوتا ہے ساخت کم۔ شہود سے غیب کی طرف حرکت میں لفظ کی ساختی جہتیں منہا ہوتی اور جھڑتی چلی جاتی ہیں، یہاں تک یہ مکمل معنی بن کر فائض ہو جاتا ہے اور لفظ کی منطقی دلالتیں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور اشارات غالب آ جاتے ہیں۔ توحید کا کوئی بیان دلالتوں پر قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ لفظ کی معنوی دلالتوں کا منطقی نظام معلوم کے علم یعنی حسی علم کی بنیاد و منتہا ہے۔ عرفان دلالتوں سے آگے کا سفر ہے۔ پیر رومیؒ فرماتے ہیں:
اے خدا بنما تو جاں را آں مقام
کاندرو بے حرف می روید کلام
اور مرید ہندیؒ مژدہ سناتے ہیں:
پیش نہ گامے کہ آمد آن مقام
کاندرو بے حرف می روید کلام
مولائے رومؒ اللہ تعالیٰ سے وہ مقام "دکھانے" کی دعا کرتے ہیں جہاں معنی بغیر لفظ کے پیدا ہوتا ہو۔ دلالتوں سے قائم ہونے والا علم چیزوں کو "سمجھاتا" ہے جبکہ عرفان چیزوں کو "دکھاتا" ہے۔ لہٰذا، دلالتیں جو بیان تشکیل دیتی ہیں وہ سمجھنے سمجھانے کا علم ہے، آموزش و آموختہ ہے۔ جبکہ اعتبار و خیال کی بنیاد پر اشارات سے بننے والا "علم" عرفان اور معرفت ہے۔ اسی معنی میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا عرفان توحید خالص کا بیان ہے۔
لفظ و معنی کو ایک اور "مثال" سے سمجھا جا سکتا ہے۔ لفظ و معنی کے تناظر میں ریاضی اور عرفان دو انتہائیں ہیں۔ ریاضی میں احتوائے لفظ کا سیالی پہلو بالکل ختم ہو جاتا ہے، لفظ صرف ساخت ہی ساخت بن جاتا ہے جو یک پرتی ہوتی ہے یہاں تک کہ ریاضیاتی مدلولات کو لفظ میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں رہتا اور علامات کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ دوسری طرف عرفان میں لفظ اپنی ساخت سے ماورا ہو کر صرف معنیِ فائض رہ جاتا ہے اور جہاں دلالت و مدلول ہی باقی نہیں رہتے اور اشارات غالب آ جاتے ہیں۔ ریاضی اور عرفان میں الفاظ اپنی مانوس و معروف ساختوں اور مدلولات میں باقی نہیں رہتے۔ ریاضی میں تنزیہ کا گزر نہیں اور عرفان میں تشبیہ ممتنع ہے۔

