Wednesday, 21 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Jadeed Nafsiyat Aur Insani Ahwal

Jadeed Nafsiyat Aur Insani Ahwal

جدید نفسیات اور انسانی احوال

جدید عہد میں انسان کے ذہنی اور نفسی احوال میں زبردست تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ ان میں سے نمایاں ترین احوال دو ہیں: ایک رنجوری (mealncholy) اور دوسرا بیگانگی (alienation)۔ باقی سارے ذہنی اور نفسی احوال انھیں سے پیدا ہوئے ہیں۔ رنجوری/مالیخولیا بنیادی طور پر ذہنی احوال میں تبدیلی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ بیگانگی اپنی ذات سے فراموشگاری کے نفسی احوال سے عبارت ہے۔ رنجوری کا مسئلہ اول اول تحریک نشاۃ ثانیہ میں سامنے آیا اور شیکسپئر کے ڈرامے "ہمیلٹ" کا اسی نام سے مرکزی کردار ایک melancholic prince کے طور پر سامنے آتا ہے۔ رنجوری کا منبع شعور میں قرار پکڑنے والا to be or not to be کا سوال ہے جس کا اس ڈرامے کے مرکزی کردار کو سامنا ہے۔

یہ سوال اس وقت کھڑا ہو جاتا ہے جب شدتِ آلام معلومِ ہستی و مقصود ہستی کی معنویت پر سوال کھڑے کر دیتی ہے۔ ایسی صورت حال میں عقیدے کے خاتمے یا اس کے مشتبہ ہو جانے یا اس کے غیرمتعلق ہو جانے یا اس کے ناکافی ہونے کے احوال ذہن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ عقیدے کی ٹوٹن کے ساتھ ہی وجودی بوجھ انسانی شعور پر واشگاف ہو جاتا ہے اور وہ ہستی کی بےپایانی کے روبرو چٹخ جاتا ہے۔ چٹخا اور دراڑ زدہ انسانی شعور کا خود کو، لوگوں کو، کائنات کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے جس میں حزن، رجعتِ معنی اور بےبسی لاینحل مسئلے بن کر رنجوری کو جنم دیتے ہیں۔

یورپی نشاۃ الثانیہ میں رنجوری انسان کی وجودی شناخت (exitential identity) میں گہرے بدلاؤ سے پیدا ہوئی تھی۔ یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ عقلی علم ہمیشہ توسیطی (mediatory) ہوتا ہے اور انسان کے لیے ایک دیگریت (otherness) رکھتا ہے، جبکہ عقیدہ اور اقدار ہمیشہ غیرتوسیطی (non-mediatory/immediate) ہوتی ہیں۔ عقیدے کا بحران لازمی طور پر ذہنی اور نفسی بحران کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ رنجوری بنیادی طور پر جدید انسان میں شعور کے بحران کا سرنامہ ہے۔

بیگانکی کا مسئلہ انسان کی وَلاء (belonging) کے احساس میں تحول سے پیدا ہوتا ہے۔ وَلاء (belonging) ایک تعلق ہے اور اس کا نقطۂ ماسکہ نفس انسانی ہے۔ انسان خود سے، معاشرے سے اور نیچر سے ولاء (belonging) اور قرب کا تعلق رکھتا ہے اور یہ احساسِ تعلق کائناتی رفعتوں تک پھیلا ہوا ہے۔ بیگانگی اصلاً نفسی ہے اور انسان میں تعلق کے بحران کا سرنامہ ہے۔ علم کے برعکس، انسانی تعلق توسیطی (mediatory) نہیں ہوتا، ہمیشہ غیرتوسیطی اور محسوس (immediate) ہوتا ہے۔ کسی بھی شے سے انسانی تعلق کو توسیط (mediation) پر منتقل کرتے ہی یہ ختم ہو جاتا ہے۔

ٹکنالوجی انسانی ولاء (belonging) کے ہر پہلو کو توسیطی بنا دیتی ہے اور انسان کا اپنی ذات سے، دوسرے انسان سے اور نیچر سے تعلق توسیطی ہوتے ہی آلاتی ہو جاتا ہے۔ انسان اپنے آپ میں، دوسرے لوگوں اور معاشرے میں اور کائنات میں "رہتا" ہے۔ اٹھارھویں صدی میں صنعت کاری اور نئے پیداواری ذرائع سے ٹکنالوجی نے انفس اور آفاق میں انسان کے "رہنے" کی سب جگہوں کو "ہتھیا" لیا اور انسان کے اپنے آپ سے اور لوگوں سے تعلق کو تبدیل کر دیا۔ بیگانگی انسان کے ہر تعلق کی ٹکنالوجیائی توسیطات سے ناگزیر طور پر پیدا ہوتی ہے۔

ٹکنالوجی ایک سسٹم کے طور پر کام کرتی ہے۔ آلے کے سامنے انسان فاعل ہوتا ہے جبکہ سسٹم میں انسان محض ایک resource اور پرزے کی حیثیت سے کام میں آتا ہے۔ سسٹم میں انسان کی موجودگی مکمل طور پر سسٹم کی شرائط پر ہوتی ہے۔ ذہن اور نفس میں گہری ہیئتی تبدیلیوں کے بغیر انسان سسٹم میں داخل اور شریک ہی نہیں ہو سکتا۔ دنیا (یورگن ہابرماس کی اصطلاح میں life-world) انسان میں نفسی اور معاشرتی اسباب سے رذائل و فضائل پیدا کرتی ہے جبکہ سسٹم (یورگن ہابر ماس کی اصطلاح میں system) انسان میں ہیئتی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

انسان اپنے مکلف ارادے اور مجاہدے سے ترکِ رذائل و کسبِ فضائل پر قادر ہے جبکہ سسٹم انسان میں جو ہیئتی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے وہ جبری اور اضطراری ہوتی ہیں۔ رذائل و فضائل انسان کے وظیفہ جاتی (functional) پہلو ہیں جن میں اس کا ارادہ مؤثر ہے۔ سسٹم سے آنے والی تبدیلیوں میں انسان کا ارادہ غیرمؤثر ہے۔ سلوک کی روایتی مشقوں کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ انسان کا ذہن اور نفس ایک ظرف کی طرح ہیں۔ روایتی سلوک ان میلے ظروف کو مانجھ کر اجلا کر دیتا تھا۔ رنجوری اور بیگانگی میں ذہن اور نفس پچک کر بالکل ٹیڑھے میڑھے ہو جاتے ہیں اور ان کو مانجھنا ممکن ہی نہیں رہتا۔

فی زمانہ سلوک گہرے بحران کا شکار ہے اور مسلمان کی اخلاقی خودی کی تشکیل میں اس کا کوئی رول نہیں رہا جبکہ دوسری طرف نظری تصوف اور عرفانی علوم اپنی گہرائی اور دیدہ ریزی کے باوجود نہ تو مغرب کے فکری چیلنج کا مقابلہ کرنے میں معاون ہو سکے ہیں اور نہ جدید انسان کے نفسیاتی مسائل میں ہماری کوئی مدد کر سکے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ نفسیات میں ایسے علمی اور عرفانی تناظر کی ضرورت ہے جو مسلم فرد میں ذہنی اور نفسی صحت میں رہنمائی کر سکے۔

Check Also

Baghair Qasoor Ke Koi Saza Nahi

By Toqeer Bhumla