Monday, 12 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Fikri Mukalma, Agency Aur Maqviyat

Fikri Mukalma, Agency Aur Maqviyat

فکری مکالمہ، ایجنسی اور مقویات

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، لیکن وسط اکتوبر کی اپنی کسی پوسٹ یا کمنٹ میں میری ایک تحریر کو موضوع بناتے ہوئے جناب وحید مراد فرماتے ہیں کہ "تاہم ان کے طرزِ مکالمہ میں ایک پہلو قابلِ غور ہے کہ وہ اکثر اپنی پوسٹس پر ہونے والے تبصروں یا سوالات پر گفتگو نہیں فرماتے۔ یہ طرزِ عمل علمی مکالمے کے فروغ میں رکاوٹ بنتا ہے کیونکہ جب فکر سوال اور تنقید سے محروم ہو جائے تو وہ مکالمہ نہیں رہتی، بیانیہ بن جاتی ہے"۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ "ایک اور پہلو یہ ہے کہ ان کے نقطۂ نظر کو مزید واضح انداز میں سامنے آنا چاہیے۔ وہ کن مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں؟ ان کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ اور ان کے ممکنہ حل کی سمت کیا ہو سکتی ہے؟ ان کی اکثر تحریریں ان سوالات کو ابھارتی ضرور ہیں مگر ان کے جوابات فراہم نہیں کرتیں۔ قاری جب فکری ابہام کے ساتھ متن سے باہر نکلتا ہے تو مکالمہ ادھورا رہ جاتا ہے"۔

جناب وحید مراد کے ان ارشادات کے بعد آدمی کے پاس کوئی انسانی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ جواب میں کوتاہی کرے اور میں نے اسی جذبے کی تحت ان کی طویل تحریر کا اس سے بھی طویل جواب لکھا۔ میں نے اپنی گزارشات میں ان کی زیرِ گفتگو تحریر کو مسلسل حوالہ کے طور پر استعمال کیا، قطع نظر اس بات سے کہ وہ جوابات برمحل تھے یا نہیں، درست تھے یا غلط۔ مکالمہ اپنے اظہار اور شرائط میں کبھی مجہول نہیں ہوتا، یعنی مکمل طور پر معروف ہوتا ہے۔ اس لیے میں نے اپنی جوابی تحریر کو انھی کے نام سے معنون کیا اور ان کے مواقف کو خود ان کی تحریر سے سامنے رکھا اور ان پر مرکّز (focussed) جواب دیا۔ میں نے اپنی تحریر کو وعظ اور غیرمتعلق چیزوں سے خالی رکھا تاکہ صرف علمی بات ہو سکے۔

مکالمے کی اخلاقیات یہ ہے کہ مخاطب/مخاصم سے کوئی غلط موقف منسوب نہ کیا جائے، مکالمے کی عقلی اور جدلی اساس کو ہرممکن برقرار رکھا جائے (یعنی وعظ کا کوئی اور ذریعہ ڈھونڈھا جائے)، موضوع کی پاسداری کی جائے، مکالمے کو مجہول نہ بنایا جائے، الزامی جواب سے پرہیز برتی جائے، احترام آدمیت کو سربلند رکھا جائے اور ذاتیات کو مکالمے سے خارج رکھا جائے۔ یہ تو عقل اور اخلاق کی باتیں ہوئیں۔ عقلی گفتگو کی تاثیر ہمیشہ خشک اور بیزارکن ہوتی ہے، اسی لیے اچھے مکالمے کی مثالیں بہت خال خال ملتی ہیں۔ اس "خشکی" کا علاج حکما ذوق اور ہنر سے کرتے آئے ہیں جس میں طنر، تعریض، گرفت، چوٹ، وار کو "مصلح" کے طور پر شامل رکھا جاتا ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ کانچ آسا خودی (fragile self) کے حامل اور آنچ پذیر انا (brittle ego) رکھنے والے احباب کی گفتگو کو صدقۂ جاریہ کے طور پر صرف سنا جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ طنز و تعریض ہر علمی مکالمے کا لازمی جزو ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ علم کی ہر گفتگو میں "فاعل علمی" داخل ہوتا ہے۔ "فاعل علمی" اور اس کے حاصلات علم میں امتیاز باقی رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے علوم میں کارفرما "فاعل علمی" خودآگاہی (self-consciousness/reflexivity) سے محروم ہے اور اس تک علمی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ اس خوابیدہ افلاطونی مخلوق کو صرف طنز کی چٹکیوں سے جگایا جا سکتا ہے تاکہ مکالمہ بامعنی ہو سکے۔ طنز ذاتیات پر مرکوز کوئی اخلاقی سبقت وغیرہ نہیں ہوتی۔

جدید علوم کا مزاج چونکہ self-oriented نہیں ہے بلکہ world-oriented ہے، اس لیے یہ ایک خاص قسم کی نگارشی نفسیات کو جنم دیتے ہیں جس میں reflexivity کا مکمل فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں تصورات کی تشکیل تعقل سے نہیں آتی اور ذہن کو متن خوری کے اصول پر بھرا جاتا ہے اور باہمی غیرمتعلق تصورات کو تسبیح بنا کر گھمایا جاتا ہے، یعنی مسلم شعور میں association of ideas کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے اور جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں۔ اس طرح کی مشکلات کی وجہ سے حکما نے علمی مکالمے کے لیے خودآگاہ عقل کو بنیاد بتایا ہے جو یہ جان سکے کہ خود کیا کہا جا رہا ہے اور مخاطب کیا کہہ رہا ہے۔

یہاں مناظرے اور مکالمے کے بنیادی فرق کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مکالمے میں عقل کی بنیاد پر بننے والے علمی مواقف زیربحث ہوتے ہیں جن کی نوعیت تصورات کی ہوتی ہے اور ان تصورات کی فہم کو مرکزیت ہوتی ہے۔ اس میں واحد علمی حکم جو لگایا جا سکتا ہے وہ درست اور غلط کا ہے۔ علمی مکالمے کی اساس صرف اور صرف عقلی ہوتی ہے اور مکالمے میں تصور کی نوعیت کا تعین اور اس کا صحیح یا غلط ہونا زیر بحث ہوتا ہے۔ موضوع اور استدلال کے مشترک ہونے کی شرط پر مکالمے کا ٹول عقلیت اور دلیل ہے۔ مناظرہ صحیح اور غلط پر نہیں چلتا کیونکہ یہاں دلیل عقلی نہیں ہوتی۔ مناظرہ کسی بھی مذہبی موقف پر استناد کی حجت لانے یا نہ لانے کے بارے میں ہوتا ہے۔ مناظرے میں at stake سچ اور جھوٹ ہوتا ہے۔ مکالمہ علمی تصورات کے فہم کی درستی یا غلطی کو عقلی وسائل سے موضوع بناتا ہے جبکہ مناظرہ روایت کے حوالوں سے مذہبی موقف کے استناد کی سچائی یا عدم سچائی کو زیر بحث لاتا ہے۔ اس باعث مکالمے اور مناظرے کی شرائط قطعی مختلف ہوتی ہیں۔

مکالمے میں تصورات کے قابل ادراک اور قابل اظہار فہم پر گفتگو ہوتی ہے اور یہاں میں مثال کے طور ایک بات مکرر کہنا چاہتا ہوں جو محترم طہ عبدالرحمٰن اور مولانا مودودیؒ کے حوالے سے پہلے عرض کر چکا ہوں۔ ان دونوں اساطین نے امام عالی مقام الغزالیؒ کے اس موقف کو غلط قرار دیا ہے جس میں وہ کائنات کو قدیم ماننے والوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان دونوں کی دلیل یہ ہے کہ ایمان منطق کا قضیہ نہیں ہے۔ یہ دلیل اس وقت کارگر ہو سکتی ہے جب علم میں بیان ہونے والے علمیاتی اور وجودیاتی قضایا کا فرق معلوم نہ ہو۔ ان میں فرق یہ ہے کہ علمیاتی قضایا حاصلات عقل میں سے ہیں جبکہ وجودیاتی قضایا میں عقل خود کو ground کرتی ہے۔ میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ علمی مکالمہ صرف اس وقت مفید ہو سکتا ہے جب علمی تصورات کی نوعیت اور فہم واضح ہو، قابل ادراک اور قابل اظہار ہو۔

اب میں بہ اکراہ جناب وحید مراد کی تازہ تحریر "ایجنسی یا عبدیت" پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔

آنجناب سے سابقہ تعامل میں مجھے ایک بات محسوس ہوتی رہی جو موجودہ تحریر سے پختہ ہوگئی اور وہ ان کا ایک معروف مکالمے کو مجہول بنانا ہے جو میری رائے میں حد درجے کی بدتہذیبی اور کم ہمتی ہے۔ مجہول مکالمہ تصورات اور حاملِ تصورات کی نسبتوں کو منقطع کرکے انھیں بے نسب بنا دیتا ہے اور تصورات کی تملیک (ownership)، representation اور ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور مکالمے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں مجھے "بعض مقامی مفکرین" کے نام سے یاد فرماتے ہیں۔ میں ان کا شکریہ ہی ادا کروں گا کہ انھوں نے مجھے "مقامی" کہا اور اگر وہ مجھے سیدھا "دیہاتی" ہی کہہ دیتے تو میں کیا کر لیتا اور جو اصل میں ان کا منشا بھی ہے۔ وہ مجھے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ خود آنجناب یکے از "بین الاقوامی مفکرین" ہیں۔ مجھے ان کی اس حیثیت کو ماننے میں بھلا کیا تامل ہو سکتا ہے؟ مجھے "مقامی" اور خود کو مرموزاً "بین الاقوامی مفکر" کہنا تبھی مفید ہو سکتا تھا اگر مکالمہ بھی آگے بڑھ سکتا جو میری رائے میں شروع ہی نہیں ہو سکا۔ میری طرح، وہ بھی کچھ نہ کچھ شائع کرتے رہتے ہیں اور جس طرح کا نام نہاد مکالمہ ہمارے درمیان ہوا اس سے ان کا بھی وقت ضائع ہوا اور مجھے بھی کھکھیڑ کا سامنا ہوا۔ ایسی صورت حال میں مکالمے کی بجائے ایک دوسرے کا نام لے کر خیالات کا رد کرنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔

جناب وحید مراد کے مضمون کا عنوان ہے: "ایجنسی یا عبدیت"۔ وہ ایجنسی کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں: "خود مختار فیصلہ سازی، اختیار کا شعور، معروضی حالات کے ساتھ فعال تعلق، اپنے ماحول میں تبدیلی پیدا کرنے کی قوت اور دنیا کو محض قبول کرنے کے بجائے اسے تشکیل دینے کا عمل" اور میں اس مفہوم سے متفق ہوں۔ لیکن وہ عبدیت کے مفہوم سے بےخبر ہیں۔ عنوان میں وہ یہ فرما رہے ہیں کہ ایجنسی اور عبدیت باہم یک نگر (mutually exclusive) ہیں، یعنی اگر ایجنسی ہوگی تو عبدیت نہیں ہوگی اور اگر عبدیت ہوگی تو ایجنسی نہیں ہوگی۔ میرا مقدمہ یہ ہے کہ ہم عصر دنیا میں مسلم شعور اور ملی ارادہ ایجنسی سے محروم ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ ظہور اسلام کے بعد سے مسلم شعور اور ملی ارادہ ایجنسی سے محروم ہے، اس لیے کہ عبدیت ایجنسی سے محروم ہے۔ استغفراللہ۔

ایجنسی کوئی علمی اصطلاح نہیں ہے جیسا کہ موصوف باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ یہ لفظ تو اب صحافت میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ شعور اور ارادے کے حوالے سے اسے برتا جائے تو اس سے مراد "فعال اور خود مختار شعور" اور "فعال اور خود مختار ارادہ" مراد لیا جائے گا۔ یہ دونوں اپنے مظاہر تاریخ میں سامنے لاتے ہیں اور مسلم تاریخ و تہذیب اور مسلم علمی روایت جس چیز کا اظہار ہے وہ ایجنسی ہی کی وجہ سے ممکن اور مظہر ہو سکا تھا۔ اب چونکہ موصوف تفہیم مغرب کے علمبردار بھی ہیں اس لیے انھیں "خود مختار" کے لفظ سے بھی مسئلہ ہوگا۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن عرض ہے کہ عبدیت وجودی ہے اور شعور اور ارادے ہی کی ایک زمانی اور مکانی تشکیل ہے، یعنی عبدیت، عبد کے تاریخ میں کارفرما ہونے کے احوال ہیں۔ اس میں ظاہر ہونے والا شعور اور ارادہ انسانی اور تاریخی دائرے میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔

اب جس تحریر کا عنوان ہی لغو اور بے معنی ہو، اس کے محتویات کا عالم کیا ہوگا؟ اپنے مضمون میں آگے بڑھتے ہی انھوں نے مغرب کے تصورِ انسان اور ایجنسی کے مفہوم کو خلط ملط کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ وہ عبدیت کو مبدا پر ہی ایجنسی سے محروم بتا چکے تھے اس لیے انھیں اپنی بات کہنے کے لیے کافی پاپڑ بیلنے پڑے۔ تصورِ انسان بھلے جو بھی بنا لیا جائے اس سے ایجنسی کو منفک نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایجنسی اور عبدیت کی بات چلا نہیں سکے اور انھیں بحث سے غیر متعلق تصور کو بروئے کار لانا پڑا اور مکالمہ جعل سازی کا شکار ہوگیا۔

ایسی باتیں کسی یونیورسٹی کے سیمینار میں چل جاتی ہیں، سنجیدہ علمی مکالمے میں ان کی گنجائش نہیں ہوتی۔ گزارش ہے کہ ایجنسی کافر و مسلم، جاہل و عالم، گورے اور کالے سے مشروط مسئلہ نہیں ہے۔ مثلاً عبدیت کا اقرار کرنے والا انسان تاریخ کے خاص حالات میں ایجنسی کا حامل بھی ہو سکتا ہے اور اس سے محروم بھی ہو سکتا ہے۔ عبدیت کے مبدا پر ایجنسی کو خارج تصور کرنا قطعی لغو بات ہے اور میرے موقف سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ فلسفیانہ اور علمی تصورات کو اگر رٹہ لگا لیا جائے تو ان کے جیسی تحریر وجود میں آتی ہے۔ اگر عقل کو بھی، بھلے وہ تنقیدی (critical) ہو یا تجزیاتی (analytical)، مکالمے میں شامل رکھا جائے تو ہی مکالمہ productive ہو سکتا ہے۔

از راہِ بندہ نوازی آنجناب فرماتے ہیں کہ "ہمارے بعض مقامی مفکرین لفظ "ایجنسی" کو اس طرح برتتے ہیں گویا یہ شعور کا آخری معیار ہو۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی بھی تبدیلی شعور اور ارادے کی ایجنسی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی"۔ اب جناب وحید مراد کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ میرے موقف اور اپنے فہم میں کوئی امتیاز باقی نہیں رکھ پاتے، اس لیے حوالۂ متن کے ساتھ گفتگو کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ عسر فہم کے ساتھ ہوا میں تیر چلانا مفت کی بیگار ہے۔ میں نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ "یہ [ایجنسی] شعور کا آخری معیار ہے"۔

ممدوح محترم سے گزارش ہے کہ قلتِ فہم کو ذلتِ علم نہیں بنانا چاہیے۔ میں نہیں سمجھ پایا کہ انھیں حوالۂ متن کے ساتھ مخاطب ہونے میں کیا مسئلہ ہے؟ اور اپنی فہم کی بجائے جس موقف کو رد کر رہے ہیں اس کو بیان کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ آنجناب "وہ دعویٰ کرتے ہیں" کے بعد جب "میں تاریخ میں، "فرماتے ہیں، تو میں جان نہیں پاتا کہ یہ "میں" ان کی ہے یا یہ "میں" میری ہے۔ ان کی تحریر پر ان کے مطالعے کا گہرا اثر معلوم ہوتا ہے، لیکن وہ متن کے جدید ابلاغی وسائل کو بروئے کار لانے پر رضامند نہیں ہیں۔ ان کی پرواز جاری تھی کہ اچانک انھیں تصوف بے موقع یاد آ جاتا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ "اس وقت ہمارے ہاں تصوف کے جو مظاہر ہیں اس میں سلوک کوئی ایجنسی نہیں رکھتا"۔ مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ ان کا عسر فہم ہے یا میرا موقف ہے اور بلاوجہ ایسی تحریر لکھنا اخلاقی طور پر بھی قابل گرفت ہے۔ میرا خیال ہے کہ جدید تصوف جس کثیر تعداد میں بایزید بسطامی، جنید بغدادی اور مابعدالطبیعیاتی مفکرین پیدا کر رہا ہے اس سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سلوک ایجنسی سے اچھا سلوک ہی کرتا ہوگا۔

جناب وحید مراد بہت نیک دل ہیں اور احوال ہمدردی سے معمور رہتے ہیں۔ جیسے پرانے زمانے میں سالکین کو جذب ہو جاتا تھا، اسی طرح ان کو وعظ ہو جاتا ہے۔ یہ ان کی ہمدردانہ طبیعت ہی کا ثمر ہے کہ ان کو اچانک "عام قاری" کے "ابہام" کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ عام قاری اور ابہام؟ اس ابہام کی مثال بھی انھوں نے خوب دی ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے پاکستانی منطقے میں پائے جانے والے عام قاری میں ابہام کی دریافت بین الاقوامی علوم میں بہت بڑی پیشرفت ہے۔ میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ عام قاری کو نسوار دینے کی ضرورت کیا ہے؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ "عام قاری" کو اپنا کام کرنے دیا جائے تاکہ جناب وحید مراد جیسے خاص صاحبِ علم اپنے فکری رٹے کا کام بے دغدغہ جاری رکھ سکیں۔

تھوڑا سا آگے چل کر آنجناب فرماتے ہیں کہ "یہ ایجنسی ontological ہے، یعنی وجود کی بنیاد خود انسان ہے"۔ اب جہاں علمی اور فلسفیانہ تصورات کی تفہیم کا یہ عالم ہو وہاں ان کی تنقید کا اسلوب کیا ہو سکتا ہے، میں اس سے باخبر نہیں ہوں۔ انھوں نے کہیں پڑھا ہوگا کہ کوئی "ایجنسی" ہوتی ہے، کچھ ontological ہوتا ہے، کوئی "وجود" ہوتا ہے اور کوئی "بنیاد" ہوتی ہے اور کوئی "انسان" بھی ہوتا ہے، یعنی کوئی اور کچھ ہوتا ہے۔ اب انھوں نے ان سب لفظوں کو ملا کر لکھ دیا۔ اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ممدوح محترم کی عقل اچانک ان کے نحوی شعور میں زیادہ فعال ہوگئی اور ان کے فلسفیانہ شعور کی بتی گل ہوگئی۔ میری ان سے گزارش ہے کہ نحوی شعور کے غلبے میں فکشن لکھنا زیادہ مفید ہوتا ہے اور ردِ مخاصم کا بے رس کام نہیں کرنا چاہیے۔ ابھی وہ نحوی شعور سے مغلوب الحال ہیں کہ اچانک ان کو یکے از "ہمارے مقامی مفکرین" یاد آ جاتا ہے اور وہ پوچھتے ہیں کہ "سوال یہ ہے کہ کیا یہی تصور اسلامی فکر میں بھی موجود ہے؟" میری تو گھگھی ہی بندھ جاتی ہے لیکن وہ خاص الطافِ ارسطاطالیسیہ سے خود ہی جواب عنایت فرماتے ہیں کہ "اسلام میں انسان "عبد" ہے اور عبدیت آزادی کی نفی نہیں بلکہ اس کی اخلاقی تنظیم ہے۔ " یہ "اخلاقی تنظیم" بھی خوب ہے۔ چلیے اخلاقی تنظیم ہی مان لیا تو کیا کوئی اخلاقی شے بغیر ایجنسی کے قابل تصور بھی ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ معجزۂ ہنر ان کے رٹو فلسفے میں واقع ہوگیا ہے۔ اس طرح کے فقرے تو نحوی شعور سے مغلوب الحال ہی لکھ سکتے ہیں، ہماری پرواز یہاں تک نہیں ہے۔

کام رچنا سے عاری بوڑھے کا کسی نوخیز سے شادی کرنا اور عقل کے بغیر فلسفہ کرنے کا نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: " "یہاں" فاعلیت ontological نہیں بلکہ ethical ہے"۔ "وہاں" یعنی اوپر تو ابھی ایجنسی ontological تھی اور "یہاں " فاعلیت ontological نہیں ہے۔ کوئی آدمی اپنے فلسفیانہ خیالات کا اظہار چھان پھٹک کے بعد ہی کرتا ہے اور اس کا نتیجہ اگر یہ ہے تو میں stillborn فکر کا جنازہ اس عمر میں کب تک اٹھا سکتا ہوں اور وہ بھی مکالمے کی آڑ میں؟ حیرت ہے۔ اہلِ سلوک فرماتے ہیں کہ کچھ مغلوب الحال لوگ سکر میں چلے جاتے ہیں اور "وہاں" ان کے "یہاں" ایجسنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے کہے کیے کے معاملے میں مرفوع القلم شمار ہوتے ہیں۔ وہ بچاری ontological کے ساتھ جو "یہاں" "وہاں" کر رہے ہیں اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ سیر انفس میں بہت دور نکل گئے ہیں جہاں آوازیں انھیں دِکھتی ہیں اور تصویریں سنائی پڑتی ہیں۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ کام اب فلسفے، سلوک اور تصوف سے اوپر نکل گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔

ممدوحِ محترم کے باقی ماندہ ارشادات کا جواب بھی "علیٰ ہذا القیاس" سمجھا جائے۔ اگر عام قاری "علیٰ ہذا القیاس" سے بدک جائے تو اس سے التماس ہے کہ وہ چار پانچ مزید پیراگراف ایضاً فرض کر لے۔

Check Also

Main Hamesha Dair Kar Deta Hoon

By Iqbal Bijar